وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کی ضروریات اور نجی ملکیتی حقوق کے درمیان مناسب توازن یقینی بنانا ناگزیر ہے
ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کی ضروریات اور نجی ملکیتی حقوق کے درمیان مناسب توازن یقینی بنانا ناگزیر ہے، اعظم نذیر تارڑ

مزید خبریں
اسلام آباد۔17اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کی ضروریات اور نجی ملکیتی حقوق کے درمیان مناسب توازن یقینی بنانا ناگزیر ہے ،رائٹ آف وے سے متعلق قانونی ابہام دور کرکے ایک واضح، شفاف اور موثر قانونی فریم ورک تشکیل دیا جائے گا۔یہ بات انہوں نے پیر کو پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ری آرگنائزیشن (ترمیمی) بل 2026 میں رائٹ آف وے کی شقوں کے جائزے سے متعلق قائم کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ، وزارت قانون و انصاف اور وزارت آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں رائٹ آف وے سے متعلق مجوزہ ترامیم اور موجودہ قانونی فریم ورک کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جبکہ ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کی تنصیب اور رائٹ آف وے کے استعمال سے متعلق قانونی امور پر بھی غور کیا گیا۔
شرکا نے عوامی، مشترکہ ترقیاتی اور نجی املاک کے حوالے سے وفاقی، صوبائی اور مقامی اداروں کے دائرہ اختیار کو واضح کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔اجلاس میں نجی ملکیت پر ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کی تنصیب کے لیے مالک کی تحریری رضامندی، معاوضے اور دیگر قانونی تقاضوں کے طریقہ کار کا بھی جائزہ لیا گیا۔ سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ شہریوں کے ملکیتی حقوق کے تحفظ کے ساتھ ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی کے فروغ کو یقینی بنایا جائے گا اور اس مقصد کے لیے ایسا قانونی فریم ورک مرتب کیا جائے گا جو تمام متعلقہ فریقوں کے حقوق اور مفادات کا تحفظ کرے۔انہوں نے کہا کہ رائٹ آف وے کے استعمال کے لیے شفاف، واضح اور قابل عمل طریقہ کار ضروری ہے جبکہ ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی توسیع کے ساتھ املاک کے مالکان کے حقوق کا تحفظ بھی یقینی بنایا جانا چاہیے۔اجلاس میں نئی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو قواعد و ضوابط کے ذریعے قانونی دائرے میں شامل کرنے کی تجویز بھی زیر غور آئی۔
مزید برآں ٹیلی کام کمپنیوں اور متعلقہ پراپرٹی مالکان کی ذمہ داریوں کو واضح کرنے، انفراسٹرکچر کی تنصیب کے بعد املاک کی حفاظت، دیکھ بھال اور بحالی سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔وفاقی وزیر نے وزارت آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن کو ہدایت کی کہ مجوزہ قانونی مسودے میں ممکنہ قانونی اور عملی مسائل کو دور کرتے ہوئے اسے حتمی شکل دے کر کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے۔







