اسلام آباد ۔ 11 مارچ (اے پی پی) وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ ملک میں کارپوریٹ سیکٹر کو جدید بنانے کیلئے کوششیں جاری ہیں اور اس مقصد کیلئے کارپوریٹ قوانین میں بہتری لائی جا رہی ہے، کارپوریٹ گورننس کے معیارات میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے جس کا اعتراف ترقی یافتہ ممالک میں بھی کیا گیا ہے، کابینہ نے کثیرالجہتی پروکیورمنٹ ضابطوں میں تبدیلی کی منظوری …
وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کا پاکستان کے کارپوریٹ سیکٹرکے حوالہ سے عالمی بینک کی رپورٹ کے اجراء کی تقریب سے خطاب اورمیڈیا سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 11 مارچ (اے پی پی) وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ ملک میں کارپوریٹ سیکٹر کو جدید بنانے کیلئے کوششیں جاری ہیں اور اس مقصد کیلئے کارپوریٹ قوانین میں بہتری لائی جا رہی ہے، کارپوریٹ گورننس کے معیارات میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے جس کا اعتراف ترقی یافتہ ممالک میں بھی کیا گیا ہے، کابینہ نے کثیرالجہتی پروکیورمنٹ ضابطوں میں تبدیلی کی منظوری دیدی ہے، بھارت کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی کو چئیرشپ سے ہٹانے کا پاکستان کا مطالبہ درست اور قانونی ہے۔ انہوں نے یہ بات پیر کو یہاں عالمی بینک کی جانب سے پاکستان کے کارپوریٹ سیکٹر میں گورننس کے معیارات اور اصولوں پر عملدرآمد کے حوالہ سے رپورٹ کے اجراء کی تقریب سے خطاب اورمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ ورلڈ بینک کی جائزہ رپورٹ کے نتائج ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ ، کپیٹل مارکیٹ کے استحکام اور پبلک سیکٹر کمپنیوں میں بہتری لانے کیلئے حکومت کے اصلاحات کے پروگرام میں مددگار اور معاون ہو ں گے۔ ورلڈ بینک کی رپورٹ میں کمپنیوں میں اصلاحات کی ترجیح، شفافیت اور معلومات کی فراہمی، شراکت داروں کے حقوق، بورڈ آف ڈائریکٹرز اور پبلک سیکٹر کمپنیوں کا جائزہ شامل ہے۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں کارپوریٹ سیکٹر کو جدید بنانے کیلئے کوششیں جاری ہیں اوراس مقصد کیلئے کارپوریٹ قوانین میں بہتری لائی جا رہی ہے۔ وزیرخزانہ نے کہاکہ سکیورٹیزاینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان اورپاکستان سٹاک مارکیٹ سمیت ریگولیٹری اداروں کو ایسے اقدامات کو یقینی بنانا چاہئیے جس سے کمپنیوں کی پیداواریت اور اس کے نتیجے میں ملکی معیشیت میں بڑھوتری ممکن ہوسکے۔ وزیر خزانہ نے کہاکہ حکومت نے سرکاری شعبے کے اداروں کی کارگردگی میں بہتری لانے پرتوجہ مرکوزکررکھی ہے، کارپوریٹ سیکٹر کیلئے بنیادی آپریٹنگ کے طریقہ ہائے کار میں تبدیلی لانا ضروری ہے کیونکہ صرف اسی صورت میں ہم مطلوبہ اہداف حاصل کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نجی اداروں کے برعکس سرکاری اداروں میں خریداری کا عمل پیچیدہ ہوتا ہے، کابینہ نے کثیرالجہتی پروکیورمنٹ ضابطوں میں تبدیلی کی منظوری دیدی ہے۔ وفاقی وزیرنے کمپنیوں کو باضابطہ بنانے کی اہمیت کو بھی اجاگرکیا اورکہاکہ سرمایہ کاروں کو سہولیات کی فراہمی میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں ہونا چاہئے، ہم چاہتے ہیں کہ کارپوریٹائزیشن کی مد میں زیادہ سے زیادہ کمپنیوں کو لایا جائے اوران میں کئی لسٹڈ کمپنیاں بن سکتی ہیں۔لسٹڈ کمپنیاں کیپٹل مارکیٹ سے بھی استفادہ کرسکتی ہے۔ بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ بھارت کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی کوچئیرشپ سے ہٹانے کا پاکستان کا مطالبہ درست اورقانونی ہے۔انہوں نے کہاکہ بھارت کے سیاستدان پاکستان کے خلاف تقاریر کر رہے ہیں، بھارت کا پاکستان کے حوالہ سے نقطہ نظر جانبدارانہ ہے اسلئے پاکستان نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی کوچئیرشپ سے بھارت کو ہٹانے کامطالبہ کیا۔وزیرخزانہ نے کہاکہ عمومی طورپر فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ایک رپورٹ تیارکرتی ہے تاہم اس معاملے میں بھارت نے پاکستان کے خلاف علیحدہ سے رپورٹ تیارکرلی ہے۔ بھارت پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کرنا چاہتا ہے اوراس مقصد کے حصول کیلئے بھارت مختلف کمپنیوں کے ذریعے لابنگ بھی کررہاہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کے تحفظات قانونی ہیں کیونکہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس میں بھارت پاکستان کے خلاف لابنگ کر رہا ہے۔ ایک سوال پرانہوں نے کہاکہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ایک بین الاقوامی تنظیم ہے اوراس میں کسی کی پسند وناپسند کوئی معنی نہیں رکھتی۔ ایس ای سی پی کے چئیرمین فرخ سبز واری نے اپنے خطاب میں کہاکہ پاکستان کے کارپوریٹ سیکٹر میں گورننس کو بہتر بنانے کیلئے ریگولیٹری فریم ورک میں کافی بہتری لائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا ہے ورلڈ بینک اور بین الاقوامی کمیونٹی کی جانب سے پاکستان میں کارپوریٹ گورننس پر اطمینان، پاکستان میں کارپوریٹ گورننس کو بہتر بنانے اور کپیٹل مارکیٹ میں شفافیت لانے کے سلسلے میں ہمارے عزم کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹیز اینڈ ایکس چینج کمیشن پاکستان کے کارپوریٹ سیکٹر اور کپیٹل مارکیٹ کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالنے کے لئے پر عزم ہے اور اس سلسلے میں ورلڈ بنک کی رپورٹ اور سفارشات معاون ہوں گی۔ ایس ای سی پی کوڈ گورننس کے لئے اپنی کاوشوں اور اصلاحات کے پروگرام کو جاری رکھے گا۔ عالمی بنک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے پاکستان میں کارپوریٹ گورننس کو بہتر بنانے کے لئے ریگولیشنز میں بہتری کے کافی اقدامات کئے جس میں کمپنیز ایکٹ کا اجرائ، لسٹڈ کمپنیوں کے لئے کوڈ آف کارپوریٹ گورننس کے ریگولیشنز اور پبلک سیکٹر کمپنیوں کے رولز میں ترامیم اہم اقدامات ہیں۔ وزیرخزانہ نے کہاکہ پاکستان میں کمپنیوں کے شئیر ہولڈروں کے بنیادی حقوق محفوظ ہیں اور کمپنیز ایکٹ 2017 کے نافذ العمل ہونے کے بعد ان میں مزید بہتری آئی ہے، اسی طرح نئے قانون میں بورڈ آف ڈائریکٹر کے فرائض و ذمہ داریوں کا تعین بہتر طریق سے کر دیا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ اس وقت بھی کئی کمپنیوں کے بورڈ میں کاروبار کی ملکیت رکھنے والے خاندان اور سرکاری شعبے کیکمپنیوں میں حکومتی افسران کا غلبہ ہے جو کہ بورڈ کے شراکت داروں کے سامنے جوابدہ بنانے کو مشکل بناتا ہے تاہم لسٹڈ کمپنیز ریگولیشنز میں زیادہ تر عالمی معیارات کو شامل کر دیا گیا ہے۔ کارپوریٹ شعبے میں گورننس کے معیارات اور اصولوں پر عمل درآمد کے حوالہ سے عالمی بنک کی رپورٹ کا مقصد فنانشل گورننس کے معیارات کی تشکیل، ان کے فروغ اور گورننس کے اصولوں پر عمل درآمد میں اضافے کے ذریعے بین الاقوامی مالیاتی ساخت کو مستحکم کرنا اور مالیاتی استحکام پیدا کرنا ہے۔ رپورٹ میں کسی بھی ملک میں کارپوریٹ گورننس کے عالمی اصولوں پر عمل درآمد کا جائزہ لیا جاتا ہے اور مقامی صورت حال کو دیکھتے ہوئے Gـ20 کے اصولوں پر عمل درآمد کو حتی الاامکان بہتر بنانے کے لئے سفارشات دی جاتی ہیں۔ اپنی رپورٹ میں عالمی بینک نے پاکستان میں کارپوریٹ گورننس کے پالیسی فریم ورک کا جائزہ لیا ہے۔ رپورٹ میں کارپوریٹ گورننس کے ریگولیشنز میں حال ہی میں کی گئی ترامیم کا جائزہ لیا گیا ہے اورمزید بہتری کے لئے تجاویز دی گئیں ہیں۔ رپورٹ میں بڑی اور لسٹڈ کمپنیوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے لیکن سرکاری شعبے کی کمپنیوں کا الگ سے جائزہ بھی لیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ریگولیٹری فریم ورک میں بہتری کے نتیجے میں پاکستان میں لسٹڈ کمپنیوں میں کارپوریٹ گورننس کے معیار میں بہتری آئی ہے تاہم پبلک سیکٹر کمپنیوں میں کارپوریٹ گورننس کو مزید بہتر کرنے کی گنجائش ہے۔ رپورٹ کے مطابق کارپوریٹ گورننس کے کل 72 بین الاقوامی معیارات میں سے بیس اصولوں پر مکمل طور پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے جبکہ 33 اصولوں پر کافی حد تک جبکہ سولہ 16 اصولوں پر جزوی طور پر عمل درآمد کیا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کارپوریٹ گورننس کے تین اصول ایسے ہیں جن پر پاکستان میں عمل درآمد نہیں کیا جا رہا۔ ورلڈ بینک نے 2005ء میں بھی پاکستان میں کارپوریٹ گورننس کے اصولوں پر عمل درآمد کا جائزہ لیا تھا۔ سال 2005ء میں کارپوریٹ گورننس کے کل 32 اصولوں نافذ تھے جبکہ اس وقت پاکستان میں چار اصولوں پر مکمل طور پر، 17 اصولوں پر عمومی اور 10 اصولوں پر جزوی طور پر عملدرآمد کیا جا رہا تھا جبکہ ایک اصول ایسا تھا جس پر عملدرآمد نہیں کیا جاتا تھا۔ ورلڈ بینک کے مطابق 2005ء میں کارپوریٹ گورننس کے عالمی اصولوں پر عملدرآمد کی شرح 66 فیصد تھی جو کہ 2018ء میں بڑھ کر 77 فیصد ہو گئی ہے۔ ورلڈ بینک نے اطمینان کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان میں کارپوریٹ گورننس کے بین الاقوامی اصولوں پر عمومی طور پر عمل کیا جاتا ہے۔








