وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی خالد حسین مگسی کی یونیسف کے اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات
وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی خالد حسین مگسی کی یونیسف کے اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات
اسلام آباد۔1مئی (اے پی پی):وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی خالد حسین مگسی نے یونیسف کے اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات کی۔ ملاقات میں ملک میں ماؤں اور بچوں کی صحت پر سیسےکے خطرناک اثرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ وفاقی وزیر خالد مگسی نے اس موقع پر کہا کہ سیسے کی آلودگی ایک سنگین عوامی صحت کا مسئلہ ہے، جس سے بالخصوص بچوں کی ذہنی و جسمانی نشوونما بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔
انہوں نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے مؤثر حکومتی حکمت عملی اور سخت ریگولیٹری اقدامات کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ اجلاس میں پی سی ایس آئی آر کراچی میں جدید لیڈ فری ٹیسٹنگ لیبارٹری کے قیام کی تجویز پر تفصیلی غور کیا گیا، تاکہ صنعتی اور صارف مصنوعات میں سیسے کی موجودگی کی مؤثر جانچ ممکن بنائی جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ لاہور، کوئٹہ اور پشاور میں اس لیبارٹری کے ذیلی مراکز قائم کرنے کی تجویز بھی زیر بحث آئی، تاکہ ملک بھر میں اس سہولت کی دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔
مزید برآں، پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کے تحت پینٹس، کاسمیٹکس اور خوراک میں سیسے کی حد سے متعلق قوانین کو مزید سخت بنانے پر بھی غور کیا گیا۔ اجلاس میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ صنعتی شعبے میں سیسے کے استعمال کی مؤثر نگرانی ناگزیر ہے تاکہ انسانی صحت کو لاحق خطرات کو کم کیا جا سکے۔
وفاقی وزیر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عوامی سطح پر آگاہی پیدا کیے بغیر اس مسئلے کا حل ممکن نہیں۔ اس مقصد کے لیے پاکستان سائنس فاؤنڈیشن ملک بھر میں سیسے کے نقصانات سے متعلق آگاہی سیمینارز اور مہمات کا آغاز کرے گی، تاکہ شہریوں کو اس خطرے سے بچاؤ کے طریقوں سے روشناس کرایا جا سکے۔
اجلاس کے اختتام پر وفاقی وزیر نے اس پیش رفت کو پاکستان کو سیسے سے پاک اور محفوظ مستقبل کی جانب ایک اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت، بین الاقوامی اداروں اور سائنسی تنظیموں کے باہمی تعاون سے اس چیلنج کا مؤثر حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔









