ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ امریکا سے سٹریٹجک شراکت داری مضبوط ہوگی،سعودی کابینہ

ریاض۔19نومبر (اے پی پی):سعودی کابینہ نے کہا ہے کہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ امریکا سے سٹریٹجک شراکت داری مضبوط ہوگی۔اردو نیوز کے مطابق خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیر صدارت ریاض میں کابینہ کے اجلاس میں علاقائی و عالمی حالات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ کابینہ کو گزشتہ دنوں سعودی عرب کی مختلف ممالک کے ساتھ ہونے والی بات چیت، ولی عہد …

ریاض۔19نومبر (اے پی پی):سعودی کابینہ نے کہا ہے کہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ امریکا سے سٹریٹجک شراکت داری مضبوط ہوگی۔اردو نیوز کے مطابق خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیر صدارت ریاض میں کابینہ کے اجلاس میں علاقائی و عالمی حالات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ کابینہ کو گزشتہ دنوں سعودی عرب کی مختلف ممالک کے ساتھ ہونے والی بات چیت، ولی عہد کو کوریا اور ایران کے صدر کی جانب سے ارسال کیے گئے مکتوب کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔

اجلاس نے خلیج تعاون کونسل کے وزرائے داخلہ کے 42 ویں اجلاس میں سعودی عرب کی علاقائی اور بین الاقوامی میٹنگزمیں کی جانے والی شرکت کے حوالے سے آگاہ کیا گیاجس میں سلامتی کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے مربوط کارروائیوں کی اہمیت پر زور دیا گیا جوممالک کے تحفظ اور خطے کی ترقی کے لیے معاون ثابت ہوں۔

وزیر مملکت اور قائمقام وزیر اطلاعات ڈاکٹر عصام بن سعد نے بتایا کہ کابینہ اجلاس میں سیاحتی شعبے میں عالمی سطح پر مملکت کی کامیابی کوسراہا گیا خاص کر اقوام متحدہ کی سیاحتی تنظیم کی جنرل اسمبلی کے 26 ویں اجلاس کے ریاض اعلامیےکو خاص قرار دیا جو اس شعبے میں مستقبل کے حوالے سے مزید جامع و پائیدار روڈ میپ کو واضح کرنے کے لیے اہم ہوگا۔

اجلاس نے آئندہ سال مملکت میں ہونے والی انٹرنیشنل اے آئی کانفرنس کے چوتھے ایڈیشن کے انعقاد کو سراہا اور اسے جدت اور ڈیجیٹل تبدیلی کے حوالے سے جاری کوششوں کو اہم قرار دیا۔ریاض میں ہونے والے ڈیجیٹل گورنمنٹ فورم کو وقت کی ضرورت قرار دیا جس کا مقصد مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے شہریوں اور سیاحوں کو فراہم کی جانے والی خدمات کو جامع اور بہتر بنانا ہے۔

کابینہ کے ارکان نے مقامی سطح پر مواد کو تیار کرنے کی پالیسی کو سراہتے ہوئے اس میں اضافے کی کوششوں کو قابل قدر قراردیا۔اس حوالے سے توقع ظاہر کی گئی کہ عسکری شعبے میں لوکلائزیشن سال 2030 تک 50 فیصد سے تجاوز کرجائے گی جو سال 2024 کے آخر تک 24.89 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔

اجلاس کے اختتام پر ایجنڈے میں شامل مختلف نکات پر تبادلہ خیال کیا گیا جن میں شوری کونسل کی جانب سے ارسال کی جانے والی سفارشات کے علاوہ مختلف ممالک کے ساتھ باہمی مشترکہ شعبوں میں تعاون کے لیے مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کی منظوری دی گئی۔