پانچ ریگولیٹرز کو رولز آف بزنس کے تحت وزارتوں کے ماتحت کیا گیا جو تکنیکی لحاظ سے درست ہے،یہ تو پہلے بھی حکومت کے ہی انڈر تھے،ہم ان کے ریگولیٹری معاملات پر ہرگز اثر انداز نہیں ہوئے،وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ محمد آصف کی نجی ٹی وی چینل سے گفتگو اسلام آباد ۔ 20 دسمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ محمد آصف نے کہا ہے …
وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ محمد آصف کی نجی ٹی وی چینل سے گفتگو

مزید خبریں
پانچ ریگولیٹرز کو رولز آف بزنس کے تحت وزارتوں کے ماتحت کیا گیا جو تکنیکی لحاظ سے درست ہے،یہ تو پہلے بھی حکومت کے ہی انڈر تھے،ہم ان کے ریگولیٹری معاملات پر ہرگز اثر انداز نہیں ہوئے،وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ محمد آصف کی نجی ٹی وی چینل سے گفتگو
اسلام آباد ۔ 20 دسمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ پانچ ریگولیٹرز کو رولز آف بزنس کے تحت وزارتوں کے ماتحت کیا گیا جو تکنیکی لحاظ سے درست ہے جبکہ دوسری بات یہ کہ یہ تو پہلے بھی حکومت کے ہی انڈر تھے، کیبنٹ ڈویژن میں تھے، ہم ان کے ریگولیٹری معاملات پر ہرگز اثر انداز نہیں ہوئے اور نہ ہی ان کا ریگولیٹری معاملہ سنبھالا ہے بلکہ ہم نے تو ان کا روزمرہ کا انتظامی معاملہ سنبھالا ہے لہٰذا ریگولیٹری لحاظ سے وہ اب بھی آزاد ہیں اور ان کی ریگولیٹری پاور کی ضمانت آج بھی نیپرا ایکٹ یا اوگرا ایکٹ دیتا ہے یا پھر پی ڈی اے کا جو ایکٹ وہ دیتا ہے، یہ قانون سازی فول پروف اور مضبوط قانون سازی ہے جو ہمیں ریگولیٹری فنکشن میں مداخلت سے روکتی ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ ہمارا نیپرا کے ساتھ نندی پور کے اوپر کوئی اختلاف نہیں ہے، ٹیرف میں تاخیر ہوتی ہے یا ہم بعض اوقات چاہتے ہیں کہ فلاں چیز ٹیرف میں ہونی چاہیے یا نہیں ہونی چاہیے، مختلف ڈسکوز کا ٹیرف یونیفارم ہونا چاہیے یا مختلف ہونا چاہیے یا آزاد کشمیر کا ٹیرف اس طرح نہیں ہونا چاہیے وغیرہ وغیرہ ، اس طرح کی لڑائی تو نیپرا اور وزارت پانی و بجلی کی گذشتہ 15 ، 16 سال سے چل رہی ہے جو ایک معمول کی بات ہے لیکن ہمارا ان سے اختلاف توکوئی نہیں، وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ریگولیٹرز کے وزارتوں کے ماتحت آنے سے وہ ہمارا موقف اچھے طریقے سے سمجھ سکیں گے اور ہم ان کا موقف اچھے طریقے سے سمجھ سکیں گے اور باقی معاملات اسی طرح رہیں گے جس سے مزید بہتری آئے گی۔








