اسلام آباد ۔ 12 دسمبر (اے پی پی)وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے ہم چوتھے صنعتی انقلاب کے دہانے پر کھڑے ہیں، ہمیں خود کو دنیا کی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، مصنوعی ذہانت، بائیو ٹیکنالوجی، ربوٹکس، آٹو میشن اور بگ ڈیٹا سے ہم آہنگ کرنا ہو گا، ایشیاءمعاشی ترقی کا براعظم بنتا جا رہا ہے جس کا 2050ءتک دنیا کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں 50 …
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کا اقتصادی تعاون تنظیم کی ریجنل پلاننگ کونسل کے 28 ویں اجلاس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 12 دسمبر (اے پی پی)وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے ہم چوتھے صنعتی انقلاب کے دہانے پر کھڑے ہیں، ہمیں خود کو دنیا کی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، مصنوعی ذہانت، بائیو ٹیکنالوجی، ربوٹکس، آٹو میشن اور بگ ڈیٹا سے ہم آہنگ کرنا ہو گا، ایشیاءمعاشی ترقی کا براعظم بنتا جا رہا ہے جس کا 2050ءتک دنیا کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں 50 فیصد حصہ ہو گا، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے مشترکہ کاوشوں کی ضرورت ہے۔ ان خےالات کا اظہار انہوں نے منگل کو اقتصادی تعاون تنظیم کی ریجنل پلاننگ کونسل کے 28 ویں اجلاس کے اختتامی دن کے موقع پر کہی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ای سی او کے خطہ میں ترقی کیلئے رابطے بڑھانے، تجارت کے فروغ اور قریبی تعاون پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنے عوام کو عصر حاضر کی ٹیکنالوجیز اور ایجادات کے چیلنج سے عہدہ برآ ہونے کیلئے تیار کرنے کےلئے روابط کو فعال بنانا اور کام کرنا ہوگا، سیاست، معیشت،سلامتی اور ماحولیاتی شعبوں میں چیلنجز سے نمٹنے کے لئے علاقائی اور عالمی تعاون کی ضرورت ہے۔ انہوں نے وژن 2025ءکا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ای سی او فورم نہ صرف مزید کامیاب ہو سکتا ہے بلکہ رکن ممالک نے جو اہداف مقرر کئے ہیں ان کے حصول میں بھی مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ خطہ ثقافتی ورثہ سے مالا مال ہے جس سے سیاحتی راہیں بھی کھلتی ہیں جو پوری دنیا کیلئے بھی کشش کا باعث ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن اور پائیدار دنیا کیلئے بہترین روابط کاری ضروری ہے تاکہ عام شہریوں کی صحت، تعلیم، خوراک اور سکیورٹی تک رسائی ممکن ہو سکے۔








