اسلام آباد ۔ 23 مئی (اے پی پی) نئے سروے کے ذریعے بی آئی ایس پی کی اپڈیٹ قومی سماجی و اقتصادی رجسٹری(این ایس ای آر)اس ملک کے مستقبل کی پالیسی سازی کیلئے ایک بنیاد ثابت ہوگی جو بیواﺅں، یتیموں، عمر رسیدہ اور معذور افراد کے سروے کو یقینی بناتے ہوئے پاکستان کو دنیا کا ماڈل فلاحی ملک بنائے گا۔ زراعت، بجلی، تعلیم، صحت ، غذائیت اورقدرتی آفات کی صورت …
وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال کا این ایس ای آر ڈیٹا اینالٹکس نظام کی افتتاحی تقریب سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 23 مئی (اے پی پی) نئے سروے کے ذریعے بی آئی ایس پی کی اپڈیٹ قومی سماجی و اقتصادی رجسٹری(این ایس ای آر)اس ملک کے مستقبل کی پالیسی سازی کیلئے ایک بنیاد ثابت ہوگی جو بیواﺅں، یتیموں، عمر رسیدہ اور معذور افراد کے سروے کو یقینی بناتے ہوئے پاکستان کو دنیا کا ماڈل فلاحی ملک بنائے گا۔ زراعت، بجلی، تعلیم، صحت ، غذائیت اورقدرتی آفات کی صورت میں غریبوں کی امداد پر سبسڈیز کے آغاز کیلئے ڈیٹا کی ڈیجیٹل میپنگ ایک اثاثہ ہوگا۔ ان خیالات کا اظہاروفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات پروفیسر احسن اقبال نے بی آئی ایس پی ہیڈکوارٹر، اسلام آباد میں این ایس ای آر ڈیٹا اینالٹکس نظام کے افتتاح کے موقع پر کیا۔ وزیر مملکت و چیئرپرسن بی آئی ایس پی، ایم این اے ماروی میمن، سیکرٹری بی آئی ایس پی یاسمین مسعود، رکن سوشل سیکٹر پلانگ ڈویژن عاصمہ حیدر، چیف اکنامسٹ ڈاکٹر ندیم جاوید اور بی آئی ایس پی حکام نے تقریب میں شرکت کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے کہا کہ بی آئی ایس پی ملک کی پہلی متحرک این ایس ای آر کے اندراج کیلئے مکمل طور پر تیار ہے جیسا کہ سابقہ این ایس ای آر میں آبادی کے سماجی و معاشی حالات میں تبدیلی کے اندراج کی گنجائش موجود نہیں تھی۔این ایس ای آر اپڈیٹ کیلئے ٹیکنالوجی پر مبنی سروے دنیا کا بہترین سروے ہوگا جو پاکستان کو نمبر ون پوزیشن پر لے کر جائے گا جبکہ مستحق افراد کی نشاندہی او ر ان کے انتخاب کے حوالے سے پاکستان اس وقت پانچویں نمبر پر موجود ہے۔








