وفاقی وزیر سید عمران احمد شاہ کی زیر صدارت اعلی سطح کا اجلاس ،سیلاب متاثرہ علاقوں میں جاری امدادی سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ

اسلام آباد۔5ستمبر (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف کی خصوصی ہدایات پر وفاقی وزیر برائے تخفیفِ غربت و سماجی تحفظ سید عمران احمد شاہ نے جمعہ کو وزارت میں اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں وزارت کے ذیلی اداروں کی جانب سے سیلاب متاثرہ علاقوں میں جاری امدادی سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام، پاکستان بیت المال، پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ …

اسلام آباد۔5ستمبر (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف کی خصوصی ہدایات پر وفاقی وزیر برائے تخفیفِ غربت و سماجی تحفظ سید عمران احمد شاہ نے جمعہ کو وزارت میں اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں وزارت کے ذیلی اداروں کی جانب سے سیلاب متاثرہ علاقوں میں جاری امدادی سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام، پاکستان بیت المال، پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ اور ٹرسٹ فار والنٹری آرگنائزیشنز کے اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔اجلاس کے آغاز پر وفاقی وزیر نے زور دیا کہ سیلاب متاثرہ خاندانوں تک فوری، مربوط اور شفاف انداز میں امداد پہنچانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق وزارت اس بات کے لئے پرعزم ہے کہ کوئی بھی متاثرہ خاندان بے یار و مددگار نہ رہے۔اجلاس میں اداروں کی کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام نے خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے 31 تحصیلوں میں تقریباً ستر ہزار مستحقین کو امداد فراہم کی ہے۔ پاکستان بیت المال نے سیلانی اور اس طرح کی دوسری تنظیموں کے تعاون سے 14فوڈ ٹرکس کے ذریعے تقریباً بارہ ہزار سات سو فوڈ پیکیج تقسیم کئے اور اپنے ’’شاک تھراپی‘‘ پروگرام کے دائرہ کار کو بھی نمایاں کیا۔ پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ نے تقریباً پچیس ہزار جامع امدادی پیکیج فراہم کئے جن میں خوراک، غیر خوراکی اشیاء اور حفظانِ صحت کی کٹس شامل ہیں۔ ٹرسٹ فار والنٹری آرگنائزیشنز نے این ڈی ایم اے کے ساتھ مل کر ترجیحی علاقوں کی نشاندہی اور متاثرین کے لئے فنڈز کی دوبارہ فراہمی کا عمل شروع کر رکھا ہے۔

وفاقی وزیر نے تمام اداروں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ بدترین متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بحالی کے اقدامات کو مزید تیز کیا جائے اور خواتین، بچوں اور کمزور طبقات پر خصوصی توجہ دی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تمام رقوم اور امدادی اقدامات میں شفافیت، بروقت نگرانی اور جوابدہی کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوامی اعتماد اور اثر پذیری میں اضافہ ہو۔وفاقی وزیر نے اس موقع پر کہا کہ بی آئی ایس پی کا "پاورٹی مینز ٹیسٹ” عارضی طور پر معطل کر دیا جائے تاکہ متاثرین کو فوری امداد تک رسائی حاصل ہو۔ پاکستان بیت المال کو ہدایت کی گئی کہ تمام دستیاب گاڑیاں خوراک کی ترسیل کے لئے استعمال کی جائیں اور شیلٹر ہومز کو فوری طور پر متاثرین کے لئے فعال بنایا جائے۔ اسی طرح تمام ذیلی اداروں کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنی امدادی سرگرمیوں کی تفصیلی رپورٹس آج ہی سیکرٹری وزارت کو جمع کرائیں جبکہ قلیل مدتی ہنگامی امداد اور طویل مدتی بحالی کے منصوبے بھی بیک وقت ترتیب دیئے جائیں۔ مزید برآں ٹرسٹ فار والنٹری آرگنائزیشنز اور پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ کو اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر امدادی سرگرمیوں کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینے کی ہدایت کی گئی۔وفاقی وزیر نے اس موقع پر کہا کہ یہ غیر معمولی حالات ہیں جو غیر معمولی اقدامات کے متقاضی ہیں، ہماری اولین ترجیح متاثرہ خاندانوں کی جان، عزت اور روزگار کا تحفظ ہے۔ وزارت اور اس کے ادارے اس وقت تک سکون سے نہیں بیٹھیں گے جب تک جامع امداد اور بحالی کو یقینی نہ بنایا جائے۔اجلاس کا اختتام اس عزم کے ساتھ ہوا کہ وزارت صوبائی حکومتوں، ضلعی انتظامیہ اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گی تاکہ سیلاب سے متاثرہ کمیونٹیز کے لئے مربوط امدادی اور بحالی حکمتِ عملی کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔