اسلام آباد ۔ 26 مارچ (اے پی پی) وفاقی وزیر پاور ڈویژن عمر ایوب خان نے بجلی کے شعبہ میں اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی چوروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی، ٹرانسمیشن لائنوں کے نظام کی بہتری، سستی بجلی کی فراہمی اور واجبات کی وصولی کی مہم تیز کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ رواں سال 31 دسمبر تک گردشی قرضہ 603 ارب روپے سے 225 …
وفاقی وزیر پاور ڈویژن عمر ایوب خان کی صحافیوں سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 26 مارچ (اے پی پی) وفاقی وزیر پاور ڈویژن عمر ایوب خان نے بجلی کے شعبہ میں اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی چوروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی، ٹرانسمیشن لائنوں کے نظام کی بہتری، سستی بجلی کی فراہمی اور واجبات کی وصولی کی مہم تیز کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ رواں سال 31 دسمبر تک گردشی قرضہ 603 ارب روپے سے 225 ارب روپے تک لایا جائے گا، فیسکو، میپکو، کیسکو اور لیسکو کو کارکردگی بہتر بنانے کےلئے مزید تقسیم کریں گے، موسم گرما میں زیادہ نقصانات والے فیڈرز پر لوڈ مینجمنٹ ہو گی، ملک کے دیگر علاقوں میں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ کم سے کم رہے گا، عالمی بینک کے تعاون سے ٹرانسفارمرز پر میٹر لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، بلوچستان کے ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پر منتقل کیا جائے گا، آزاد کشمیر کو ایک روپے 10 پیسے فی یونٹ واٹر یوزر چارجز ملیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو یہاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر چیئرمین انرجی ٹاسک فورس ندیم بابر اور وفاقی سیکرٹری پاور ڈویژن عرفان علی بھی موجود تھے۔ عمر ایوب خان نے کہا کہ اس وقت ہماری بجلی کی پیداواری استعداد 31 ہزار میگاواٹ ہے جس میں سے 60 فیصد بجلی تیل، گیس اور کوئلہ، 30 فیصد بجلی پانی، 6 فیصد نیوکلیئر اور 4 فیصد قابل تجدید توانائی کے ذرائع سے حاصل ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانسمیشن لائن کو بھی بہتر بنایا جا رہا ہے، مٹیاری سے لاہور تک ٹرانسمیشن لائن کی تنصیب کےلئے مالیاتی معاملات طے پا چکے ہیں، ایک سے2 ماہ میں اس کا سنگ بنیاد رکھ دیا جائے گا، گرڈ اسٹیشنز کی حالت بہتر بنانے کےلئے بھی اقدامات کئے جا رہے ہیں اور اس شعبہ میں سرمایہ کاری بڑھائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ پیسکو، کیسکو، میپکو اور لیسکو کو مزید تقسیم کیا جائے گا تاکہ ان کی کارکردگی اور خدمات کی فراہمی بہتر بنائی جا سکے۔ عمر ایوب خان نے کہا کہ اس وقت بہتر کارکردگی والی کمپنیوں کے فیڈرز کی ٹرانسمیشن لائنوں کی لمبائی 20 سے 25 کلومیٹر ہے جبکہ کم کارکردگی والی کمپنیوں کی 120 سے 125 کلومیٹر تک ہے، ہم چاہتے ہیں کہ فیڈرز کی لمبائی کو بھی اگلے چند سال میں کم کیا جائے، اس سے لائن لاسز میں کمی ہو گی، وولٹیج میں بہتری آئے گی، محصولات کی وصولی سے بڑے ٹرانسفارمرز بھی بہتر انداز میں کام کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک بھر میں 8 لاکھ 40 ہزار ٹرانسفارمرز ہیں اور ورلڈ بینک سے اس معاملہ پر ہماری بات ہوئی ہے کہ ہر ٹرانسفارمر پر میٹر لگایا جائے، اس سے ٹرانسفارمر سے استعمال ہونے والی بجلی اور دستیابی کی صورتحال کے بارے میں بہتر انداز میں پتہ چل سکے گا۔ اس کے علاوہ ٹرانسفارمر کی خرابی اور لائن لاسز میں کمی لانے اور ریونیو بڑھانے میں بھی مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ سابق حکومت نے الیکشن کی وجہ سے جان بوجھ کر ٹیرف کا تعین نہیں کیا اور نیپرا کی طرف سے جو ٹیرف کا تعین کیا گیا وہ تین روپے 86 پیسے فی یونٹ تھا لیکن ہم نے فیصلہ کیا کہ 300 یونٹ تک ماہانہ بجلی استعمال کرنے والے صارفین کے لئے بجلی کی قیمت نہیں بڑھائی جائے گی، یہ صارفین کل صارفین کی تعداد کا تقریباً 75 فیصد ہیں۔ اس سے اوپر والے صارفین کیلئے بجلی کی قیمت میں 10 سے 20 فیصد کا اضافہ ہوا، کمرشل صارفین کے بلوں میں بھی اضافہ نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ٹیوب ویلوں کے لئے بھی بجلی کی قیمت دس روپے سے کم کر کے 5 روپے 35 پیسے فی یونٹ کی۔ برآمدی شعبے کو بھی فائدہ پہنچایا، سابق حکومت نے سہ ماہی کیپسٹی ایڈجسٹمنٹ کو بھی جان بوجھ کر روکے رکھا جس کی ششماہی رقم تقریباً 200 ارب روپے بنتی ہے۔ نیپرا کی طرف سے ترمیم کے بعد اسے بھی منتقل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سابق حکومت نے زیادہ نقصانات والے فیڈر کو بجلی کی فراہمی بھی جاری رکھی، چوری کا تدارک نہ کیا اور واجبات کی وصولی کو بھی نظرانداز کیا جس کی وجہ سے ایک سال میں 450 ارب روپے کا گردشی قرضہ بڑھ گیا، 226 ارب روپے جو سابقہ حکومت کے دور میں منتقل ہونے تھے، وہ بھی آگے بلوں میں منتقل نہیں کئے گئے جس کی وجہ سے گردشی قرضے میں اضافہ ہوتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ رواں سال 31 دسمبر تک گردشی قرضے کو 225 ارب روپے تک لائیں گے، گردشی قرضے میں سے 200 ارب روپے ہم نے سکوک بانڈ کے اجراءکے ذریعے نکال دیئے ہیں، گردشی قرضہ کم ہونے سے واجبات کی وصولی میں بھی بہتری آئی ہے، بجلی چوری کی روک تھام سے بھی فائدہ ہوا ہے اور موجودہ حکومت کے دور میں 40 ارب روپے کی وصولی بڑھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اندرون سندھ، خیبر پختونخوا اور فاٹا میں بجلی چوری کی روک تھام کےلئے خصوصی مہم چلائی جا رہی ہے، جو فیڈر بجلی چوری میں ملوث نہیں ہیں وہاں پر بجلی فراہم کی جا رہی ہے، کنڈا سسٹم کا خاتمہ کیا ہے اور باقی علاقوں میں بھی کیا جا رہا ہے، اب لوگ خود بجلی چوری کے حوالے سے معلومات دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی کارکردگی کو بھی بہتر بنانے کے لئے اقدامات کر رہے ہیں۔ قابل تجدید توانائی سے بجلی کے حصول میں تیزی لائی جارہی ہے، 600 میگاواٹ بجلی اس سلسلے میں جلد سسٹم میں آ جائے گی۔ نئی توانائی پالیسی اور نئی الیکٹرسٹی پالیسی کو بھی حتمی شکل دی جا رہی ہے جس کا جلد اعلان کردیا جائے گا۔ عمر ایوب خان نے کہا کہ ہائیڈل اور دیگر مقامی ذرائع سے بجلی کی پیداوار کا حصہ 60 فیصد ہو جائے گا جس میں 30 فیصد ہائیڈل اور 30 فیصد قابل تجدید توانائی ہو گی، اس سے بجلی کی قیمت میں بھی کمی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ نیٹ میٹرنگ نظام کیلئے بھی ٹاسک فورس حتمی شکل دے رہی ہے، پری پیڈ میٹرنگ سے لاسزمیں کمی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت خیبر پختونخوا میں 85 فیصد لاسز خیبر، بنوں اورڈی آئی خان سرکل کے ہیں۔ عمر ایوب خان نے کہا کہ بلوچستان کے ٹیوب ویلز کو بھی ہم شمسی توانائی پر منتقل کر رہے ہیں، بجلی چوری کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جا رہی ہے اور کنڈا کلچر کا خاتمہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا اور دیگر علاقوں میں بجلی چوری کے خلاف مہم جاری رہے گی۔ آزاد جموں کشمیر کےلئے واٹر یوزر چارجز کی منظوری دے دی گئی ہے اور اس سلسلے میں ایک روپے دس پیسے فی یونٹ آزاد کشمیر کو ملیں گے، خیبرپختونخوا کو 20 ارب روپے جاری کر دیئے ہیں دیگر بقایا جات بھی ساتھ ساتھ ادا کئے جائیں گے، ڈھانچہ جاتی اصلاحات بھی کی جارہی ہیں۔ گرڈ اسٹیشن کو بھی بہتر بنایا جا رہا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ سستی بجلی عوام کو ملے۔ بلنگ اور نیٹ میٹرنگ کو بھی یقینی بنائیں گے، بجلی کی بچت پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ کم بجلی استعمال کرنے والے برقی آلات اسی مناسبت سے تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ موسم گرما میں زیادہ نقصانات والے فیڈرز پر لوڈ مینیجمنٹ ہوگی، بجلی چوری کرنے والوں کی وجہ سے خمیازہ پوری قوم نہیں بھگت سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے اوپر کسی قسم کا کوئی دباو¿ نہیں ہے جو بھی بجلی چور ہے وہ چور ہے، اسے اس کی حیثیت اور مرتبے سے بالاتر ہو کر اور اس کے مرتبے کو خاطر میں لائے بغیر پکڑا جائے گا۔ اس موقع پر چیئرمین انرجی ٹاسک فورس ندیم بابر نے کہا کہ اکتوبر 2018ءمیں جو ٹیرف بنتا تھا اس کی قیمت 226 ارب روپے ہے لیکن یہ سابقہ حکومت نے آگے منتقل نہیں کیا، اگر یہ اکٹھا منتقل کردیا جائے تو بجلی کی قیمت میں 4 سے سوا 4 روپے فی یونٹ اضافہ بنتا ہے۔ ہم نے ٹیرف میں 1 روپے 27 پیسے کا پہلے اضافہ کیا تھا، یہ اضافہ مختلف مراحل میں منتقل کیا جائے گا جو سابقہ حکومت کا چھوڑا ہوا ہے۔ اس موقع پر سیکریٹری پاور ڈویژن عرفان علی نے کہا کہ بجلی کی پیداوار کے حوالے سے باقاعدہ میرٹ موجود ہے جس کی کسی صورت خلاف ورزی نہیں کی جا رہی، جب ایل این جی دستیاب ہوگی تو کسی بھی دوسرے مہنگے فیول کی جگہ اسے استعمال کیا جائے گا۔ بجلی چوری کے حوالے سے ہمارا ایک پختہ عزم ہے کہ جہاں بھی بجلی چوری ہو گی، وہاں لوڈ شیڈنگ ہوگی اور جہاں بجلی چوری ختم ہو گی وہاں لوڈ شیڈنگ بھی ختم ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ بجلی چوروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جا رہی ہے اور ہم نے بڑے بجلی چوروں کی ایک فہرست تیار کی ہے جن کے ذمہ لاکھوں روپے کے واجبات ہیں، ان سے واجبات وصول کئے جائیں گے۔








