اسلام آباد ۔ 19 فروری (اے پی پی)وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت شفقت محمود نے کہا ہے کہ تعلیم میں انصاف ہونا چاہیے، یکساں نصاب تعلیم لانے کے لئے کوشاں ہیں، شرح خواندگی میں اضافہ کے لئے کام کر رہی ہیں، وفاقی دارالحکومت میں 11 ہزار سے زائد سکولوں سے باہر بچوں کے سکولوں میں داخلے کے لئے ایک پروگرام لانچ کر رہے ہیں۔ منگل کو وہ غیر …
وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت شفقت محمود کا تعلیمی جائزہ رپورٹ 2018ءکی تقریب رونمائی سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 19 فروری (اے پی پی)وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت شفقت محمود نے کہا ہے کہ تعلیم میں انصاف ہونا چاہیے، یکساں نصاب تعلیم لانے کے لئے کوشاں ہیں، شرح خواندگی میں اضافہ کے لئے کام کر رہی ہیں، وفاقی دارالحکومت میں 11 ہزار سے زائد سکولوں سے باہر بچوں کے سکولوں میں داخلے کے لئے ایک پروگرام لانچ کر رہے ہیں۔ منگل کو وہ غیر سرکاری تنظیم ‘اثر’ کی جانب سے تعلیمی جائزہ رپورٹ 2018ء کی تقریب رونمائی سے خطاب کر رہے تھے۔ سالانہ رپورٹ کی لانچنگ تقریب آڈیٹوریم پلاننگ کمیشن آف پاکستان، پاک سیکریٹریٹ میں منعقد ہوء جس کے مہمان خصوصی وفاقی وزیر برائے تعلیم شفقت محمود تھے۔ وفاقی وزیر شفقت محمود نے کہا کہ ہماری تعلیم کا حال اس رپورٹ میں نمایاں ہے، اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ حالات پہلے سے بہتر ہیں، تعلیم ہمارے لیے بہت بڑا چیلنج ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو اسکول میں لے جانا ہماری اولین ترجیح ہے، شرح خواندگی کو بہتر کرنا بھی ہمارے لیے چلینج ہے، شرح خواندگی کو بہتر بنانے کے لیے بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک پروگرام لانچ کر رہے ہیں تعلیم کے حوالے سے اسلام آباد میں 11000 سے زاید بچے اسکولوں سے باہر ہیں سب کو اسکول میں داخل کرانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچیوں کی تعلیم پر بھی ہماری توجہ ہے، ہم چاہتے ہیں بچوں کے ساتھ ساتھ بچیوں کو تعلیم میں آگے آئیں، ہم چاہتے ہیں ملک میں تعلیم کے نظام کو بہتر بنائے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم بالغان کے بارے میں بہت سوچ و بچار کی ضرورت ہے، ملک میں شرح خواندگی 58 فیصد بہت کم ہے، تعلیم کے نظام میں بہتری ہے مگر پھر بھی ایک بہت بڑا چیلنج درپیش ہے۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ سکولوں سے باہر ہر بچے کو سکول میں ہونا چاہیے، بہت سے والدین سمجھتے ہیں بچوں کو پڑھانے کا کوئی فائدہ نہیں، والدین کی اس سوچ کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، نصاب میں ہنر کو شامل کرنا بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا استعمال اپنی نوجوان نسل اور آنے والی نسلوں کو سیکھانا ہے، بچوں اور بچیوں کے درمیان تفریق کو ختم کرنا ہے ، ہمیں حساب لگانا کہ جو بچے اسکولوں سے باہر ہے اس کی کیا وجہ ہے، والدین کو احساس دلانا ہے کہ تعلیم ان کے بچوں کے لیے بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ہنر کی تعلیم بھی ساتھ بچوں کو دینی ہے، ہم بچوں کو نیا ہنر تعلیم کے ساتھ دینا چاہتے ہیں، تعلیم میں انصاف ہونا چاہیے ہم اسی لیے یکساں نصاب تعلیم لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دریں اثناء این جی او ‘اثر’ نے ادارہ تعلیم و آگاہی کے زیر انتظام، شراکت داروں کے تعاون سے اپنی آٹھویں سالانہ رپورٹ جاری کر دی ہے۔ شراکت داروں میں 27 کی سول سوسائٹی، پارٹنر باڈیز بشمول ڈی سی ایچ ڈی، سی آر ڈی او، سی ایم ڈی او اور دیگر شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق رضاکارانہ طور پر 11000 تربیت یافتہ افراد نے 154 اضلاع (بلوچستان اور گلگت بلتستان میں شامل کردہ اضلاع) کا دورہ کیا۔ ‘اثر’ سروے کے نتائج 4,527 گاؤں میں 89,966 خاندانوں اور 260،069 بچوں ( 3ـ16 سال) کی جمع کردہ معلومات پر مبنی ہے۔ سال 2018 کے اثر رورل سروے کے لئے 5 سے 16 سال کی عمر کے 196,253 بچوں کا اردو، سندھی اور پشتو زبان اور ریاضی کی صلاحیتوں کا جائزہ لیا۔ رپورٹ کا مقصد آئین پاکستان کے آرٹیکل 25 اے کے سلسلے میں ترقی اور مسلسل چیلنجز سے نمٹتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کرنا کہ اس نعرے "تعلیم بچوں کا بنیادی حق ہے،” کو عملی جامہ پہنانے کے ساتھ ساتھ سب کو یکساں معیاری تعلیم مہیا ہو۔ ‘اثر’ نے اپنی سروے رپورٹ میں دعوی کیا ہے کہ 2016 میں 19 فیصد سکول سے باہر بچوں کی شرح میں 2 فیصد کمی کے ساتھ 2018 میں سکول سے باہر بچوں کی شرح 17 فیصد رہ گئی ہے جبکہ تعلیم کے اندراج میں 37 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ سروے نے اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ گزشتہ رجحانات کے مطابق نجی اسکولوں میں داخل ہونے والے بچے، سرکاری اسکولوں میں داخل ہونے والے بچوں کے مقابلے میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں








