اسلام آباد ۔ 20 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے کہا ہے کہ مشیروں اور معاونین خصوصی کے اثاثہ جات ظاہر کرنا وزیر اعظم عمران خان کا ویژن ہے، سابق حکمران بھی اپنے اثاثے اور شہریت ظاہر کریں، کلبھوشن کیس پر بھارتی وکیل نے سابق وزیراعظم نوازشریف کا حوالہ دیا‘ سابق وزیر خارجہ اقامہ ہولڈر اور 15 لاکھ روپے تنخواہ بیرون ملک سے لیتے تھے اب …
وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید کا قومی اسمبلی میں نجکارری پربحث میں حصہ لیتے ہوئے اظہار خیال

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 20 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے کہا ہے کہ مشیروں اور معاونین خصوصی کے اثاثہ جات ظاہر کرنا وزیر اعظم عمران خان کا ویژن ہے، سابق حکمران بھی اپنے اثاثے اور شہریت ظاہر کریں، کلبھوشن کیس پر بھارتی وکیل نے سابق وزیراعظم نوازشریف کا حوالہ دیا‘ سابق وزیر خارجہ اقامہ ہولڈر اور 15 لاکھ روپے تنخواہ بیرون ملک سے لیتے تھے اب ہمیں غیرت کا درس دے رہے ہیں۔ پیر کو قومی اسمبلی میں نجکاری پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے مراد سعید نے کہا کہ نجکاری پر بحث کا آغاز ہوا ہے بات حکومت کی پالیسی پر ہونی چاہیے تھی مگر بات کسی اور طرف لے کر جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اداروں کو بیچنے کی بات نہیں ہورہی۔ مسلم لیگ (ن) والوں نے تو جنرل ضیا اور جنرل جیلانی کی کوشش سے جنم لیا۔ یہ لوگ کسی کی انگلی پکڑ کر سیاست میں آئے ہیں۔ ججوں کو فون کر کے مرضی کے فیصلے لینے والے ہمیں جمہوریت کا درس دے رہے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ چینی کی قیمتوں میں اضافہ پر کمیشن بنا‘ فرانزک ہوا اب کارروائی بھی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں معاونین خصوصی‘ ایڈوائزروں پر اثاثے ظاہر کرنے کا قانون نہیں تھا۔ ملک کی تاریخ میں پہلی بار ان لوگوں نے اپنے اثاثے ظاہر کئے۔ سابق وزیر خارجہ نے اقامہ رکھا تھا۔ 15 لاکھ روپے ماہوار لے رہے تھے۔ یہاں غیرت پر لیکچر دے رہے تھے۔ ان کے دور کا وزیراعظم ‘ وزراءاقامہ ہولڈر تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ جو بھی کسی بڑے عہدے پر رہا اپنے اثاثے اور شہریت قوم کے سامنے رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ کلبھوشن یادیو کے حوالے سے یہ ہمیں تجاویز دیں۔ مراد سعید نے کہا کہ عمران خان کو پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ نے صادق اور امین قرار دیا ان کے لیڈر کو نااہل کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ نجکاری پر تجاویز دی جاتیں لیکن احتساب کی بات کی ‘ پانامہ کی بات کی۔ انہوں نے اپنے دور میں وزیراعظم سے کہا کہ قوم بھول جائے گی۔ ان کے دور میں 41 ادارے نجکاری کی فہرست میں ڈالے گئے۔ ان کا مشیر خزانہ کہتا تھا کہ جو پی آئی اے خریدے گا سٹیل ملز اس کو مفت ملے گی۔ ہمارے دور میں ریلوے ‘ پی آئی اے کا کورونا سے پہلے منافع آیا۔ انہوں نے کہا کہ تین سال تک کلبھوشن کا نام لیتے شرم کیوں محسوس کرتے تھے۔ مودی کو اپنی نواسی کی شادی پر بلایا‘ جندال کو مری بلوایا۔ ہم نے سوال کیا تو کہا کہ ہمارا ذاتی تعلق ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ امریکہ میں جاکر کہتے تھے کہ عمران خان انتہاءپسند ہے‘ ہم لبرل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں کسی کی کرپشن بے نقاب کرتا ہوں تو یہ نہیں کہتا کہ یہ کون ہوتے ہیں سوال اٹھانے والے۔ میں سیاسی ورکر ہوں‘ میں جوابدہ ہوں۔ میں ان کی کرپشن بے نقاب کرتا ہوں یہ اس لئے میرے خلاف 2014ءکے سوشل میڈیا پر پروپیگنڈے دوبارہ کر رہے ہیں تاکہ میں خاموش ہو جاﺅں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہم سے سوال کریں ہم جواب دیں گے۔ نجکاری پر بحث ہو رہی ہے تو یہ نجکاری پر بات کرتے‘ ملک کے اداروں کو بہتر بنانے کے لئے تجاویز دیتے۔ ہم آپ کی تجاویز سنتے اور اپنے اداروں کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے اور ہم کر بھی رہے ہیں۔ پاکستان کے ادارے خسارے سے نکلیں گے۔ عمران خان کی قیادت میں نئے پاکستان کا خواب پورا کریں گے۔








