اسلام آباد ۔ 29 جنوری (اے پی پی) وفاقی وزیر ہوا بازی و نجکاری محمد میاں سومرو نے کہا ہے کہ محفوظ،مستعد،پائیدار اور اقتصادی طور پر موثر شہری ہوابازی کے لیے بنائی جانے والی عالمی پالیسیوں اور گائیڈ لائینز کی پاکستان بھرپور حمایت کرتاہے، ایک مضبوط اور قابل انحصار فضائی آمدورفت کا نظام (ائیر ٹرانسپورٹ سسٹم)بنانے کے لیے پاکستان نے اپنے ائیرنیویگیشن انفرااسٹرکچرکو جدید خطوط پراستوارکردیا ہے،کمیونیکیشن ،نیو یگیشن اور …
وفاقی وزیر ہوا بازی و نجکاری محمد میاں سومرو کا اجلاس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 29 جنوری (اے پی پی) وفاقی وزیر ہوا بازی و نجکاری محمد میاں سومرو نے کہا ہے کہ محفوظ،مستعد،پائیدار اور اقتصادی طور پر موثر شہری ہوابازی کے لیے بنائی جانے والی عالمی پالیسیوں اور گائیڈ لائینز کی پاکستان بھرپور حمایت کرتاہے، ایک مضبوط اور قابل انحصار فضائی آمدورفت کا نظام (ائیر ٹرانسپورٹ سسٹم)بنانے کے لیے پاکستان نے اپنے ائیرنیویگیشن انفرااسٹرکچرکو جدید خطوط پراستوارکردیا ہے،کمیونیکیشن ،نیو یگیشن اور سرویلینس کا جدید سسٹم نصب کر دیا گیا ہے ،گوادر انٹرنیشنل ائیر پورٹ کی تعمیر سے نہ صرف ملکی ائیر ٹرانسپورٹ سسٹم مستحکم ہو گا بلکہ اس سے ملکی اقتصادی ترقی میں بھی تیزی آئے گی۔وہ منگل کو جنوبی ایشیا کے آٹھ ممالک کے کوآپریٹو پروگرام برائے شہری ہوابازی( سی او ایس سی اے پی ۔ایس اے )کی اسٹیرئنگ کمیٹی کے تین روزہ27ویں اجلاس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کر رہے تھے ۔پاکستان کے شہری ہوابازی کے شعبہ کی حالیہ کارکردگی کے حوالے سے وفاقی وزیر نے بتایا کہ حال ہی میں شروع کیا گیا اسلام آباد انٹرنیشنل ائیرپورٹ ملک کا پہلا گرین فیلڈائیر پورٹ ہے اور اس کے علاوہ ملک کے بیشتر انٹرنیشنل ائیر پورٹس کو اپ گریڈکیا جا چکا ہے۔محمد میاں سومرو نے کہا کہ جنوبی ایشیاءمیں شہری ہوا بازی کو محفوظ بنانے کے لیے حفاظتی معیارات پر عملدرآمد ہونا چائیے۔انہوں نے کہا کہ شہری ہوابازی کو مزید محفوظ بنانے کے لیے مذکورہ کوآپریٹو پروگرام کے رکن ممالک کے مابین پائیدار، پرامن اور باہم جوڑنے والے تعلقات بڑھانے میں اجلاس کا انعقاداہم کردار ادا کرے گا۔قبل ازیں اپنے استقبالیہ خطاب میں سیکریٹری ایوی ایشن ڈویژن اور ڈائیریکٹرجنرل پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی سکواڈرن لیڈر (ریٹائرڈ)شاہ رخ نصرت نے کہا کہ شہری ہوابازی کے شعبہ میں پاکستان پائیدار ترقی کے فلسفے پر یقین رکھتاہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی ایوی ایشن پالیسی کی جدید تقاضوں کے مطابق ہم آہنگی،ریگولیشنز میں نئی قوت کے ساتھ حکومتی کردار ،شہری ہوابازی کے حفاظتی امورمیں استحکام ،مارکیٹ تک رسائی اور ٹریفک کے حقوق میں آزاد پالیسیوں کے ساتھ ساتھ ائیر پورٹس کو جدید بنا دینا شہری ہوابازی میں پائیدارترقی کے لیے کی گئی ہماری کو ششوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔انہوں نے کہا کہ سول ایوی ایشن اتھارٹیز بنیادی طور پر تو ریگولیٹرز ہیں تاہم شہری ہوابازی کی ترقی اور پائیداری کے لیے انہیں ہر ممکن سہولیات بھی فراہم کرنی ہونگی۔انہوں نے کہا کہ سٹیرنگ کمیٹی کا یہ اجلاس محض ایک اجلاس نہیں بلکہ رکن ممالک میں محفوظ شہری ہوابازی یقینی بنانے کی خاطر نگرانی کی استعداد کو مستحکم اور عملدار آمد موثر بنانے کے لیے مستقل کوشش کرنے کے عزم کا اظہار ہے۔سی او ایس سی اے پی ۔ایس اے کے چیئرمین اور مالدیپ کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے سربراہ حسین جلیل نے عالمی ہوا بازی تنظیم کے پیشہ ورانہ مہارتوں کے تقاضوں کو پورا کرنے اورشہری ہوابازی کے حفاظتی معیارات کو فروغ دینے کے حوالے سے کی گئی کوششوں پر روشنی ڈالی۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مذکورہ پروگرام جنوبی ایشیا میں شہری ہوابازی سے جڑی افرادی قوت کو تربیت فراہم کر کے بھرپور مدد کر رہا ہے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے شہری ہوا بازی کی عالمی انجمن کے ایشیاءپیسفک خطے کے ریجنل ڈائریکٹرارون مشرا نے کہا کہ سال 2018ءمیں سوا چار ارب کے لگ بھگ مسافروں نے فضائی سفر کیا جن کی تعداد سال 2017کے مقابلے میں6.1فیصد زیادہ رہی۔انہوں نے انکشاف کیا کہ گزشتہ سال دنیا میں 1.4ارب سیاحوں میں سے نصف نے فضائی ذرائع آمدورفت استعمال کیئے جبکہ قدرکے حساب سے فضائی ذرائع آمدورفت عالمی تجارت کا 35فیصد رہی۔ ارن مشرا نے بتایا کہ ایشیاء پیسفک کا خطہ فضائی ذرائع آمدورفت میں تیز ترین نمو حاصل کرنے والا خطہ ہے۔ جہاں7.3فیصد اضافہ دیکھاگیا۔انہوں نے بتایا کہ جنوبی ایشیائی ممالک کی شہری ہوا بازی کے معیارات کی پاسداری کرنے کی سطح68.59فیصد ہے جو کہ مذکورہ عالمی سطح 67.03فیصد سے زائد ہے۔انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا کی فضائی ذرائع آمدوفت کی صنعت میں متحرک نمو کو دیکھتے ہوئے شہری ہوابازی سے جڑے تمام لوگوں اور اداروں کو نمو کے چیلنجز سے نبردآزماہونے کے لیے عزم مصمم کرنا چاہیے تاکہ شہری ہوا بازی کے زیادہ سے زیادہ ثمرات سمیٹے جاسکیں۔انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ شہری ہوابازی کے حفاظتی نگرانی کے نظام سے جڑی افرادی قوت میں اہلیت کی کمی ،اس کی مسحکم نمو کی رکاوٹوں میں سے ایک رکاوٹ ہے۔سی او ایس سی اے پی ۔ایس اے کی چیف ٹیکنیکل ایڈوائزر میری ہیلین زبرکی نے اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے 27ویں اجلاس کے اغراض ومقاصد پر روشنی ڈالی اور اجلاس کے تینوں روز کے ایجنڈا کی تفصیلات بتائیں۔انہوں نے مندوبین کے فردا فردا تعارف کے مرحلے کی بھی نظامت کی۔واضح رہے کہ سی او ایس سی اے پی ۔ایس اے شہری ہوابازی کی عالمی انجمن کے تحت جاری ایک کوآپریٹوپروگرام ہے جس کے ارکان جنوبی ایشیا کے آٹھ ممالک افغانستان،بنگلہ دیش،بھوٹان،انڈیا،مالدیپ،نیپال، پاکستان اور سری لنکا ہیں۔سی او ایس سی اے پی ۔ایس اے کا بنیادی مقصد شہری ہوابازی کے شعبہ میں تربیت اور تیکنیکی امداد کی فراہمی کے ذریعے رکن ممالک کی مذکورہ شعبہ میں استعدادبڑھانا ہے۔ائیر بس،بوئنگ،ڈائریکٹریٹ جنرل ایوی ایشن فرانس،یورپی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی،فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن امریکہ اوردیگرشہری ہوابازی کے عالمی ادارے سی او ایس سی اے پی ۔ایس اے کی معاونت کرتے ہیں۔سی او ایس سی اے پی ۔ایس اے کا آغاز 1998ءمیں ہوا۔ اب تک اس پروگرام کے چارمراحل مکمل ہو چکے ہیں۔اور اب یہ اپنے پانچویں مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔سی او ایس سی اے پی ۔ایس اے کو ایک سٹیرنگ کمیٹی چلاتی ہے۔جس کے ممبران اس کے رکن ممالک کی سول ایوی ایشن انتظامیہ کے ڈائیریکٹرز جنرل، آئی سی اے او ٹیکنیکل کوآپریشن بیورو کے ڈائریکٹر، ایشیاءپیسفک ریجن آئی سی اے اوکے ریجنل ڈائیریکٹراورسی او ایس سی اے پی۔ایس اے کے چیف ٹیکنیکل ایڈوائزرہیں۔ سی او ایس سی اے پی۔ایس اے کی اسٹیرنگ کمیٹی کا سال میں کم ازکم ایک اجلاس ہوتا ہے اوراب تک رکن ممالک کے مختلف شہروں میں اس کے 26اجلاس ہو چکے ہیں۔اس کا 27واں اجلاس منگل کو شروع ہوچکا ہے جو کہ 31جنوری تک جاری رہے گا ،اس کی میزبانی پاکستان جبکہ اس کا انتظام پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کر رہی ہے۔








