اسلام آباد۔5مارچ (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے اٹلی کے دورے کے دوران روم میں منعقدہ ’آرکٹک سرکل‘ فورم میں ’’ویو فرام پاکستان: کلائمٹ اینڈ پولز‘‘ کے موضوع پر تقریب میں شرکت کی جس میں انہوں نے گلیشیئرز کے پگھلاؤ، سمندری سطح میں اضافے اور شدید موسمی حالات کے تباہ کن اثرات سے پیدا ہونے والی کمزوریوں کو اجاگر کیا۔ جمعرات …
وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک کی اٹلی میں منعقدہ’’آرکٹک سرکل، فورم میں ’’ویو فرام پاکستان: کلائمٹ اینڈ پولز‘‘کے موضوع پر تقریب میں شرکت

مزید خبریں
اسلام آباد۔5مارچ (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے اٹلی کے دورے کے دوران روم میں منعقدہ ’آرکٹک سرکل‘ فورم میں ’’ویو فرام پاکستان: کلائمٹ اینڈ پولز‘‘ کے موضوع پر تقریب میں شرکت کی جس میں انہوں نے گلیشیئرز کے پگھلاؤ، سمندری سطح میں اضافے اور شدید موسمی حالات کے تباہ کن اثرات سے پیدا ہونے والی کمزوریوں کو اجاگر کیا۔ جمعرات کووزارت موسمیاتی تبدیلی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرنے ’’سائنس ڈپلومیسی فار تھرڈ پول‘‘ کے عنوان سے پینل ڈسکشن میں خطاب کرتے ہوئے مشترکہ ماحولیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے سائنس پر مبنی تعاون،ماحولیاتی انصاف اور تحقیقی اداروں و پالیسی سازوں کے درمیان مضبوط روابط پر زور دیا۔
انہوں نے نیشنل ریسرچ کونسل آف اٹلی (سی این آر) میں منعقدہ ’’پولر ڈائیلاگ‘‘ اورہائی لیول مباحثوں میں بھی حصہ لیا۔ سفارتخانے نے روم فورم کے موقع پردوطرفہ ملاقاتوں کا اہتمام کیا، جن میں اولفور راگنار گریمسن، چیئرمین آرکٹک سرکل (سابق صدر آئس لینڈ) کیٹرین جیکوبسٹیر،سابق وزیر اعظم آئس لینڈ چیئر پولر ڈائیلاگ ،وزیر خارجہ گرین لینڈویوین موٹزفیلڈ، کینیڈا کی وزارت خارجہ کی پارلیمانی سیکرٹری مونا فورٹیر، ناروے کی وزارت خارجہ کے سٹیٹ سکریٹری ایونڈ وڈ پیٹرسن، اسٹیٹ آرکٹک ایشوز پر یورپی یونین کی سابق سفیر میری این کونینکس شامل تھے۔ وزیر نے اٹلی کی وزیر برائے یونیورسٹیز اینڈ ریسرچ انا ماریا برنینی اور اطالوی وزارت خارجہ کے تحت اطالوی ایجنسی برائے ترقیاتی تعاون (اے آئی سی ایس ) کے ڈائریکٹر مارکو رسکونی سے بھی ملاقات کی۔
اٹلی کی سب سے بڑی پبلک یونیورسٹی ‘لا سیپینزا’ میں وفاقی ز وزیر کے لیے اعلیٰ سطحی تعلیمی بات چیت کا انعقاد بھی مشن کی جانب سے کیا گیا ۔ اس موقع پر وفاقی وزیر نے پروفیسر جیوسیپ سیکارون، پرو ریکٹر بین الاقوامی تعاون اور پروفیسر روڈلفو نیگری، چارلس ڈارون شعبہ حیاتیات اور بائیو ٹیکنالوجی کے سربراہ کے ساتھ تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے تحقیقی سہولیات کا دورہ کیا اور پاکستان کے ساتھ ممکنہ تعلیمی روابط پر بات چیت کی۔ مشن کی جانب سےوفاقی وزیر کے لئے اٹلی کی سب سے بڑی سرکاری جامعہ لا ساپینزا میں اعلیٰ سطحی تعلیمی ملاقات کا بھی اہتمام کیا گیا ۔
وزیر نے تحقیقی سہولیات کا دورہ کیا اور پاکستان کے ساتھ ممکنہ تعلیمی روابط پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقاتوں اور بات چیت کے دوران، وزیر نے محققین، طلبا اور اختراع کاروں کو جوڑنے کے لیے ‘ورچوئل گرین یونیورسٹی’ کی تجویز پیش کی۔ ‘کلائمیٹ رسک کیپٹل فنڈ’، نوجوان موسمیاتی ٹیکنالوجی کاروباریوں اور اسٹارٹ اپس کی مالی اعانت کے لیے اور مساوی رسائی اور مشترکہ آب و ہوا کی اختراع کے لیے ‘گرین انٹلیکچوئل پراپرٹی کی تجویز دی۔ اپنی تقاریر اور ملاقاتوں کے دوران وفاقی وزیر نے ’’ورچوئل گرین یونیورسٹی‘‘ کے قیام کی تجویز پیش کی تاکہ محققین، طلبہ اور جدت کاروں کو جوڑا جا سکے۔
’’کلائمٹ رسک کیپیٹل فنڈکے قیام کی تجویز دی تاکہ نوجوان کلائمٹ ٹیک کاروباری افراد اور اسٹارٹ اپس کو مالی معاونت فراہم کی جا سکے اور ماحولیاتی جدت تک منصفانہ رسائی اور مشترکہ استفادہ یقینی بنانے کے لیےگرین انٹلیکچوئل پراپرٹی‘‘ کی تجویز دی۔ وزیر ملک نے اطالوی نیشنل سینٹر فار ریسرچ میں صدر سی این آر اینڈریا لینزی کی میزبانی میں منعقدہ مباحثے میں بھی شرکت کی، جہاں انہوں نے حیاتیاتی تنوع، کرائیوسفیئر اسٹڈی اور ماحولیاتی پائیداری کے موضوعات پر ممتاز اطالوی سائنسدانوں اور محققین سے تبادلہ خیال کیا۔
اسکائی ٹی جی 24 ٹی وی کے ساتھ وفاقی وزیر کی بات چیت کا بھی اہتمام کیا گیا۔ انہوں نے موسمیاتی ڈپلومیسی پر پاکستان کے نقطہ نظر کا خاکہ پیش کیا اور موسمیاتی تبدیلی کے بڑے اثرات سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون بڑھانے پر زور دیا۔ آرکٹک سرکل کے صدر اور چیئرپرسن کی جانب سے پیش کردہ پریزنٹیشن میں پاکستان کو پہلی مرتبہ آئندہ اسمبلی کے پلینری اجلاس میں بطور کلیدی مقرر شرکت کی غیر معمولی دعوت دی گئی، جو 8 تا 10 اکتوبر 2026 کو ریجاوک، آئس لینڈ میں منعقد ہوگی۔ وفاقی وزیر کی جامع اور ہمہ جہت سرگرمیوں کا اہتمام اور رابطہ سفارتخانے کے تھرڈ سیکریٹری شاہنواز خان نے کیا جن میں پالیسی سازوں، فیصلہ سازوں، محققین، تعلیمی حکام اور میڈیا کے ممتاز حلقوں میں پاکستان کا مؤقف اور موسمیاتی بیانیہ مؤثر انداز میں اجاگر کیا گیا۔








