وفاقی وزیر برائے نیشنل سیکورٹی اینڈ ریسرچ سکندر حیات بوسن کی ایران میں نیوزی لینڈ کے ہائی کمشنر ایمون اوشوانسی سے گفتگو

پاکستان چاول، کپاس، گندم، آم اور ترشاوہ پھلوں جیسی کئی زرعی مصنوعات برآمد کر رہا ہے،وفاقی وزیر برائے نیشنل سیکورٹی اینڈ ریسرچ سکندر حیات بوسن کی ایران میں نیوزی لینڈ کے ہائی کمشنر ایمون اوشوانسی سے گفتگو اسلام آباد ۔ 10 اکتوبر (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے نیشنل سیکورٹی اینڈ ریسرچ سکندر حیات بوسن نے کہا ہے کہ پاکستان چاول، کپاس، گندم، آم اور ترشاوہ پھلوں جیسی کئی زرعی …

پاکستان چاول، کپاس، گندم، آم اور ترشاوہ پھلوں جیسی کئی زرعی مصنوعات برآمد کر رہا ہے،وفاقی وزیر برائے نیشنل سیکورٹی اینڈ ریسرچ سکندر حیات بوسن کی ایران میں نیوزی لینڈ کے ہائی کمشنر ایمون اوشوانسی سے گفتگو

اسلام آباد ۔ 10 اکتوبر (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے نیشنل سیکورٹی اینڈ ریسرچ سکندر حیات بوسن نے کہا ہے کہ پاکستان چاول، کپاس، گندم، آم اور ترشاوہ پھلوں جیسی کئی زرعی مصنوعات برآمد کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ بات تہران میں نیوزی لینڈ کیلئے ہائی کمشنر ایمون اوشوانسی سے بات چیت کرتے ہوئے کہی جنہوں نے منگل کو وزارت نیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ میں سکندر حیات خان بوسن سے خیر سگالی ملاقات کی۔ اس موقع پر وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں زرعی شعبہ اور اس کے ذیلی شعبوں جیسے لائیو سٹاک اور ڈیری میں ترقی کے بہت زیادہ امکانات ہیں اور خصوصاً لائیو سٹاک اور ڈیری کے شعبہ میں پاکستان میں بڑی ترقی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم فصلوں میں تنوع لانے پانی کے موثر اور کارگر استعمال اور کسانوں کو بہتر روزگار کی فراہمی کیلئے نقد آور فصلوں پر بھرپور توجہ دے رہے ہیں۔ انہوں نے وفد کو بتایا کہ پاکستان دودھ پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ ہم نے دودھ کی پراسیسنگ میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے۔ پاکستان نے نیسلے اور انگرو وغیرہ جیسی کمپنیوں کے ذریعے یہ سرمایہ کاری کی ہے۔

مزید خبریں

Leave a Reply