وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی ڈیووس میں کویتی ہم منصب سے ملاقات، دوطرفہ اقتصادی وسرمایہ کاری تعاون کے فروغ پر گفتگو

ڈیووس۔21جنوری (اے پی پی):پاکستان اورکویت نے دوطرفہ اقتصادی تعاون کے مجموعی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر اتفاق کیاہے۔وزارت خزانہ کی جانب سے بدھ کویہاں جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے سالانہ اجلاس کے موقع پر ریاست کویت کے وزیر خزانہ صبیح عبدالعزیز المخیزیم سے ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان کی معاشی صورتحال اور پاکستان اور …

ڈیووس۔21جنوری (اے پی پی):پاکستان اورکویت نے دوطرفہ اقتصادی تعاون کے مجموعی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر اتفاق کیاہے۔وزارت خزانہ کی جانب سے بدھ کویہاں جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے سالانہ اجلاس کے موقع پر ریاست کویت کے وزیر خزانہ صبیح عبدالعزیز المخیزیم سے ملاقات کی۔

ملاقات میں پاکستان کی معاشی صورتحال اور پاکستان اور کویت کے درمیان اقتصادی اور سرمایہ کاری تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر گفتگو ہوئی۔ کویت کے وزیر خزانہ نے پاکستان کی معاشی صلاحیت پر اعتماد کا اظہار کیا اور پاکستان اور اس کے عوام کے لیے کویت کی قدر و احترام کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ کویت روایتی منڈیوں سے ہٹ کر نئے سرمایہ کاری مواقع تلاش کر رہا ہے اور پاکستان کو ایک پرکشش ملک سمجھتا ہے جہاں افرادی قوت، بڑھتی ہوئی منڈی اور نئے مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے طویل المدتی اور شراکت داری پر مبنی سرمایہ کاری کے کویتی ماڈل پر بھی روشنی ڈالی۔

سینیٹر محمد اورنگزیب نے اپنے کویتی ہم منصب کو پاکستان کی بہتر ہوتی ہوئی معاشی صورتحال سے آگاہ کیا اور بتایا کہ معیشت استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے اور اہم معاشی اشاریوں میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی توجہ اب پائیدار اور جامع ترقی پر ہے تاکہ ماضی کی معاشی اتار چڑھائو سے بچا جا سکے۔ وزیر خزانہ نے بیرونی کھاتوں میں بہتری، ترسیلات زر میں اضافہ، آئی ٹی برآمدات میں نمو اور سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کو مثبت پیش رفت قرار دیا۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ ملک میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات میں نئی رفتار آئی ہے جن میں نجکاری کے اقدامات بھی شامل ہیں جنہیں مقامی سرمایہ کاروں کی جانب سے بھرپور دلچسپی حاصل ہو رہی ہے جو ملکی معیشت پر اعتماد کی عکاسی ہے۔

انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات و کان کنی، دواسازی اور ٹیکنالوجی جیسے اہم شعبوں میں مزید سرمایہ کاری کے مواقع سامنے آ رہے ہیں جو طویل المدتی شراکت داری کے لیے موزوں ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ اصلاحات پائیدار ترقی اور نجی شعبے کی موثر شمولیت کے لیے سازگار ماحول پیدا کر رہی ہیں۔ صبیح عبدالعزیز المخیزیم نے پاکستان کی معاشی سمت پر امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ترقی کے لیے درکار تمام بنیادی عناصر موجود ہیں جن میں تربیت یافتہ افرادی قوت اور بڑی منڈی شامل ہے۔

انہوں نے کویتی اداروں کے ذریعے پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے میں دلچسپی ظاہر کی اور طویل المدتی تعاون کے لیے سازگار فریم ورک کی اہمیت پر زور دیا۔ فریقین نے دوطرفہ اقتصادی تعاون کے مجموعی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے جاری کوششوں کو آگے بڑھانے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتے ہوئے دوطرفہ تعلقات کے پیش نظر مسلسل رابطہ اور تعاون ناگزیر ہے تاکہ ادارہ جاتی انتظامات وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ رہیں۔