ڈیووس ۔22جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے جمعرات کو ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ اجلاس کے موقع پر عرب جمہوریہ مصر کے وزیر خزانہ احمد کوچوک سے ملاقات کی۔ملاقات میں پاکستان اور مصر کے درمیان دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے، خیالات کے تبادلے اور جاری معاشی اصلاحات کے تناظر میں باہمی تجربات سے استفادہ کرنے پر گفتگو ہوئی۔ مصری وزیر خزانہ …
وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی مصری ہم منصب سے ملاقات، تعاون کے فروغ اور اصلاحاتی تجربات کے تبادلے پر اتفاق

مزید خبریں
ڈیووس ۔22جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے جمعرات کو ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ اجلاس کے موقع پر عرب جمہوریہ مصر کے وزیر خزانہ احمد کوچوک سے ملاقات کی۔ملاقات میں پاکستان اور مصر کے درمیان دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے، خیالات کے تبادلے اور جاری معاشی اصلاحات کے تناظر میں باہمی تجربات سے استفادہ کرنے پر گفتگو ہوئی۔
مصری وزیر خزانہ نے پاکستان میں جاری اصلاحاتی اقدامات خاص طور پر ٹیکس کے شعبے میں ہونے والی پیش رفت کو سراہا اور اصلاحات کی سمت پر اعتماد کا اظہار کیا۔ انہوں نے پاکستان کا دورہ کرنے میں دلچسپی ظاہر کی اور کہا کہ شراکت دار ممالک کے درمیان براہ راست رابطہ اور تجربات کا تبادلہ اصلاحاتی عمل کو موثر بنانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے پاس اصلاحات سے متعلق قیمتی تجربات موجود ہیں اور ان سے باہمی سیکھنے کے لیے مسلسل رابطہ اور مکالمہ ضروری ہے۔
فریقین نے رابطے میں رہنے، فوکل پرسنز مقرر کرنے اور آئندہ ملاقات کے لیے موزوں تاریخ طے کرنے پر اتفاق کیا۔سینیٹر محمد اورنگزیب نے مثبت خیالات کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اصلاحاتی عمل کو فعال طور پر آگے بڑھا رہا ہے جس میں ٹیکنالوجی کے استعمال سے نظم و نسق اور محصولات کے نظام کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ اصلاحاتی ایجنڈا چیلنجز سے بھرپور ہے تاہم پیش رفت مسلسل جاری ہے۔
وزیر خزانہ نے اپنے مصری ہم منصب کو عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ پاکستان کے جاری تعاون سے بھی آگاہ کیا اور بتایا کہ ملک اپنے موجودہ پروگرام کے وسط میں ہے اور مجموعی معاشی اشاریے مثبت سمت میں گامزن ہیں۔دونوں وزرائے خزانہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بالخصوص ٹیکس اصلاحات اور پالیسی پر عملدرآمد کے شعبوں میں تجربات کا تبادلہ پائیدار نتائج کے حصول کے لیے نہایت مفید ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنا بیرونی نسخوں پر انحصار سے زیادہ موثر ہے اور منظم مکالمے اور مسلسل رابطے کے ذریعے تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔








