کراچی۔ 27 فروری (اے پی پی) وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت شفقت محمود نے کہا ہے کہ میری خواہش ہے کہ پاکستان میں یکساں نظام تعلیم ہو، ہمیں تعلیمی میدان میںایسی کوشش کرنی چاہیے جس کا معاشرے کے ساتھ تعلق ہو، اردو یونیورسٹی کو درپیش مالی مسائل کا جائزہ لے رہے ہیں بہت جلد اس سلسلے میں اہم اقدامات کا اعلان کریں گے۔ جامعہ اردو کی جانب سے …
وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا اردویونیورسٹی کا دورہ، رجسٹرار کی خصوصی بریفنگ

مزید خبریں
کراچی۔ 27 فروری (اے پی پی) وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت شفقت محمود نے کہا ہے کہ میری خواہش ہے کہ پاکستان میں یکساں نظام تعلیم ہو، ہمیں تعلیمی میدان میںایسی کوشش کرنی چاہیے جس کا معاشرے کے ساتھ تعلق ہو، اردو یونیورسٹی کو درپیش مالی مسائل کا جائزہ لے رہے ہیں بہت جلد اس سلسلے میں اہم اقدامات کا اعلان کریں گے۔ جامعہ اردو کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے سائنس آرٹس و ٹیکنالوجی کے گلشن اقبال کیمپس کے ہنگامی دورے کے موقع پر اساتذہ اور انتظامیہ سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر نے یونیورسٹی کے اساتذہ کی تحقیقی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ جامعہ اردو قومی اثاثہ ہے اردو میں اعلیٰ تعلیم کا خواب اردو یونیورسٹی کی بدولت جلد شرمندہ تعبیر ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ اساتذہ کی اہم ذمہ داریوں میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ طلبہ کو اعلیٰ تعلیم سے آراستہ کریں اور انہیںہر ممکن سہولیات فراہم کریں تاکہ وہ دنیا بھر میں ملک کا نام روشن کریں۔ وفاقی جامعہ اردو کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر عارف زبیر نے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کو خوش آمدید کہا اور اس امید کا اظہار کیا کہ ان کی سرپرستی میں جامعہ اردو کے مسائل جلد حل ہوں گے۔ رجسٹرار ڈاکٹر ساجد جہانگیر نے وزیر تعلیم شفقت محمود کو جامعہ اردو کی تاریخ اور جامعہ کے درپیش مسائل کے بارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی جامعہ اردو ملک کی ایک بڑی سرکاری یونیورسٹی ہے، وفاق کے اس ادارے کی ترقی کے لئے ہم سب مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ یہ تیزی سے ترقی کی منازل طے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ اردو کے تینوں کیمپسز میں اس وقت ملک بھر سے تقریباً 15ہزارسے زائد طلباءوطالبات تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ وفاقی جامعہ اردو کے مختلف شعبہ جات کی جانب سے کئی کتابیںشائع کی گئی ہیں جبکہ جامعہ کا شعبہ تصنیف و تالیف بھی کتب کی اشاعت میں مصروف عمل ہے، نیز اہم ترین انگریزی کتب کا اردو میں تیزی سے ترجمہ کیا جارہا ہے۔ وفاقی جامعہ اردو میں مصنوعی ذہات(AI) میں Ph.D سطح تک تعلیم دی جارہی ہے، جامعہ میں سوشل سائنسز اور سائنس کی کتابوں کے آسان اردو زبان میں تراجم بھی کئے گئے ہیں، یہ کراچی کی دوسری بڑی سرکاری جامعہ ہے جہاں سائنس، آرٹس، فارمیسی اور بزنس ایڈمنسٹریشن کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اس کی اہم خوبی یہ ہے کہ یہاں سماجی علوم میں تحقیقی مقالات کی تحریر کے لئے اردو زبان کا بھی انتخاب کیا جاتا ہے اس کے لئے مختلف ترقیاتی پروجیکٹس پر کام شروع کیا جا چکا ہے جس میں شعبہ جات کو کمپیوٹرز، سائنسی آلات و کیمیکلز کی فراہمی وغیرہ شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی سے بچاو¿ کے لئے جامعہ میں گذشتہ آٹھ ماہ سے شجرکاری مہم بھی شروع کی گئی ہے جس میں اساتذہ اور غیر تدریسی ملازمین اور طلباءبڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے جامعہ کی مختلف فیکلٹیز،اساتذہ اور طلبہ کے مسائل کے بارے آگاہ کیا۔ اس موقع پرڈاکٹر افتخار احمد طاہری، سید طاہر علی، پروفیسر ڈاکٹر محمد زاہد، پروفیسر ڈاکٹر مسعود مشکور،پروفیسر ڈاکٹر طلعت محمود،پروفیسر ڈاکٹر رابعہ مدنی، ڈاکٹر محمد عابد،ڈاکٹر یاسمین سلطانہ،ٹریژارعاصم بخاری،ڈاکٹر مہہ جبین،ڈاکٹر کامران احسن، نجم العارفین، پروفیسر ڈاکٹر ممنون احمد خان،ڈاکٹر اصغر دشتی، ڈاکٹر فیصل جاوید، ڈاکٹر نزہت، ڈاکٹر کوثراور ڈاکٹر اختر رضابھی موجود تھے۔








