اسلام آباد۔20جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے پٹرولیم علی پرویز ملک سے پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے ملاقات کی، جس میں تیل و گیس اور معدنیات کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے کہا کہ پاکستان میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے اور معاشی شعبے میں اہم اصلاحات جاری ہیں۔ انہوں نے پاکستان …
وفاقی وزیر علی پرویز ملک سے برطانوی ہائی کمشنر کی ملاقات،مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال

مزید خبریں
اسلام آباد۔20جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے پٹرولیم علی پرویز ملک سے پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے ملاقات کی، جس میں تیل و گیس اور معدنیات کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے کہا کہ پاکستان میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے اور معاشی شعبے میں اہم اصلاحات جاری ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانے میں برطانیہ کی گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ملاقات میں تیل و گیس کی تلاش اور معدنیات کے شعبے میں تعاون کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی گئی۔ وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے اس امر پر زور دیا کہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے شفاف اور قابلِ اعتماد طریقۂ کار ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومتِ پاکستان توانائی کے شعبے میں ادارہ جاتی استعداد کو مضبوط بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کر رہی ہے۔ اس موقع پر معدنیات کے شعبے میں تعاون کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا، جہاں دونوں فریقین نے برٹش جیولوجیکل سروے اور جیولوجیکل سروے آف پاکستان کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کو سراہا، جس کا مقصد جامع استعداد سازی کے پروگرام کی تشکیل ہے۔برطانوی ہائی کمشنر نے اس اقدام کے لیے 4 لاکھ امریکی ڈالر تک معاونت فراہم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حتمی شکل اختیار کرنے کے بعد یہ پروگرام پاکستان کے معدنیاتی شعبے کی ترقی کے لیے نہایت مفید ثابت ہوگا۔ وفاقی وزیر نے ایک مؤثر اور مضبوط ریگولیٹر کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تیل و گیس کے شعبے کی بہتر کارکردگی کے لیے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کا کردار کلیدی ہے، اور اس کی معاونت یا تنظیمِ نو میں برطانیہ اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے اوگرا کی تنظیمِ نو اور استعداد سازی کے لیے جامع تشخیصی جائزہ لینے کی تجویز دی، جس میں جدید گورننس ٹولز کا تعارف بھی شامل ہے۔
برطانوی ہائی کمشنر نے اس بات سے اتفاق کیا کہ یہ ریگولیٹر شعبے کی پائیداری میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور اس نوعیت کی مشق کو مشترکہ طور پر دریافت کیا جا سکتا ہے۔ وفاقی وزیر نے برطانوی کمپنیوں کو پاکستان میں مواقع تلاش کرنے کی دعوت دیتے ہوئے ان کی زیادہ شمولیت کی حوصلہ افزائی کی۔ جین میریٹ نے آف شور ایکسپلوریشن میں برطانیہ کی مضبوط صلاحیتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس شعبے میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ پاکستان کی حالیہ آف شور بولی کے عمل کو مثبت ردِعمل ملا ہے جس میں ترک پیٹرولیم کی شرکت شامل تھی اور تجویز دی کہ برطانوی کمپنیاں پاکستان کے سرکاری اداروں کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے مشترکہ طور پر تلاش و پیداوار کی سرگرمیوں میں حصہ لے سکتی ہیں۔
وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے برطانوی ہائی کمشنر کو 8 اور 9 اپریل کو منعقد ہونے والے پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم (پی ایم آئی ایف) میں شرکت کی دعوت بھی دی۔ جین میریٹ نے گزشتہ سال منعقد ہونے والے پی ایم آئی ایف کو متاثر کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ کی جانب سے آئندہ فورم میں مؤثر شرکت کو یقینی بنانے کے لیے بالخصوص خصوصاً سروس فراہم کرنے والی برطانوی کمپنیوں سے رابطہ کیا جائے گا۔
ملاقات میں دونوں فریقین نے توانائی اور معدنیات کے شعبوں میں پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تعاون کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا، جس کا مقصد پائیدار ترقی، سرمایہ کاری کے فروغ اور ادارہ جاتی مضبوطی ہے۔








