استنبول۔13فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان اور ایرانی وزیر روڈز اینڈ انفراسٹرکچر فرزانہ صادق کے درمیان استنبول میں دوسری او آئی سی وزراء کانفرنس کے موقع پر ایک اہم ملاقات ہوئی ،جس میں دوطرفہ تجارتی ٹرانسپورٹ کی آمد و رفت اور سرحد پر درپیش مسائل کے حل کے لیے دور رس فیصلے کیے گئے۔ملاقات کے دوران اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پاک ایران سرحد پر تجارتی …
وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان اور ایرانی وزیر روڈز اینڈ انفراسٹرکچر فرزانہ صادق کے درمیان اہم ملاقات، پاک ایران سرحد پر تجارتی حجم بڑھانے پر اتفاق

مزید خبریں
استنبول۔13فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان اور ایرانی وزیر روڈز اینڈ انفراسٹرکچر فرزانہ صادق کے درمیان استنبول میں دوسری او آئی سی وزراء کانفرنس کے موقع پر ایک اہم ملاقات ہوئی ،جس میں دوطرفہ تجارتی ٹرانسپورٹ کی آمد و رفت اور سرحد پر درپیش مسائل کے حل کے لیے دور رس فیصلے کیے گئے۔ملاقات کے دوران اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پاک ایران سرحد پر تجارتی سرگرمیوں کو تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ روزانہ 200 ٹرکوں کی موجودہ شرح کو بڑھا کر 800 سے ایک ہزار ٹرالرتک لے جایا جا سکتا ہے۔
دونوں وزراء نے بارڈر سہولیات، پارکنگ کے مسائل اور سرحد پار ٹرانسپورٹ کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ایرانی وزیر نے حالیہ دورہ اسلام آباد کے حوالے سے بات چیت کی اور ایف بی آر، وزارت تجارت اور کسٹم جیسے پاکستانی اداروں کے حوالے سے درپیش معاملات پر وفاقی وزیر کو آگاہ کیا۔ ایرانی وزیر فرزانہ صادق کا کہنا تھا کہ پاک ایران بارڈر پر معاملات پہلے سے بہتر ہوئے ہیں تاہم تعاون میں اضافے کی مزید گنجائش موجود ہے۔
عبدالعلیم خان نے پاکستان اور ایران کے مابین گہرے برادرانہ تعلقات اور بھائی چارے کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ہر پاکستانی ایران کی سلامتی اور ترقی کے لیے نیک خواہشات رکھتا ہے۔ انہوں نے او آئی سی وزراء کانفرنس کو دوست ممالک سے تبادلہ خیال کا بہترین موقع قرار دیا۔ملاقات کے اختتام پر پاکستان میں منعقد ہونے والی ریجنل ٹرانسپورٹ منسٹرز کانفرنس کے حوالے سے بھی گفتگو کی گئی جبکہ ایرانی وزیر نے پاکستان کے لیے خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے مستقبل میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا۔








