اسلام آباد ۔ 31 مارچ (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے اس عزم کو دہرایا ہے کہ ایک طرف عوام کو کورونا وائرس وباءسے بچانا اور دوسری جانب عوام کو بھوک‘ افلاس اور بے روزگاری سے بھی محفوظ رکھنا ہے‘ وفاقی کابینہ نے قومی رابطہ کمیٹی کے فوڈ سپلائی کے لئے گڈز ٹرانسپورٹ کھولنے کے فیصلے پر سندھ حکومت کی جانب سے عملدرآمد نہ کرنے پر عدم اطمینان کا …
وفاقی کابینہ نے 1200 ارب کے معاشی ریلیف پیکیج اور 700 بلین کا ہدف حاصل کرنے کےلئے سکوک بانڈ کے اجراءکی منظوری دیدی‘ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی میڈیا بریفنگ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 31 مارچ (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے اس عزم کو دہرایا ہے کہ ایک طرف عوام کو کورونا وائرس وباءسے بچانا اور دوسری جانب عوام کو بھوک‘ افلاس اور بے روزگاری سے بھی محفوظ رکھنا ہے‘ وفاقی کابینہ نے قومی رابطہ کمیٹی کے فوڈ سپلائی کے لئے گڈز ٹرانسپورٹ کھولنے کے فیصلے پر سندھ حکومت کی جانب سے عملدرآمد نہ کرنے پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور رینجرز کو ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ قومی رابطہ کمیٹی کے فیصلوں پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمدی یقینی بنایا جائے‘ وزیراعظم عمران خان نے کورونا وائرس متاثرہ لوگوں کی تذلیل اور بدسلوکی کا نوٹس لیتے ہوئے ہدایات دیں کہ کورونا وائرس کے مریضوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آیا جائے ‘ وفاقی کابینہ نے 1200 ارب کے معاشی ریلیف پیکیج اور 700 بلین کا ہدف حاصل کرنے کےلئے سکوک بانڈ کے اجراءکی منظوری دیدی‘ وفاقی کابینہ نے ریلوے‘ پی آئی اے‘ ایف بی آر اور ایکس چیکر پر بوجھ بننے والے اداروں کو اصلاحات کے ذریعے اپنے پاﺅں پر کھڑا کرنے‘ ای گورننس پر عملدرآمد کو مزید مو¿ثر بنانے کی ہدایت دی‘ کابینہ نے اپوزیشن لیڈر کی تنقید اور الزامات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وزیراعظم‘ وفاقی کابینہ اور پی ٹی آئی قیادت ذمہ داریوں سے آگاہ ہیں‘ یہ وقت سیاست کا نہیںہے‘ اگر اپوزیشن لیڈر بہتری چاہتے ہیں تو بغض‘ عناد کی عینک اتار کر مزید مو¿ثر بہتر اقدامات کےلئے تجاویز دیں۔ منگل کو وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ وزیراعظم عمران خان نے کورونا کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے کابینہ کو اعتماد میں لیا اور کورونا وائرس سے بچاﺅ اور اس کے منفی اثرات کو روکنے اور منفی اثرات سے بچانے کے لئے اٹھائے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں اب تک کیے گئے فیصلوں اور اس کے عوام پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیا ۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی کابینہ کو وزیر صحت ظفر مرزا اور ڈاکٹرفیصل نے کورونا وائرس کی تازہ ترین صورتحال کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اب تک پاکستان میں کورونا وائرس کے مصدقہ 1865 کیسز ہیں ان میں سے 49 فیصد افراد ایران سے جبکہ 18 فیصد دیگر ممالک (عمرہ ‘ یورپ یا دیگر ممالک) آئیں جبکہ 33فیصد کورونا وائرس کے مقامی منتقلی کے کیسز ہیں‘ اب تک کورونا وائرس پازیٹو کے 98افراد صحت یاب‘ 25 اموات‘ 12 کورونا وائرس مریض وینٹیلیر پر ہیں جبکہ 58 کو قرنطینہ سے گھر بھجوایا گیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کابینہ کو بتایا کہ کورونا وائرس کی مجموعی صورتحال کا یومیہ کی بنیاد پرجائزہ لینے کے بعد پالیسیز مرتب کر کے عوام کو اس کے اثرات سے آگاہ کرنے کے لئے لائحہ عمل واضح کیا جاتا ہے۔ وزیراعظم نے کابینہ کو اس صورتحال کو دو طرح سے حل کرنے کی حکمت عملی بارے اعتماد میں لیتے ہوئے کورونا وائرس وباءسے بچاﺅ اور حفاظتی تدابیر اور اس کے ساتھ جڑے اقدامات جو عوام کی بہتری کے لئے چاروں صوبائی حکومتوں بشمول آزاد وجموں کشمیر گلگت بلتستان حکومتوں کی باہم مشاورت سے کیے گئے فیصلوں ‘ کرونا وائرس کے شکار پاکستانی شہریوں کی زندگیوں پر رونما ہونے والے اثرات اور حکومت کے کانٹیجنسی پلان آف ایکشن سے آگاہ کیا۔ وفاقی کابینہ نے 1200 ارب کے وزیراعظم معاشی ریلیف پیکیج کی توثیق کی۔ وزیراعظم عمران خان نے اس موقع پر اس عزم کو دہرایا کہ ہم نے ایک طرف عوام کو کورونا وائرس وباءمرض سے بچانا اور اور اس بات پر کڑی نظررکھنی ہے کہ غربت کی نچلی سطح پر زندگی گذارنے والوں کا بھوک افلاس اور بے روزگاری کے ہاتھوں قتل نہ ہو‘ بنیادی ضرورت کی اشیاءکی فراہمی پر کسی قسم کی قدغن نہیں آنا چاہئے۔ معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بتایا کہ قومی رابطہ کمیٹی کے فیصلوں میں طے ہوا تھا کہ چاروں صوبائی حکومتیں ‘آزاد جموں کشمیر ‘گلگت بلتستان میں فوڈ چین کے لئے گڈز ٹرانسپورٹ کھولی جائے گی لیکن بدقسمتی سے سندھ حکومت نے ان فیصلوں پر انکی روح کے مطابق عمل نہیں ہوا‘ انتظامی وجوہات کی وجہ سے بے شمار چیلنجز کا سامنا ہے ‘ ٹرانسپورٹیشن بند ہونے‘ لیبر نہ ہونے اور لوڈنگ کے مسائل کی وجہ سے سپلائی چین تعطل کا شکار ہے اس پر وزیراعظم اور وفاقی کابینہ نے عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کرتے ہوئے رینجرز کو ہدایات دیں کہ وہ اس عمل اوربلاتعطل سپلائی چین کو یقینی بنایا جائے ۔ کابینہ کے اجلاس میں وزیراعظم کے نوٹس میں لایا گیا کہ کرونا کے متاثرین میں جب کسی بھی مریض میں کرونا وائرس مثبت آجاتا ہے تو اسے اچھوت کے طور پر لیا جا رہا ہے اور سکیوٹی اہلکار جو ان کی تذلیل اور سلوک کرتے ہیں وہ کریمنل ایکٹ ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے اس عمل پر ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی طرح بنیادی حقوق سلب کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ‘ان مریضوں کے ساتھ حسن سلوک کے ساتھ پیش آیا جائے اور ان مریضوں کو ہر ممکن سہولیات دیںجائیں اور زبردستی قرنطینہ میں دھکیلنے کا عمل روک کر باعزت طریقے سے بھجوایا جائے ۔ وفاقی کابینہ نے مقامی سکوک بانڈ کے اجراءکی منظوری دیدی ‘ 19مرتبہ مختلف حکومتوں نے اس سکوک کا اجراءکیا ‘ مقامی سکوک بانڈ اسلامی بینکنگ کو فروغ اور شریعہ فنانسنگ میں اضافہ ہوگا ‘ملائیشیا اسلامی بینکنگ کو فروغ دینے والا پہلا ملک ہے ‘یہ سکوک بانڈ تین سال کے لئے جاری کےے جارہے ہیں اس سے لیکوڈیٹی کے ایشو‘ ریٹرن کی موجودہ صورتحال بہتر ہوگی اس کا ہدف 700بلین رکھا گیا ہے ۔ اجلاس میں احساس پروگرام کی جانب سے تمام اقدامات کابینہ کے سامنے رکھے گئے جس کے مطابق 150ارب روپے ‘ ایک کروڑ 20 لاکھ خاندانوں کو ایس ایم ایس کے ذریعے پہنچانے جارہے ہیں ۔ ثانیہ نشتر نے کابینہ کو آگاہ کیا کہ نچلی سطح پر کیش منتقلی کو مستحقین تک پہنچانے کا ایک ایسا لائحہ عمل اور طریقہ کا ر ہے جس میںشفافیت کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کا سہارا لیا جارہا ہے اور رقوم براہ راست مستحقین کو بائیو میٹرک کے ذریعے منتقل ہونے جارہی ہے ‘ تمام سیاسی قیادت ‘ایم این ایز ‘ایم پی ایز اپنے اپنے صوبوں ‘ضلعوں اور دیہات کی سطح پر یقینی بنائیں اور عوام کے ان دکھوں اور مشکلات کو بانٹنے میں اپنا اپنا کردار ادا کریں ۔وفاقی کابنیہ نے ای سی سی کے فیصلوں کی توثیق اور15بین الاقوامی پروٹوکول کنونشن کی منظوری دی۔ وزیراعظم عمران خان نے بھٹہ مزدوروں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے وزیر سمندر پار پاکستانیز کو ہدایت دی کہ جامع لیبر پالیسی صوبوں کے ساتھ ملکر لائی جائے۔ 18ویں ترمیم کے بعد لیبرصوبوں کی ذمہ داری ہے ‘چاروں صوبوں میں مل بیٹھ کر سی سی آئی کے اندر لازمی قرار دیکر اس کو حتمی شکل دی جائے ‘ لیبر پالیسی میں مزدوروں کی نوکری ‘ صحت کا تحفظ شامل ہونا چاہیے ۔وزیراعظم نے ریلوے ،ایف بی آر، پی آئی اے میں اصلاحات اوراداروں میں ای گورننس کے فروغ کی ہدایت کی۔ تمام وزارتوں اور ڈویژنوں کو کہا گیا ہے کہ پیپر فری عمل کو یقینی بنانے کے لئے معلومات اپنی ویب سائیٹ پر ڈالیں اور عوام کو ٹیکنالوجی سے جوڑا جائے ۔ کابینہ نے کرونا وائرس کی آڑ میں اپوزیشن لیڈر کی جانب سے سیاست کے گندھے کھیل پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ کرونا کے خلاف قومی اتحاد کو پارہ پارہ کرنے والے عوام دوست نہیں ہوسکتے۔ معاون خصوصی نے کہا کہ قومی رابطہ کمیٹی میں تمام صوبوں اور جماعتوں کی نمائندگی ہے کیونکہ ہر صوبے میں مختلف سیاسی جماعت کی حکومت ہے ‘قومی رابطہ کمیٹی میں تمام قیادت کے اتفاق رائے سے فیصلے ہوتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف نے سیاسی دوکانداری لگا کر سیاسی طور پر زندہ رہنے کی کوشش کی کیونکہ اپوزیشن لیڈر کے پاس کرنے کے لئے کچھ اور نہیں ہے ‘ وہ صرف کرونا وائرس کو سیاسی آکسیجن کا ذریعہ بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اپوزیشن لیڈرکی کرونا زدہ سوچ کو پس پشت ڈال کر مزید بہتری کے لئے تجاویز بھی مانگی اورہر طرح سے بطور جماعت اور سٹیک ہولڈر آن بورڈ بھی لیا لیکن ‘ اپوزیشن لیڈر مسلسل نہ صرف تنقید کررہے ہیں بلکہ منفی رویہ سے کرونا کے خلاف حکومت کی اب تک جدوجہد اور جنگ شروع کو داغدار اور کمزور کرنے کا ذریعہ بنے ہیں ‘اپوزیشن لیڈر اپنی کرونا زدہ سوچ قرنطینہ کے اندر ہی رکھیں تو بہتر ہے ۔ معاون خصوصی ڈاکٹر فرودس عاشق اعوان نے کہا کہ شہباز شریف فائیو سٹار ہوٹل میں بیٹھ کر الیکچر دینے کی بجائے کوئی عملی کام کرتے نظر آتے تو اچھا تھا‘ وزیراعظم ‘کابینہ اورپی ٹی آئی قیادت ذمہ داریوں سے آگاہ ہے‘ یہ وقت سیاست کا نہیںہے ‘اگر اپوزیشن لیڈربہتری چاہتے ہیں کہ مزید موثر اقدامات ہو تو اس کےلئے تجاویز دیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر جس صحت کے شعبے پر انگلی اٹھا رہے ہیں‘ پنجاب کی صورتحال پر وہ خودہی جوابدہ ہیں‘ جاتی عمرہ میں قرنطینہ میں بیٹھ کر حکومت پر تنقید کر رہے ہیں۔ امید اور ترقع ہے کہ اپوزیشن لیڈر وزیراعظم کرونا ریلیف فنڈ میں وسائل اور اثاثوں سے رقم عطیہ کر کے عوام دوستی ثابت کریں گے۔








