وفاقی وزیر قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی سے عرب لیگ کی تعلیمی، ثقافتی اور سائنسی تنظیم کے اعلیٰ سطحی وفد کی ملاقات، پاکستان اور الیکسو کے درمیان موسیقی، ڈرامہ، فنون لطیفہ اور رقص کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی سے عرب لیگ کی تعلیمی، ثقافتی اور سائنسی تنظیم (ALECSO) کے اعلیٰ سطحی وفد نے تنظیم کے ڈائریکٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد ولد عمار (موریتانیہ) کی قیادت میں منگل کو ان کے دفتر میں ملاقات کی

اسلام آباد۔13اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی سے عرب لیگ کی تعلیمی، ثقافتی اور سائنسی تنظیم (ALECSO) کے اعلیٰ سطحی وفد نے تنظیم کے ڈائریکٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد ولد عمار (موریتانیہ) کی قیادت میں منگل کو ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان اور عرب دنیا کے درمیان ثقافتی تعاون کو فروغ دینے کے مختلف امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وفد میں پروفیسر ڈاکٹر محمد سند صبح درویش، ڈائریکٹر شعبہ سائنس و سائنسی تحقیق (اردن)، پروفیسر ڈاکٹر محمد جمنی، ڈائریکٹر شعبہ اطلاعات و ابلاغ (تیونس) اور مراد محمودی، سیکرٹری ایگزیکٹو کونسل و جنرل کانفرنس (الجزائر)، محمد مرتضیٰ نور، انٹر یونیورسٹی کنسورشیم برائے فروغ سماجی علوم پاکستان (IUCPSS) بھی شامل تھے۔اس موقع پر سیکرٹری قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اسد رحمان گیلانی بھی موجود تھے۔ملاقات کے دوران دونوں جانب سے باہمی تعاون کے ممکنہ شعبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا اور ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے اور عوامی سطح پر روابط مضبوط بنانے کے لیے موسیقی، ڈرامہ، فنون لطیفہ اور رقص کے شعبوں میں مشترکہ اقدامات تلاش کرنے پر اتفاق کیا گیا۔وفد کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر محمد ولد عمار نے وفاقی وزیر کو الیکسو کے اغراض و مقاصد، دائرہ کار اور جاری پروگراموں کے بارے میں آگاہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ تنظیم کے 22 رکن ممالک ہیں اور پاکستان کے ساتھ ثقافتی روابط اور تعاون کو وسعت دینے میں گہری دلچسپی رکھتی ہے۔انہوں نے رکن ممالک میں الیکسو کے تحت جاری مختلف ثقافتی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے پاکستانی اور عرب ثقافتوں میں پائی جانے والی مماثلتوں کو اجاگر کیا اور ثقافتی شعبے میں بامعنی تعاون کے وسیع امکانات پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کے ساتھ ثقافتی شعبے میں تعاون کے لیے پرعزم ہیں اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داریوں کے قیام میں تنظیم کی دلچسپی کا اظہار کیا۔وفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچی نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان اور الیکسو کے درمیان ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ دونوں فریقوں کے درمیان یہ پہلی ملاقات ہے، تاہم پاکستان تعاون کے لیے ایک منظم طریقہ کار وضع کرنے کا خواہاں ہے۔ اس سلسلے میں یونیسکو کے ساتھ تعاون کی طرز پر مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کرنے کے امکان پر بھی غور کیا جا سکتا ہے تاکہ ثقافتی ورثے کے تحفظ، فروغ اور نگہداشت کے لیے مشترکہ کوششیں کی جا سکیں۔اورنگزیب خان کھچی نے وفد کو محکمہ آثار قدیمہ و عجائب گھر (DOAM) کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی تاکہ وفد پاکستان کے تقریباً پانچ ہزار سال قدیم گندھارا ورثے سے آگاہ ہو سکے۔

انہوں نے اس تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے حکومتی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے پاکستان کی ثقافتی دولت کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کی اہمیت بھی اجاگر کی۔سیکرٹری قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اسد رحمان گیلانی نے وفد کو ڈویژن کے دائرہ کار، اس کے ماتحت اداروں اور پاکستان کے ثقافتی ورثے کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے بارے میں بریفنگ دی۔ انہوں نے دونوں فریقوں کے درمیان مشترکہ دلچسپی کے شعبوں اور عملی تعاون کے امکانات پر بھی روشنی ڈالی۔سیکرٹری نے کہا کہ مجوزہ تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے مفاہمت کی یادداشت کا مسودہ تیار کرکے متعلقہ حکام کے ساتھ غور و خوض کے لیے شیئر کیا جائے گا۔ انہوں نے الیکسو کے زیر اہتمام ثقافتی تقریبات میں پاکستان کے ثقافتی وفد کی شرکت کی تجویز بھی پیش کی جس سے پاکستان کی متنوع فنون لطیفہ اور ثقافتی روایات کو اجاگر کرنے کا موقع ملے گا۔الیکسو کے وفد نے پاکستان کے کسی ثقافتی ادارے میں ایک مخصوص ثقافتی گوشہ قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی جہاں جلد منعقد ہونے والی نمائش کے ذریعے ثقافتی ورثے اور فنونِ لطیفہ کو پیش کیا جا سکے۔ اس اقدام کا مقصد ثقافتی روابط کو مزید مستحکم کرنا اور دونوں جانب کے ثقافتی اظہار کو متعارف کرانے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔

قبل ازیں وفد نے قومی ادارہ برائے لوک و روایتی ورثہ (لوک ورثہ) کا دورہ کیا جہاں وفد کے ارکان نے پاکستان کے بھرپور ثقافتی ورثے اور روایتی فنون کے تحفظ، دستاویز بندی اور فروغ کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا۔ملاقات میں ثقافتی تعاون کے عملی امکانات تلاش کرنے، فنون لطیفہ کے تبادلوں کو فروغ دینے اور پاکستان و الیکسو کے درمیان ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا گیا۔