وفاقی وزیر میری ٹائم افیئرز سیّد علی حیدر زیدی کی ”اے پی پی“ سے خصوصی گفتگو

اسلام آباد ۔ 27 مارچ (اے پی پی) وزارت بحری امور نے پاکستان میرین اکیڈمی کراچی کو میرین یونیورسٹی میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ بات وفاقی وزیر میری ٹائم افیئرز سیّد علی حیدر زیدی نے ”اے پی پی“ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ میرین اکیڈمی کو یونیورسٹی میں تبدیل کرنے کے پلان پر کام کر رہے ہیں کہ اسے ڈگری ایوارڈنگ یونیورسٹی …

اسلام آباد ۔ 27 مارچ (اے پی پی) وزارت بحری امور نے پاکستان میرین اکیڈمی کراچی کو میرین یونیورسٹی میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ بات وفاقی وزیر میری ٹائم افیئرز سیّد علی حیدر زیدی نے ”اے پی پی“ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ میرین اکیڈمی کو یونیورسٹی میں تبدیل کرنے کے پلان پر کام کر رہے ہیں کہ اسے ڈگری ایوارڈنگ یونیورسٹی بنا کر ایسے ماہرین پیدا کئے جائیں جو بحری امور کے معاملات میں خاص مہارت رکھتے ہوں اور اس شعبہ میں ملکی ضروریات پوری کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ دوسرے اداروں کے مقابلہ میں ان کی وزارت کے ماتحت ادارے منافع میں ہیں، پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے حوالہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کی صلاحیت بڑھانے کی ضرورت ہے، موجودہ حالات میں جہاں دوسرے ادارے خسارے میں ہیں، وہیں پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن منافع کما رہی ہے۔ علی حیدر زیدی نے کہا کہ ان کے حالیہ دورہ سپین کے دوران بارسلونا میں انہوں نے دیکھا کہ وہاں 1970ءمیں ہی آن شور ری گیسی فیکیشن پلانٹ لگایا گیا اور اس پلانٹ کی 95 فیصد ملکیت عوام کی ہے جبکہ 5 فیصد حکومت اس کی حصہ دار ہے، ہمارے ہاں ایل این جی کے دو بڑے جہاز آ جائیں تو پورٹ بند ہو جاتی ہے جس سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ایل این جی کے دونوں جہاز پاکستان کی ملکیت نہیں، ایک نارویجن کمپنی جبکہ دوسرا امریکن کمپنی کی ملکیت ہے جو ہم نے لیز پر لئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاس اینجلس پورٹ کی 300 برتھ ہیں جس کے 27 آپریٹر ہیں اور وہ صرف کنٹینر کیلئے ہیں جبکہ ہمارے پورے ملک میں 16 برتھیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم آن شور پلانٹ لگانے کا بھی پلان کر رہے ہیں جو کہ ڈیڑھ بلین ڈالر کی سرمایہ کاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے تو سمری بنا رکھی ہے کہ اگر ایف ایس آر یو لگانا ہے تو ہم خرید کر دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس حوالہ سے حکومت سے گارنٹی بھی نہیں چاہئے، ہم ایسا پلانٹ لگانا چاہتے ہیں جس پر پاکستان کا جھنڈا لہرا رہا ہو، ہم اس کےلئے پلان کریں گے کہ اس پلانٹ کےلئے پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن، پورٹ قاسم اور کراچی پورٹ ٹرسٹ بھی حصہ ڈالیں گے کیونکہ یہ ایک سٹرٹیجک اثاثہ اور پاکستان کی ملکیت ہو گا، کوئی اور ملک کا ہو تو وہ باہر لے کے جا سکتا ہے جس کی وجہ سے ملک میں انرجی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔

مزید خبریں

Leave a Reply