اسلام آباد۔12جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ سے یونیورسٹی آف لندن کے پرو وائس چانسلر (تعلیم) پروفیسر فلپ آل مینڈنگر کی قیادت میں ایک وفد نے ملاقات کی جس میں قانونی تعلیم کے شعبے میں باہمی تعاون کو فروغ دینے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔وزارت قانون و انصاف کے ترجمان کے مطابق ملاقات میں یونیورسٹی آف لندن کے علاقائی مشیر سعد وسیم اور …
وفاقی وزیر قانون سے یونیورسٹی آف لندن کے وفد کی ملاقات، قانونی تعلیم میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

مزید خبریں
اسلام آباد۔12جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ سے یونیورسٹی آف لندن کے پرو وائس چانسلر (تعلیم) پروفیسر فلپ آل مینڈنگر کی قیادت میں ایک وفد نے ملاقات کی جس میں قانونی تعلیم کے شعبے میں باہمی تعاون کو فروغ دینے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔وزارت قانون و انصاف کے ترجمان کے مطابق ملاقات میں یونیورسٹی آف لندن کے علاقائی مشیر سعد وسیم اور ڈائریکٹوریٹ آف لیگل ایجوکیشن کے ڈائریکٹر بیرسٹر اسامہ ملک بھی شریک تھے۔ گفتگو کا محور بین الاقوامی تعلیمی اداروں اور مقامی یونیورسٹیوں کے درمیان مشترکہ اور شراکت داری پر مبنی تعلیمی پروگراموں کے ذریعے تعاون کو مضبوط بنانا تھا۔
وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے اس موقع پر کہا کہ ایسے تعلیمی اشتراک سے نہ صرف قانونی تعلیم کے معیار میں بہتری آئے گی بلکہ پائیدار آمدنی کے مواقع پیدا ہوں گے اور طلبہ کو عالمی سطح پر تسلیم شدہ ڈگریوں تک بہتر رسائی حاصل ہو گی۔ انہوں نے کیمپس میں تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ فاصلاتی تعلیم کے امتزاج کو ناگزیر قرار دیا تاکہ طلبہ مقامی قانونی فریم ورک کے اندر مؤثر طور پر پریکٹس کے قابل ہو سکیں۔
بیرسٹر اسامہ ملک نے وزیر قانون کو آگاہ کیا کہ ڈائریکٹوریٹ آف لیگل ایجوکیشن کی مشاورت سے پاکستانی لاء ماڈیول کو یونیورسٹی آف لندن کے ایل ایل بی (آنرز) کے نصاب میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے، جس کے پاکستان میں یونیورسٹی آف لندن کے قانون گریجویٹس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر دور رس مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
ملاقات میں فیکلٹی ڈویلپمنٹ اور صلاحیت سازی، فیکلٹی ایکسچینج اور تربیتی پروگرامز سمیت دیگر امور پر بھی گفتگو ہوئی۔ پروفیسر فلپ آل مینڈنگر نے تعمیری بات چیت پر شکریہ ادا کیا، جبکہ وفاقی وزیر قانون نے بامعنی اور طویل المدتی تعلیمی شراکت داری کے فروغ کے لیے پاکستان کی بھرپور حمایت اور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔








