اسلام آباد ۔ 21 اگست (اے پی پی) وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے کہا ہے کہ انتخابی قانون 2017ءپر تمام جماعتوں کے درمیان 93 اجلاسوں تک اتفاق رائے تھا‘ اس نئے قانون کا مقصد الیکشن کمیشن کو زیادہ سے زیادہ بااختیار بنانا اور صاف شفاف انتخابات کا انعقاد یقینی بنانا ہے‘ اس نئے قانون میں الیکشن کمیشن کو انتظامی اور مالی خودمختاری دینے‘ خواتین کو عمومی نشستوں پر پانچ …
وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کا قومی اسمبلی میں انتخابی قانون بل 2017ءپر بحث سمیٹتے ہوئے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 21 اگست (اے پی پی) وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے کہا ہے کہ انتخابی قانون 2017ءپر تمام جماعتوں کے درمیان 93 اجلاسوں تک اتفاق رائے تھا‘ اس نئے قانون کا مقصد الیکشن کمیشن کو زیادہ سے زیادہ بااختیار بنانا اور صاف شفاف انتخابات کا انعقاد یقینی بنانا ہے‘ اس نئے قانون میں الیکشن کمیشن کو انتظامی اور مالی خودمختاری دینے‘ خواتین کو عمومی نشستوں پر پانچ فیصد ٹکٹ دینے‘ نئی حلقہ بندیوں کے لئے ایک حلقے کے ووٹوں کی تعداد دوسرے حلقے سے دس فیصد سے زائد نہ کرنے‘ ایک پولنگ سٹیشن سے دوسرے پولنگ سٹیشن کا فاصلہ ایک کلو میٹر تک رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے‘ آئین کے آرٹیکل 62,63 ‘ نگران حکومتوں کی تشکیل اور سینٹ کے براہ راست انتخابات سمیت بعض دیگر نکات پر کمیٹی میں اتفاق رائے نہیں ہو سکا تھا‘ انتخابی بل 2017ءپر موصول ہونے والی 105 ترامیم میں سے 44 شامل کرلی گئی ہیں۔ پیر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں انتخابی قانون بل 2017ءپر بحث سمیٹتے ہوئے وزیر قانون زاہد حامد نے تمام ارکان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ تعمیری تنقید کا خیر مقدم کرتا ہوں‘ یہ ایک تاریخی نجی بل ہے کیونکہ 40 سال پر انتخابی اصلاحات پر مبنی جامع بل پیش کیا ہے‘ 8 قوانین کو مدغم کیا گیا ہے اس کے ساتھ قواعد بھی تبدیل کئے گئے۔ نہ صرف 15 ابواب پر مبنی بل بلکہ قواعد بھی بنائے گئے ہیں۔








