ویکسین کی مقامی تیاری کے لئے سعودی عرب اور انڈونیشیا کے ساتھ سٹریٹجک شراکت داری پر عملی پیشرفت ہو رہی ہے، سید مصطفیٰ کمال

اسلام آباد۔4فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ صحت کے شعبے میں ایک اہم اور تاریخی اقدام جس کے تحت پاکستان میں ویکسین کی مقامی تیاری کے لئے سعودی عرب اور انڈونیشیا کے ساتھ سٹریٹجک شراکت داری پر عملی پیشرفت ہو رہی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے بتایا کہ وزارتِ صحت نے گزشتہ …

اسلام آباد۔4فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ صحت کے شعبے میں ایک اہم اور تاریخی اقدام جس کے تحت پاکستان میں ویکسین کی مقامی تیاری کے لئے سعودی عرب اور انڈونیشیا کے ساتھ سٹریٹجک شراکت داری پر عملی پیشرفت ہو رہی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے بتایا کہ وزارتِ صحت نے گزشتہ سات ماہ کے دوران پاکستان کے ویکسینیشن نظام، درپیش چیلنجز اور مستقبل کی ضروریات کا تفصیلی جائزہ لیا اور اس بنیاد پر مقامی ویکسین تیاری کی جامع حکمتِ عملی مرتب کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت 13 بیماریوں سے بچاؤ کے لئے ویکسین قومی روٹین امیونائزیشن پروگرام کے تحت مفت فراہم کی جا رہی ہیں جن میں حال ہی میں سروائیکل کینسر سے بچاؤ کے لئے ایچ پی وی ویکسین بھی شامل کی گئی ہے، یہ ویکسین حکومتِ پاکستان کی جانب سے گھر کی دہلیز تک فراہم کی جاتی ہیں۔وفاقی وزیر کے مطابق پاکستان اس وقت سالانہ 400 سے 500 ملین امریکی ڈالر مالیت کی ویکسین درآمد کرتا ہے جس میں عالمی ادارہ گاوی، ڈبلیو ایچ او، یونیسف اور گیٹس فاؤنڈیشن کی معاونت شامل ہے۔

موجودہ مرحلے میں پاکستان 51 فیصد لاگت خود برداشت کرتا ہے تاہم 2031 تک یہ عالمی معاونت مکمل طور پر ختم ہو جائے گی اور پاکستان کو ویکسین کی مکمل لاگت خود برداشت کرنا ہو گی جس کا تخمینہ سالانہ 1.2 بلین امریکی ڈالر ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت متبادل انتظامات نہ کئے گئے تو ویکسینیشن پروگرام متاثر ہو سکتا ہے جس کے نتیجے میں بیماریوں میں اضافہ اور صحت کے نظام پر ناقابلِ برداشت دباؤ پیدا ہو جائے گا۔وفاقی وزیر صحت نے بتایا کہ اسی تناظر میں پاکستان نے ویکسین کی مقامی تیاری کے لئے سعودی عرب اور انڈونیشیا سے اعلیٰ سطحی مذاکرات کئے۔

سعودی عرب کے وزیر صحت اور وزیر صنعت سے متعدد ملاقاتوں کے بعد باہمی تعاون پر اتفاق ہوا جس کے نتیجے میں سعودی حکومت کا 11 رکنی اعلیٰ سطحی وفد دو روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچا ہے۔انہوں نے بتایا کہ وفد نے پاکستان میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ)، ریگولیٹری اداروں، نجی شعبے اور ایس آئی ایف سی کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں اور پاکستان کی تکنیکی صلاحیتوں میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔وفاقی وزیر کے مطابق پاکستان نے پہلی مرتبہ قومی ویکسین پالیسی مرتب کر لی ہے جس میں حکومت کی جانب سے ویکسین خریداری کی گارنٹی، ویکسین الائنس کا قیام اور مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لئے واضح فریم ورک شامل ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ انڈونیشیا کی سرکاری بائیو فارما کمپنی کے ساتھ بھی ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور تعاون کے معاہدوں کو حتمی شکل دی جا رہی ہے اور سعودی عرب، انڈونیشیا اور پاکستان کے درمیان سہ فریقی تعاون کے تحت پاکستان کو ویکسین پروڈکشن کا علاقائی مرکز بنانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ ویکسین کی تیاری منافع بخش کاروبار نہیں بلکہ ایک سٹریٹجک قومی ضرورت ہے جس کے ذریعے نہ صرف عوامی صحت کو تحفظ دیا جائے گا بلکہ مستقبل کے صحت کے بحرانوں سے بھی ملک کو بچایا جا سکے گا۔

انہوں نے اس پیشرفت کو پاکستان کے صحت کے شعبے میں ایک تاریخی اور انقلابی قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ آنے والے دنوں میں پاکستان نہ صرف ویکسین میں خود کفیل ہو گا بلکہ عالمی منڈی میں ویکسین برآمد کرنے والا ملک بھی بنے گا۔ آخر میں وفاقی وزیر نے قوم سے دعا اور تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی سات ماہ کی مسلسل محنت، بین الاقوامی رابطوں اور ٹھوس پالیسی فیصلوں کا نتیجہ ہے۔

 

مزید خبریں