اسلام آباد ۔ 5 اپریل (اے پی پی) وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف کی زیر صدارت قومی کمیشن برائے اقلیت کا چھٹا اجلاس جمعرات کو وزارت مذہبی امور میں ہوا۔ اجلاس میں گذشتہ اجلاس کی سفارشات پر متعلقہ اداروں سے عملدرآمد رپورٹس کا جائزہ لیا گیا ۔.وزارت داخلہ کی طرف سے بتایا گیا کہ اب تک نفرت انگیز مواد اور تقاریر کے خلاف 14 کیسز درج ہوئے ہیں …
وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف کی زیر صدارت قومی کمیشن برائے اقلیت کا چھٹا اجلاس

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 5 اپریل (اے پی پی) وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف کی زیر صدارت قومی کمیشن برائے اقلیت کا چھٹا اجلاس جمعرات کو وزارت مذہبی امور میں ہوا۔ اجلاس میں گذشتہ اجلاس کی سفارشات پر متعلقہ اداروں سے عملدرآمد رپورٹس کا جائزہ لیا گیا ۔.وزارت داخلہ کی طرف سے بتایا گیا کہ اب تک نفرت انگیز مواد اور تقاریر کے خلاف 14 کیسز درج ہوئے ہیں اور لاو¿ڈ سپیکر کے غلط استعمال پر 82 کیسز رجسٹر ہوئے تمام شرکاءنے اس بات پر اتفاق کیا کہ بین المذاہب ہم آہنگی کیلئے ڈائیلاگ سینٹر کے قیام کے حوالے سے کوششیں تیز کی جائیں گی اور غیر مسلم بچوں کو وظائف اور تکنیکی علوم کے اجراءپر تجاویز طلب کی جائیں گی۔. کمیشن کو رپورٹ پیش کی گئی کہ اقلیتوں کو ملازمت کے 5 فیصد کوٹہ پر عمل درآمد ہو رہا ہے قومی کمیشن اسبات پر بھی اتفاق کیا کہ پارسی شادی و طلاق بل 2015 کا ترمیمی بل وزارتِ قانون کو بھیجا جائے گا ۔. اجلاس میں مجوزہ قومی کمیشن برائے بین المذاہب ہم آہنگی بل پر مختلف اداروں کی تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔ اجلاس میں اقلیتی رکن قومی اسمبلی آسیہ ناصر، بشپ آف لاہور عرفان جمیل پروفیسر مہر داد یوسف ، علامہ محمد اصغر خان عسکری سمیت وزارت داخلہ، وزارت قانون، وزارت کیڈ ، اسلامی نظریاتی کونسل اور وزارت مذہبی امور کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔..








