وفاقی وزیر سردار محمد یوسف کی قاہرہ میں مصرکے وزیر اوقاف سے ملاقات،باہمی تعاون کو مزید مستحکم کرنے پر اتفاق

قاہرہ /اسلام آباد۔20جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف نے مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں سپریم کونسل برائے اسلامک افیئرز کے زیر اہتمام منعقدہ 36 ویں بین الاقوامی کانفرنس کے موقع پر مصرکے وزیراوقاف ڈاکٹر اسامہ الازہری سے اہم ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران وفاقی وزیر سردار محمد یوسف نے ڈاکٹر اسامہ الازہری کو کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد دی۔ …

قاہرہ /اسلام آباد۔20جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف نے مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں سپریم کونسل برائے اسلامک افیئرز کے زیر اہتمام منعقدہ 36 ویں بین الاقوامی کانفرنس کے موقع پر مصرکے وزیراوقاف ڈاکٹر اسامہ الازہری سے اہم ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران وفاقی وزیر سردار محمد یوسف نے ڈاکٹر اسامہ الازہری کو کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد دی۔

انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور مصر کے دوطرفہ برادرانہ تعلقات تاریخی اہمیت کے حامل ہیں اور دونوں ممالک کی قیادت کی جانب سے ان تعلقات کو کثیرالجہتی اہمیت دینے کی خواہش انتہائی خوش آئند اور باعثِ تحسین ہے۔ ترجمان وزارت مذہبی امور کے مطابق سردار محمد یوسف نے کانفرنس کے دوران مصری صدر عزت مآب عبدالفتاح السیسی اور امام الاکبر شیخ احمد الطیب سے ہونے والی ملاقاتوں کو انتہائی مفید قرار دیا۔

انہوں نے مصری صدر، پاکستانی وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور چیف آف آرمی سٹاف ،فیلڈمارشل جنرل سید عاصم منیر کے مابین حالیہ رابطوں کا ذکر کرتے ہوئے پاکستان اور مصر کے درمیان مذہبی و روحانی شعبوں میں تعاون کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ وفاقی وزیر نے امام الاکبر شیخ الازہر اور وزیر اوقاف ڈاکٹر اسامہ الازہری کو پاکستان کے دورے کی باضابطہ دعوت دی۔

مصری وزیر اوقاف نے وفاقی وزیر کا کانفرنس میں شرکت پر شکریہ ادا کیا اور پہلی فرصت میں پاکستان کا دورہ کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ ڈاکٹر اسامہ الازہری نے پاکستان اور مصر کے درمیان مذہبی تعاون کے وسیع امکانات کو اجاگر کرتے ہوئے تمام وسائل بروئے کار لانے کی اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے خاص طور پر علاقائی اور عالمی چیلنجز کے تناظر میں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) اور اس سے درپیش مسائل کو مشترکہ کاوشوں سے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ امت مسلمہ عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو سکے۔