اسلام آباد۔29دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے پیر کو بجلی اور ہائیڈل انرجی کے شعبوں میں اہم پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے منصوبوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی جس میں پاور ڈویژن کو ہدایت کی گئی کہ اہم ترین منصوبوں کو ترجیح دی جائے، مستقبل کی فنانسنگ کو معقول …
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیرصدارت بجلی اور ہائیڈل انرجی کے شعبوں میں منصوبوں کا جائزہ لینے کیلئے اعلیٰ سطحی اجلاس

مزید خبریں
اسلام آباد۔29دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے پیر کو بجلی اور ہائیڈل انرجی کے شعبوں میں اہم پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے منصوبوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی جس میں پاور ڈویژن کو ہدایت کی گئی کہ اہم ترین منصوبوں کو ترجیح دی جائے، مستقبل کی فنانسنگ کو معقول بنایا جائے اور حقیقی مالیاتی فریم ورک کے ساتھ ساتھ تین سال کے لیے مالیاتی فریم ورک کی ضرورت کو پورا کیا جائے۔ وزارت منصوبہ بندی کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق وفاقی وزیر نے ہدایت کی کہ حکمت عملی کے لحاظ سے اہم منصوبوں کی بروقت فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔
اجلاس میں سیکرٹری پلاننگ، چیف اکانومسٹ ڈاکٹر امتیاز احمد، ممبر آئی آر سی اور پاور، ای اے ڈی اور فنانس ڈویژنز کے سینئر افسران کے ساتھ متعلقہ وزارتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔وفاقی وزیر کو بجلی اور ہائیڈل سیکٹر کے بڑے منصوبوں کے مجموعی پورٹ فولیو اور مالیاتی پوزیشن کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر پاور سیکٹر کے 37 اہم منصوبوں کا جائزہ لیا گیا جن کی مشترکہ منظور شدہ لاگت 1.7 ٹریلین روپے ہے۔ اس میں سے جون 2025ء تک 1.1 ٹریلین روپے خرچ ہو چکے تھے جبکہ تھرو فارورڈ 492.4 بلین روپے تھے اور رواں مالی سال 2025-26 کے لیے مختص رقم 104.7 بلین روپے ہے۔ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران تقریباً 175 بلین روپے کی اضافی مانگ کی بھی نشاندہی کی گئی۔
پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ وقتاً فوقتاً پورٹ فولیو کے جائزے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہیں تاکہ قلیل عوامی وسائل کو قومی ترجیحات کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے، لاگت میں اضافے اور عمل درآمد میں تاخیر کی جلد نشاندہی کی جائے اور یہ کہ سب سے زیادہ معاشی اور سماجی منافع والے منصوبے بغیر کسی تاخیر کے مکمل کیے جائیں۔انہوں نے پاور ڈویژن کو ہدایت کی کہ اہم منصوبوں کا پراجیکٹ وائز بریک اپ تیار کیا جائے اور ہر پراجیکٹ کے لئے اگلے تین سالوں کے لئے سالانہ فنانسنگ اور عملدرآمد کا منصوبہ بھی پیش کیا جائے۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ تکمیل کے قریب منصوبوں کو ترجیح دی جائے تاکہ ڈوبی ہوئی سرمایہ کاری کو جلد از جلد آپریشنل اثاثوں میں تبدیل کیا جا سکے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس کا مقصد تھرو فارورڈ کو کم کرنا اور ترجیحی منصوبوں کو متعین وقت کے اندر مکمل کرنا ہے۔
وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال نے مزید کہا کہ تاخیر نہ صرف لاگت میں اضافہ کرتی ہے بلکہ انفراسٹرکچر کے اقتصادی فوائد بشمول توانائی کی بہتر دستیابی، صنعتی پیداواری صلاحیت اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بھی متاثر کرتی ہے۔اجلاس کے دوران پاور سیکٹر کے جن اہم منصوبوں کا جائزہ لیا گیا ان میں جامشورو میں 660MWx2 کا کوئلے سے چلنے والا پاور پلانٹ (177 بلین روپے)، پاور ڈسٹری بیوشن انہانسمنٹ انویسٹمنٹ پروگرام (Tranche-I) ایڈوانسڈ میٹرنگ انفراسٹرکچر پروجیکٹ (16.9 بلین روپے)، بجلی کی تقسیم کی کارکردگی کو بہتر بنانے کا پروجیکٹ (MEPCOs1) (8.1 بلین روپے)، 500 کے وی مٹیاری-مورو-رحیم یار خان ٹرانسمیشن لائن (188.5 بلین روپے) اور بجلی کی تقسیم کی کارکردگی کو بہتر بنانے کا دوسرا منصوبہ جس کی لاگت 11.7 بلین روپے ہے، شامل ہیں۔ اس موقع پر ہائیڈل اور ٹرانسمیشن سے متعلقہ بڑے منصوبے بھی زیر بحث آئے جن میں داسو ٹرانسمیشن لائنز، غازی بروتھا ہائیڈرو پاور پراجیکٹ، نیشنل پاور کنٹرول سینٹر میں این ٹی ڈی سی کے ٹیلی کمیونیکیشن اور ایس سی اے ڈی اے سسٹم کی اپ گریڈیشن اور توسیع اور 2,160MW داسو ہائیڈرو پاور پروجیکٹ (StageI) سے بجلی کا اخراج شامل ہیں۔
وفاقی وزیر نے منصوبہ بندی، خزانہ، ای اے ڈی، پاور اور وزارت آبی وسائل کے سیکرٹریوں کو ہدایت کی کہ وہ مشترکہ طور پر رکاوٹوں کی نشاندہی کریں، چاہے وہ مالی، تکنیکی یا انتظامی ہوں اور ان کو تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مربوط حکمت عملی کے ذریعے تیزی سے حل کریں۔ انہوں نے کہا کہ ایک نظم و ضبط والا تین سالہ رولنگ پلان حکومت کو نامکمل منصوبوں میں اضافہ ، مالی دبائو پر قابو پانے اور توانائی کے تحفظ اور اقتصادی ترقی میں واضح بہتری کے لیے عوامی سرمایہ کاری کو یقینی بنانے میں مدد فراہم کرے گا۔اجلاس کا اختتام آئندہ تین سالوں کے لیے ترجیحی لحاظ سے انتہائی اہم منصوبوں کی فہرست کو حتمی شکل دینے اور مقررہ مدت کے اندر مکمل کرنے کے لیے درکار کم از کم سالانہ پی ایس ڈی پی ضروریات پر کام کرنے کی ہدایات کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔








