کراچی۔ 2 دسمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے بحری امور سید علی حیدر زیدی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کے لئے بڑا چیلنج وفاقی وزارت برائے بحری امور کے کام کو سندھ کے محکمہ فشریز کے ساتھ مربوط کرنا تھا تاکہ فشریز کی صنعت کو فروغ دینے کے ساتھ ٹونا مچھلی کا تحفظ بھی کیا جا سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مقامی ہوٹل میں بحر ہند …
وفاقی وزیر سید علی حیدر زیدی کا بحر ہند ٹونا کمیشن کی سائنسی کمیٹی کے22 ویں اجلاس سے خطاب

مزید خبریں
کراچی۔ 2 دسمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے بحری امور سید علی حیدر زیدی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کے لئے بڑا چیلنج وفاقی وزارت برائے بحری امور کے کام کو سندھ کے محکمہ فشریز کے ساتھ مربوط کرنا تھا تاکہ فشریز کی صنعت کو فروغ دینے کے ساتھ ٹونا مچھلی کا تحفظ بھی کیا جا سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مقامی ہوٹل میں بحر ہند ٹونا کمیشن کی سائنسی کمیٹی کے22 ویں اجلاس کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ چار روزہ بین الاقوامی کانفرنس میں انڈونیشیا، کینیا، ملائیشیا، سری لنکا، تھائی لینڈ، ہندوستان، یورپی یونین، ایران، مالدیپ، فرانس، تنزانیہ سمیت متعدد بین الاقوامی مندوبین شرکت کر رہے ہیں۔ وفاقی وزیر نے شرکاءکا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس پچھلے دس سالوں سے فشریز ڈویلپمنٹ کمشنر (ایف ڈی سی) نہیں ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماضی میں سمندری صنعت کے حوالے سے ہمارا رویہ غیر سنجیدہ تھا۔ علی زیدی نے وزارت برائے بحری امور کی ایف ڈی سی ڈاکٹر صفیہ مشتاق کی کاوشوں کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ گہرے سمندر اور ساحلی انتظامیہ کے شعبوں میں انسانی وسائل کا فقدان بھی ایک چیلنج ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان بحرالکاہل ٹونا کمیشن کا رکن ہے اور پاکستان ٹونا مچھلی کے تحفظ کے لئے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر ماہی گیری کی صنعت ریاستوں کی مجموعی معیشت کے لئے فائدہ مند رہی ہے لیکن اس صنعت میں پیچھے رہنے کی وجہ ہمارے انسانی وسائل کی عدم دستیابی اور سمندری معاملات کو سمجھنے کا فقدان ہے۔ علی زیدی نے کہا کہ ہم نے نہ صرف اپنے سمندر کو آلودہ کیا ہے بلکہ ساحلی پٹی بھی آلودہ ہوگئی ہے جس کی وجہ سے آبی حیات کو بھی مسائل درپیش ہیں۔ بحر ہند میں ٹونا مچھلی کی 16 قسمیں ہیں۔ پاکستان 1995 ءسے IOTC کا ممبر ہے اور اس کی پہلی کانفرنس پاکستان میں ہوئی تھی۔








