وفاقی وزیر مخدوم خسرو بختیارکی چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ ہارون شریف سے گفتگو

اسلام آباد ۔ 29 جنوری (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور اصلاحات مخدوم خسرو بختیار نے کہا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت صنعتی ترقی کو تیز کرنے کےلئے تمام کوششیں کی جا رہی ہیں تاکہ ملک میں بڑے پیمانے پر بیرونی سرمایہ کاری لائی جا سکے۔ ان خیالاات کا اظہار انہوں نے چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ ہارون شریف سے ملاقات کے دوران کیا۔ …

اسلام آباد ۔ 29 جنوری (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور اصلاحات مخدوم خسرو بختیار نے کہا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت صنعتی ترقی کو تیز کرنے کےلئے تمام کوششیں کی جا رہی ہیں تاکہ ملک میں بڑے پیمانے پر بیرونی سرمایہ کاری لائی جا سکے۔ ان خیالاات کا اظہار انہوں نے چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ ہارون شریف سے ملاقات کے دوران کیا۔ ملاقات میں سیکرٹری پلاننگ ظفر حسن اور پراجیکٹ ڈائریکٹر سی پیک حسان داﺅد نے بھی شرکت کی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ماضی میں قیمتی وقت ضائع کیا گیا جس سے اس شعبہ کی ترقی ممکن نہ ہو سکی لیکن ماضی کے برعکس وزیراعظم کے وژن کے مطابق سی پیک کے مختصر و وسط مدتی اہداف مقرر کر دیئے گئے ہیں جس میں صنعتی ترقی ایک اہم ہدف ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں زیادہ سے زیادہ غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری لانے کیلئے صنعتی تعاون کے روڈ میپ کو حتمی شکل دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ خطہ کے دیگر ممالک کے خصوصی اقتصادی زونز کے ترقیاتی ماڈلوں کا مطالعہ کیا جائے، تین ماہ کے اندر اندر ایک پرکشش پیکیج کے علاوہ تمام تر پالیسی سازی کا عمل مکمل بنایا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ کہ بڑے چینی برانڈز کو پاکستان میں مواقع تلاش کرنے کیلئے متوجہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ملک کے اندر زراعت، سٹیل، ٹیکسٹائل اور لائٹ مینو فکچرنگ سیکٹرز میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری ممکن بنائی جا سکے۔ مخدوم خسرو بختیار نے صنعت کاری کے عمل کو تیز کرنے میں صوبوں کی کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے ہدایت کہ صوبائی اداروں کے ساتھ مل کر اس موقع سے بھر پور استفادہ کیا جائے۔ انہوں نے بی او آئی کو چینی صنعتوں کو یہاں منتقل کرنے اور دیگر ضروری معاملات کو حتمی شکل دینے کیلئے جلد تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورتی اجلاس بلانے کی بھی ہدایت کی۔ اجلاس کے دوران یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ سی پیک کے تحت جائنٹ وینچرز کو فروغ دیا جائے گا اور اس ضمن میں نجی سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی تاکہ ان صنعتوں کا قیام ممکن بنایا جا سکے جو درآمدات کی متبادل فراہم کر سکے یا برآمدات کو فروغ دینے میں معاون ہو۔

مزید خبریں