ٹیکسٹائل شعبہ ملکی برآمدات میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے،صنعت کی جانب سے تجاویز اور سفارشات کا بجٹ سازی کے عمل میں تفصیل سے جائزہ لیا جائیگا،وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کی ٹیکسٹائل صنعت کے وفد سے ملاقات میں گفتگو
ٹیکسٹائل شعبہ ملکی برآمدات میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے،صنعت کی جانب سے تجاویز اور سفارشات کا بجٹ سازی کے عمل میں تفصیل سے جائزہ لیا جائیگا،وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کی ٹیکسٹائل صنعت کے وفد سے ملاقات میں گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد۔12مئی (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے ملک کی معاشی ترقی اور برآمدات میں ٹیکسٹائل شعبے کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے صنعت کی جانب سے تجاویز اور سفارشات کا بجٹ سازی کے عمل میں تفصیلی جائزہ لینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔انہوں نے یہ بات منگل کویہاں پاکستان کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی صنعت کے اعلیٰ سطح کے وفد سے تفصیلی ملاقات میں کہی۔ وفد میں ملک بھر سے نمایاں چیمبرز، ایسوسی ایشنز، برآمد کنندگان اور صنعت سے وابستہ اہم شخصیات شریک تھیں۔
وفد نے وفاقی بجٹ 2026-27 کے لیے تجاویز اور سفارشات پر مشتمل جامع پیکیج پیش کیا جس کا مقصد ملک کی ٹیکسٹائل صنعت اور برآمدی شعبے کی مسابقت، پائیداری اور طویل المعیاد ترقی کو مضبوط بنانا تھا۔ وفد نے اس امر پر زور دیا کہ ٹیکسٹائل کا شعبہ پاکستان کی معیشت میں نہایت اہم کردار ادا کر رہا ہے، یہ برآمدات، روزگار کی فراہمی، صنعتی سرگرمیوں اور زرمبادلہ کے حصول کا ایک بڑا ذریعہ ہے، صنعت کو بدلتی ہوئی عالمی منڈی اور بڑھتے ہوئے علاقائی مقابلے کا موثر انداز میں سامنا کرنے کے لیے ایک مستحکم، ترقی دوست اور بین الاقوامی معیار کے مطابق مسابقتی پالیسی ماحول فراہم کرنا ضروری ہے۔
وفد نے ٹیکس اصلاحات، توانائی کی مناسب قیمتوں، برآمدات میں سہولت، صنعتی جدیدکاری، مالیاتی روانی، سرمایہ کاری کے فروغ اور کاروبار میں آسانی سے متعلق متعدد پالیسی سفارشات پیش کیں۔ ان تجاویز کا مقصد پیداواری لاگت میں کمی، صنعتی استعداد میں اضافہ، برآمد کنندگان کی مالی پوزیشن کو بہتر بنانا، ٹیکنالوجی کی اپ گریڈیشن کی حوصلہ افزائی اور سرمایہ کار دوست و پیشگوئی کے قابل کاروباری ماحول پیدا کرنا تھا۔صنعتی نمائندوں نے اس بات پر زور دیا کہ بروقت پالیسی معاونت اور ڈھانچہ جاتی اصلاحات پاکستان کی برآمدی مسابقت کو بہتر بنانے، ویلیو ایڈڈ مینوفیکچرنگ کے فروغ، ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کے حصول اور عالمی سپلائی چینز میں بہتر انضمام میں مددگار ثابت ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ برآمد کنندگان کے لیے سازگار کاروباری ماحول صنعتی توسیع، روزگار میں اضافے اور معاشی ترقی کو فروغ دے گا، اس سے مالیاتی استحکام اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے میں بھی مدد ملے گی۔
وفد نے دیرینہ انتظامی اور ڈھانچہ جاتی مسائل کے حل کی ضرورت پر بھی زور دیا جو صنعتی پیداواریت اور برآمدی کارکردگی کو متاثر کر رہے ہیں جن میں موثر ریفنڈ نظام، توانائی کی قیمتوں کا معقول تعین، برآمد کنندگان کے لیے سہولیات اور کاروباری ضابطوں کی پیچیدگی میں کمی شامل ہیں۔ اس بات پر روشنی ڈالی گئی کہ ایسی اصلاحات سے نقدی کے بہائو کے انتظام میں بہتری، سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ اور صنعتوں کو توسیع، جدیدکاری اور افرادی قوت کی ترقی پر زیادہ وسائل خرچ کرنے کا موقع ملے گا۔ تجاویز میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ ایسی پالیسی تشکیل دی جائے جو جدت طرازی کی حوصلہ افزائی کرے، ویلیو ایڈیشن کو فروغ دے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو سہولت فراہم کرے اور عالمی طلب کے بدلتے رجحانات کے مطابق صنعتی تنوع کو بڑھائے۔
وفد نے کہا کہ پاکستان کے ٹیکسٹائل شعبے کی مسابقت میں بہتری سے برآمدات، صنعتی پیداوار، روزگار اور معاشی استحکام میں اضافے کے ذریعے پوری معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔وزیرخزانہ نے ٹیکسٹائل شعبے کے نمائندوں کی جانب سے پیش کی گئی تعمیری تجاویز اور قیمتی آراء کو سراہا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت کاروباری برادری کے ساتھ باقاعدہ اور بامعنی مشاورت جاری رکھے گی جس کے لیے وزارت خزانہ کے ٹیکس پالیسی آفس کے ذریعے چیمبرز، تجارتی اداروں اور ایسوسی ایشنز سے سال بھر رابطہ رکھا جائے گا تاکہ مشاورت کے عمل کو ادارہ جاتی شکل دی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد صرف بجٹ سے چند ماہ قبل محدود مشاورت کی سابقہ روایت کو ختم کرنا اور زیادہ موثر، شفاف اور جوابدہ معاشی پالیسی سازی کو یقینی بنانا ہے۔
وزیر خزانہ نے معیشت کے اہم شعبوں میں شفافیت، دستاویزی نظام اور بہتر ٹیکس تعمیل کے فروغ کے لیے ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹمز کے نفاذ پر بھی گفتگو کی۔ انہوں نے وفد کو آگاہ کیا کہ چینی، سیمنٹ، مشروبات اور تمباکو سمیت کئی بڑے شعبوں میں ڈیجیٹل مانیٹرنگ کا نظام پہلے ہی نافذ کیا جا چکا ہے اور یہ اقدام بلاامتیاز تمام اداروں پر لاگو کیا گیا ہے، حتیٰ کہ ان شعبوں میں بھی جہاں وزیراعظم کے خاندان سے وابستہ کاروباری یونٹس موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد ٹیکنالوجی پر مبنی نظام کے ذریعے شفافیت، کارکردگی، منصفانہ مقابلے اور محصولات کے انتظام کو بہتر بنانا ہے۔ وزیر خزانہ نے ٹیکسٹائل شعبے کو صنعت میں اسی نوعیت کے ڈیجیٹل مانیٹرنگ نظام کے تدریجی نفاذ میں حکومت کے ساتھ تعاون کرنے کی دعوت دی۔اس موقع پر بتایا گیا کہ ٹیکسٹائل سیکٹر کی بعض ایسوسی ایشنز اور صنعتی یونٹس اس معاملے پر پہلے ہی ایف بی آر ٹیموں کے ساتھ رابطے میں ہیں اور کچھ یونٹس میں ابتدائی پائلٹ منصوبے بھی شروع کیے جا چکے ہیں۔
ٹیکسٹائل صنعت کے نمائندوں نے شفافیت اور دستاویزی نظام کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے حکومت اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا تاکہ ایسے قابلِ عمل حل تلاش کیے جا سکیں جو صنعت کے منفرد آپریشنل ڈھانچے، سپلائی چین اور پیچیدگیوں کو مدنظر رکھیں۔ شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ حکومت اور صنعت کے درمیان مسلسل رابطہ ایک عملی اور دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند نظام کی تشکیل میں مدد دے گا۔ وزیر خزانہ نے معاشی ترقی اور برآمدات میں ٹیکسٹائل شعبے کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ اجلاس میں پیش کی گئی تجاویز اور سفارشات کا بجٹ سازی کے عمل میں تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
اجلاس میں ٹیکسٹائل شعبے کی نمایاں شخصیات جن میں خرم مختار،جاویدبلوانی فوادانور،رحمان نسیم،شہزاداصغر،عامرعبداللہ،کامران ارشد،شہزادسلیم،سہیل پاشا اورخواجہ مسعود شریک تھے۔ اے پی ٹی ایم اے،پی ٹی ای اے،پی ایچ ایم اے،پی ٹی سی،پریگما،اے پی بی یوایم اے،ٹی ایم اے،پی ڈی ایم ای اے،پی بی ای اے کے نمائندوں کی جانب سے وفاقی بجٹ 2026-27 کے لیے ٹیکسٹائل شعبے کی مشترکہ سفارشات پیش کی گئی۔








