اسلام آباد ۔ 8 دسمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر سیفران لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ نے کہا ہے کہ وزیراعظم محمد نوازشریف کی قائم کردہ فاٹا اصلاحات کمیٹی نے طویل مشاورتی عمل کے بعد سفارشات اور آراءکو حتمی شکل دیدی ہے جسے کابینہ کے آئندہ اجلاس میں پیش کر دیا جائے گا، آئی ڈی پیز کی بحالی، انفراسٹرکچر کی بحالی اور تعمیر نو سرفہرست ایجنڈا ہو گا، محب وطن …
وفاقی وزیر سیفران لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ کی پریس کانفرنس

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 8 دسمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر سیفران لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ نے کہا ہے کہ وزیراعظم محمد نوازشریف کی قائم کردہ فاٹا اصلاحات کمیٹی نے طویل مشاورتی عمل کے بعد سفارشات اور آراءکو حتمی شکل دیدی ہے جسے کابینہ کے آئندہ اجلاس میں پیش کر دیا جائے گا، آئی ڈی پیز کی بحالی، انفراسٹرکچر کی بحالی اور تعمیر نو سرفہرست ایجنڈا ہو گا، محب وطن قبائلی عوام کو ترقی کابھرپور موقع فراہم کیا جائے گا۔ کالے قوانین کا خاتمہ ہو گا اور رواج ایکٹ کے تحت قبائلی روایات، نظام عدل کو بھی تحفظ حاصل ہو گا۔ جمعرات کو یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ایک تاریخی موقع ہے جس سے فاٹا کے 70 سے 80 لاکھ آبادی کو پاکستان کے دیگر علاقوں کے مطابق نہ صرف حقوق میسر آئیں گے بلکہ ترقی کے مواقع حاصل کرنے کیلئے اپنی رائے اور ووٹ کے ذریعے اپنے نمائندے منتخب کرنے کا اختیار حاصل ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ 1965ءا ور 1971ءکی جنگ ہو یا آزاد کشمیر خطہ کے لوگوں کی مدد، دہشت گردی اور طالبان کیخلاف جنگ ہو یا کوئی بھی قومی مفاد کی بات فاٹا کے عوام کی قربانیاں قابل تحسین رہی ہیں لیکن اس کے صلہ میں انہیں وہی ایف سی آر کے کالے اور فرسودہ قوانین کے تحت چلایا جا رہا تھا۔ فاٹا کے اراکین اسمبلی و سینٹ کا انتخاب پولیٹیکل ایجنٹس اور ملکان کے ذریعے ہوتا رہاہے۔








