اسلام آباد ۔ یکم اپریل (اے پی پی) ۔ وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے لئے کافی پیشرفت ہو گئی ہے، دوطرفہ مالی انتظام کے تحت سعودی عرب سے 3 ارب، چین سے 2.1 ارب اور متحدہ عرب امارات سے 2 ارب ڈالر موصول ہو چکے ہیں، ادائیگیوں کے چیلنج کے باوجود موجودہ دور حکومت میں افراط زر کی شرح …
وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کی الیکٹرانک منی انسٹی ٹیوشنز ریگولیشنز کے اجراء کی تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ یکم اپریل (اے پی پی) ۔ وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے لئے کافی پیشرفت ہو گئی ہے، دوطرفہ مالی انتظام کے تحت سعودی عرب سے 3 ارب، چین سے 2.1 ارب اور متحدہ عرب امارات سے 2 ارب ڈالر موصول ہو چکے ہیں، ادائیگیوں کے چیلنج کے باوجود موجودہ دور حکومت میں افراط زر کی شرح سابقہ ادوار کی نسبت کم ہے۔ وہ پیر کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے الیکٹرانک منی انسٹی ٹیوشنز ریگولیشنز کے اجراء کی تقریب کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات پر کافی پیشرفت ہو گئی ہے، اب کوئی بنیادی اختلاف نہیں رہا، آئی ایم ایف کے موسم بہار کے اجلاس جاری ہیں جن کے بعد مشن کے دورے کی تاریخوں کا تعین ہوگا اور معاہدے کے حوالے سے بات چیت کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے سے براہ راست زیادہ بڑی رقم حاصل نہیں ہوگی البتہ اس معاہدے کے بعد دیگر مالیاتی اداروں اور انٹرنیشنل مارکیٹ سے مزید فنڈنگ کے حصول کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ وزیر خزانہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ مختلف ممالک کے ساتھ مالی انتظام کے لئے کئے گئے معاہدوں کے نتیجہ میں سعودی عرب سے تین ارب ڈالر کے مکمل فنڈز موصول ہو چکے ہیں۔ متحدہ عرب امارات سے 2 ارب جبکہ چین سے 2.1 ارب ڈالر وصول ہو چکے ہیں۔ صرف متحدہ عرب امارات سے تیسری قسط ابھی موصول ہونی ہے۔ ایف بی آر کی محصولات میں کمی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس کی مختلف وجوہات ہیں جن میں پہلی یہ ہے کہ جاری خسارے کو کم کرنے کے لئے درآمدات میں کمی لائی گئی ہے جس سے درآمدات کی مد میں حاصل ہونے والے محصولات میں بھی کمی آئی ہے۔ اسی طرح پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں عالمی منڈی کے مطابق ہونے والے اضافہ کا بوجھ عوام پر منتقل نہ کرنے کے لئے ان پر ٹیکس میں کمی کی گئی ہے۔ وزیر خزانہ نے پٹرول کی قیمت میں آئی ایم ایف کے مطالبہ پر اضافہ سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ یہ تاثر درست نہیں، حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 11 روپے کی بجائے 6 روپے اضافہ کیا ہے جو ٹیکس نہ بڑھانے کا نتیجہ ہے، اگر آئی ایم ایف کے مطالبہ پر پٹرول کی قیمت بڑھائی جاتی تو ٹیکس میں اضافہ کیا جاتا۔ ہم طویل المدتی حکمت عملی کے تحت اقدامات کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی ضرور ہے لیکن ملکی معیشت کو درپیش حالات کے پیش نظر اقدامات کے نتیجہ میں مہنگائی بڑھی ہے تاہم اس سے قبل بھی 2008ء اور 2013ء میں معاشی حالات کی وجہ سے مہنگائی بڑھ گئی تھی لیکن ادائیگیوں کے چیلنج کے باوجود ہمارے دور میں افراط زر کی شرح گزشتہ ادوار کے مقابلے میں کم ہے۔ روپے کی قدر کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں اسد عمر نے کہا کہ دسمبر 2017ء کے بعد اس وقت کے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے روپے کی قدر میں کمی کی حمایت کی تھی اور اس دور میں ڈالر کی قدر 105 روپے سے بڑھ کر 127 روپے ہو گئی تھی۔ اسٹیٹ بینک نے حالیہ دنوں میں روپے کی قدر کو مستحکم قراردیا ہے۔








