اسلام آباد۔22جنوری (اے پی پی):پاکستان اورانڈونیشیا نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ معدنیات، ایکسپلوریشن اور توانائی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے رابطے جاری رکھے جائیں گے اور عملی مواقع تلاش کیے جائیں گے جس سے دونوں ممالک کے مضبوط دوطرفہ تعلقات کو مزید تقویت ملے گی۔ یہ بات وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک اورپاکستان میں انڈونیشیا کے سفیرچندرا وارسینتو سوکوتجو کے درمیان گفتگو …
وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک اور انڈونیشیا کے سفیر کے درمیان ملاقات، معدنیات، ایکسپلوریشن اور توانائی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال

مزید خبریں
اسلام آباد۔22جنوری (اے پی پی):پاکستان اورانڈونیشیا نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ معدنیات، ایکسپلوریشن اور توانائی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے رابطے جاری رکھے جائیں گے اور عملی مواقع تلاش کیے جائیں گے جس سے دونوں ممالک کے مضبوط دوطرفہ تعلقات کو مزید تقویت ملے گی۔ یہ بات وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک اورپاکستان میں انڈونیشیا کے سفیرچندرا وارسینتو سوکوتجو کے درمیان گفتگو میں کہی گئی۔ وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے پاکستان میں انڈونیشیا کے سفیرچندرا وارسینانتو سوکوتجو سے ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا، بالخصوص معدنیات اور تلاش (ایکسپلوریشن) کے شعبے پر خصوصی توجہ دی گئی۔جمعرات کو پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیر نے سفیر کا پرتپاک استقبال کیا اور پاکستان اور انڈونیشیا کے تعلقات کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے مسلم دنیا میں انڈونیشیا کے اہم کردار کو اجاگر کرتے ہوئے مختلف شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی پاکستان کی خواہش کا اعادہ کیا۔ملاقات کے دوران انڈونیشیا کے سفیر نے پاکستان کے معدنی شعبے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ انڈونیشیا کی سرکاری کمپنی پیٹرٹامینا (Pertamina) کو تلاش و دریافت کے شعبے میں وسیع تجربہ حاصل ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تلاش کے شعبے میں تعاون کے مواقع تلاش کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا اور پاکستان کان کنی کے شعبے میں بھی تعاون کر سکتے ہیں۔
اس موقع پر وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے انڈونیشیا کی دلچسپی کا خیرمقدم کرتے ہوئے حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے معدنیات اور تلاش کے شعبے میں بے پناہ غیر استعمال شدہ صلاحیت موجود ہے اورانڈونیشیائی کمپنیوں کو پاکستانی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے باہمی فائدہ مند منصوبوں پر کام کرنے کی ترغیب دی۔وفاقی وزیر نے انڈونیشیا کے وفد کو پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم (پی ایم آئی ایف ) 2026ء میں شرکت کی باضابطہ دعوت بھی دی۔
انہوں نے بتایا کہ پی ایم آئی ایف 2026ء ایک کہیں زیادہ بڑے پیمانے کا ایونٹ ہوگا اور پاکستان کی خواہش ہے کہ انڈونیشیائی کمپنیوں کی بھرپور شرکت دیکھنے میں آئے۔ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ معدنیات، تلاش اور توانائی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے رابطے جاری رکھے جائیں گے اور عملی مواقع تلاش کیے جائیں گے جس سے پاکستان اور انڈونیشیا کے مضبوط دوطرفہ تعلقات کو مزید تقویت ملے گی۔








