امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ ڈاک کے ذریعے ووٹنگ (میل اِن ووٹنگ) کے قواعد سخت کرنے اور ووٹرز کی اہلیت سے متعلق وفاقی فہرستیں تیار کرنے سے متعلق صدارتی حکم نامے کو نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل نافذ کرنے کی اجازت دی جائے۔
ٹرمپ انتظامیہ کی سپریم کورٹ سے میل اِن ووٹنگ کے سخت قواعد نافذ کرنے کی اجازت کی درخواست

مزید خبریں
واشنگٹن۔28جولائی (اے پی پی):امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ ڈاک کے ذریعے ووٹنگ (میل اِن ووٹنگ) کے قواعد سخت کرنے اور ووٹرز کی اہلیت سے متعلق وفاقی فہرستیں تیار کرنے سے متعلق صدارتی حکم نامے کو نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل نافذ کرنے کی اجازت دی جائے۔
شنہوا کے مطابق امریکی محکمہ انصاف نے سپریم کورٹ میں ہنگامی درخواست دائر کرتے ہوئے ماتحت عدالتوں کے ان فیصلوں کو معطل کرنے کی استدعا کی، جن کے تحت اس حکم نامے پر عمل درآمد روک دیا گیا تھا۔ ٹرمپ انتظامیہ کا موقف ہے کہ نئی انتخابی پالیسیوں پر وسط مدتی انتخابات سےقبل عمل درآمد ضروری ہے۔ڈونلڈٹرمپ نے مارچ میں اس حکم نامے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت وفاقی اداروں کو اہل امریکی شہریوں کی فہرستیں مرتب کرنے، امریکی پوسٹل سروس کو صرف رجسٹرڈ ووٹرز کو ڈاک کے ذریعے ووٹنگ سے متعلق دستاویزات بھیجنے اور ووٹر رجسٹریشن کے قواعد مزید سخت کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔زیادہ تر ڈیموکریٹک پارٹی کی قیادت والی ریاستوں اور ڈسٹرکٹ آف کولمبیا نے اس حکم نامے کو عدالت میں چیلنج کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے آئینی اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔
ریاست میساچوسٹس کی ایک وفاقی عدالت نے حکم نامے پر عمل درآمد روک دیا تھا، جسے بعد ازاں امریکی فرسٹ سرکٹ کورٹ آف اپیلز نے بھی برقرار رکھا۔ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد انتخابی عمل کی شفافیت کو یقینی بنانا اور غیر ملکی شہریوں کو ووٹ ڈالنے سے روکنا ہے۔ وہ 2020 کے صدارتی انتخابات کی شفافیت پر بھی مسلسل سوالات اٹھاتے رہے ہیں، جن میں انہیں شکست ہوئی تھی۔ناقدین کا کہنا ہے کہ غیر ملکی شہریوں کی جانب سے غیر قانونی ووٹنگ کے واقعات انتہائی کم ہوتے ہیں، جبکہ سخت ضوابط کے باعث کئی اہل ووٹرز کے لیے ووٹ ڈالنا مشکل ہو سکتا ہے۔غیر جانبدار تنظیم اسٹیٹس یونائیٹڈ ڈیموکریسی سینٹر کی ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق، 2024 کے عام انتخابات میں تقریباً ایک تہائی امریکیوں نے ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالا، جن کی تعداد 4 کروڑ 80 لاکھ سے زائد تھی۔رپورٹ کے مطابق ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے والوں میں تقریباً ہر چار میں سے ایک ڈیموکریٹ، ہر پانچ میں سے ایک ریپبلکن اور دیگر جماعتوں یا غیر جماعتی ووٹرز میں بھی تقریباً ہر پانچ میں سے ایک شامل تھا۔








