اسلام آباد 19 دسمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سیکیورٹی سردار سکندر حیات بوسن نے کہا ہے کہ اپوزیشن گنے کے معاملے پر صرف پوائنٹ سکورنگ کر رہی ہے‘ 2008ءمیں گندم کی قیمت بڑھانے کے علاوہ 5 سالوں میں انھوں نے کاشتکاروں کی بہتری کے لئے کوئی اقدام نہیں اٹھایا تھا‘ ہم نے فرٹیلائزر پر سبسڈی دی تو وزیراعلیٰ سندھ کا خط موجود ہے جس میں انہوں نے …
وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سیکیورٹی سردار سکندر حیات بوسن کا قومی اسمبلی میں اظہارخیال

مزید خبریں
اسلام آباد 19 دسمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سیکیورٹی سردار سکندر حیات بوسن نے کہا ہے کہ اپوزیشن گنے کے معاملے پر صرف پوائنٹ سکورنگ کر رہی ہے‘ 2008ءمیں گندم کی قیمت بڑھانے کے علاوہ 5 سالوں میں انھوں نے کاشتکاروں کی بہتری کے لئے کوئی اقدام نہیں اٹھایا تھا‘ ہم نے فرٹیلائزر پر سبسڈی دی تو وزیراعلیٰ سندھ کا خط موجود ہے جس میں انہوں نے کہا کہ ہم اس کا حصہ نہیں بنیں گے جبکہ سپیکر قومی اسمبلی نے گنے کے کاشتکاروں کو شوگر ملوں کی جانب سے سپورٹ پرائس پر خریداری نہ کرنے کے معاملے کے جائزہ کے لئے وزیر تجارت پرویز ملک کی سربراہی میں کمیٹی قائم کردی ہے۔ منگل کو قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کی جانب سے یہ معاملہ اٹھانے پر سپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ یہ بات کچھ دنوں سے ہو رہی ہے اس کا حل ہونا چاہیے۔ رانا حیات نے کہا کہ حکومتی لوگ بھی بات کرنا چاہتے ہیں۔ وزیراعلیٰ کو بلایا جائے۔ شوگر ملز مالکان اگر نہیں مانتے تو انہیں گرفتار کرایا جائے۔ رکن قومی اسمبلی لال چند نے کہا کہ کراچی میں کاشتکاروں نے مظاہرہ کیا تو ان پر تشدد کرایا گیا۔ یہ ان کا جمہوری حق تھا ان پر تشدد نہیں ہونا چاہیے تھا۔








