وفاقی وزیر ریلوے کی زیر صدارت پاکستان ریلوے میں ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں سیکرٹری ریلوے، سی ای او ریلوے اور آئی ٹی ٹیم نے شرکت کی۔
وفاقی وزیر محمد حنیف عباسی کا پاکستان ریلوے کو مکمل طور پر ڈیجیٹل ادارہ بنانے کا عزم، تمام جاری و مجوزہ منصوبوں کی بروقت تکمیل اور ڈیجیٹل خدمات کو مزید تیز رفتار اور عوام دوست بنانے کا فیصلہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔2جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر ریلوے کی زیر صدارت پاکستان ریلوے میں ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں سیکرٹری ریلوے، سی ای او ریلوے اور آئی ٹی ٹیم نے شرکت کی۔اجلاس میں پاکستان ریلوے کو جدید اور محفوظ بنانے کے لیے تمام جاری اور مجوزہ ڈیجیٹل منصوبوں کو وقت پر مکمل کرنے، عوام کی سہولت کے لیے تمام ڈیجیٹل خدمات کو مزید مؤثر و تیز رفتار بنانے اور راولپنڈی کی طرز پر دیگر بڑے اسٹیشنز پر بھی جلد ‘اسمارٹ اینڈ سیف ریلوے اسٹیشنز’ قائم کرنے کے اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس کے دوران پاکستان ریلوے کی ڈیجیٹلائزیشن سے متعلق جاری منصوبوں اور آئندہ سال کے اہداف کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے وژن کے مطابق پاکستان ریلوے اپنی 78 سالہ تاریخ کی ریکارڈ ڈیجیٹلائزیشن کر رہا ہے اور ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے میدان میں سب سے آگے ہے۔
اجلاس میں مسافروں کو فراہم کی جانے والی جدید سہولیات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس میں بتایا گیا کہ رابطہ ایپ پر اس وقت 100 سے زائد ٹرینیں دستیاب ہیں اور اب تک ریلوے کے 60 بڑے اسٹیشنز کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ مسافروں کی فوری معاونت کے لیے ریلوے ہیلپ لائن 117 کو 24 گھنٹے اور ہفتے کے ساتوں دن کے لیے فعال کر دیا گیا ہے، جہاں تربیت یافتہ آئی ٹی ایجنٹس ہر وقت خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بڑے ریلوے اسٹیشنز پر مفت وائی فائی کی سہولت فراہم کی جا چکی ہے، جس سے اب تک ریلوے کے ذریعے سفر کرنے والے تقریباً 70 فیصد مسافروں کی آمدورفت کا احاطہ کیا جا رہا ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ راولپنڈی میں ‘اسمارٹ اینڈ سیف ریلوے اسٹیشن’ کا کامیابی سے افتتاح کیا جا چکا ہے اور اب کیے گئے فیصلے کے تحت دیگر بڑے اسٹیشنز پر بھی جلد اس کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔حکام نے اجلاس کو مال برداری اور انتظامی امور کی ڈیجیٹلائزیشن کے حوالے سے بھی آگاہ کیا۔ بریفنگ کے دوران فریٹ مینجمنٹ سسٹم، رولنگ اسٹاک ٹریکنگ، ڈیجیٹل ویٹ برجز، ای انسپیکشن رجیم اور جدید اٹینڈنس مینجمنٹ سسٹم کے نفاذ پر اب تک ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ وفاقی وزیر ریلوے نے ان تمام ڈیجیٹل خدمات کو مزید مؤثر، تیز رفتار اور عوام دوست بنانے کی خصوصی ہدایت جاری کیں۔اجلاس کے دوران آئندہ مالی سال کے دوران شروع کیے جانے والے متعدد بڑے ڈیجیٹل منصوبوں پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔
ان منصوبوں میں 1700 کلومیٹر طویل فائبر آپٹک بیسڈ ٹرانسمیشن نیٹ ورک کا قیام اور ایک مکمل ‘فریٹ ڈیجیٹلائزیشن ایکو سسٹم’ کی تشکیل شامل ہے۔ اس کے ساتھ ہی، جی پی ایس بیسڈ ٹریکنگ سسٹم کے ذریعے مسافروں کو جدید ترین سفری سہولیات فراہم کرنے اور جدید سگنلنگ سسٹم کے نفاذ کے ذریعے ٹرین آپریشنز، حفاظت اور محکمے کی کارکردگی میں مزید بہتری لانے کے منصوبے بھی زیرِ غور آئے۔ اجلاس کے اختتام پر وفاقی وزیر ریلوے نے تمام جاری اور مجوزہ منصوبوں کی بروقت تکمیل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ریلوے کو ایک جدید، محفوظ اور مکمل طور پر ڈیجیٹل ادارہ بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔







