ٹیکس سے مستثنیٰ افراد کو سپلائی پر 4 فیصد اضافی سیلز ٹیکس عائد نہیں کیا جا سکتا، وفاقی آئینی عدالت کا تفصیلی فیصلہ
ٹیکس سے مستثنیٰ افراد کو سپلائی پر 4 فیصد اضافی سیلز ٹیکس عائد نہیں کیا جا سکتا، وفاقی آئینی عدالت کا تفصیلی فیصلہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔1جون (اے پی پی):سیلز ٹیکس سے قانونی طور پر مستثنیٰ اور رجسٹریشن سے مبرا افراد کو سامان کی فراہمی کی بنیاد پر سپلائرز سے 4 فیصد اضافی سیلز ٹیکس وصول نہیں کیا جا سکتا، وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیتے ہوئے پولٹری فیڈ مینوفیکچررز اور پولٹری فارمرز کے حق میں فیصلہ سنا دیا۔رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق وفاقی آئینی عدالت کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محمد کریم خان آغا پر مشتمل دو رکنی بینچ نے پولٹری فیڈ انڈسٹری سے متعلق پانچ درخواستوں پر مشترکہ فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے لاہور ہائی کورٹ کا 4 دسمبر 2025ء کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے ٹیکس حکام کے احکامات بھی منسوخ کر دیئے۔فیصلے کے مطابق کمشنر ان لینڈ ریونیو لاہور نے 11 ستمبر 2024ء کو قرار دیا تھا کہ پولٹری فیڈ تیار کرنے والی کمپنیاں چونکہ اپنی مصنوعات غیر رجسٹرڈ پولٹری فارمرز کو فروخت کرتی ہیں، اس لیے وہ سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی دفعہ 3(1A) کے تحت 4 فیصد اضافی ٹیکس ادا کرنے کی پابند ہیں۔
درخواست گزاروں نے موقف اختیار کیا تھا کہ پولٹری فارمرز سیلز ٹیکس ایکٹ کی دفعہ 13 اور چھٹے شیڈول کے تحت سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ ہیں، اس لیے ان کے لیے سیلز ٹیکس رجسٹریشن لازم نہیں۔ مزید یہ کہ پولٹری فیڈ مینوفیکچررز باقاعدگی سے رجسٹرڈ ہیں اور قانون کے مطابق سیلز ٹیکس ادا کر رہے ہیں، لہٰذا صرف اس بنیاد پر اضافی ٹیکس عائد نہیں کیا جا سکتا کہ خریدار رجسٹرڈ نہیں۔عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ دفعہ 3(1A) کا مقصد کاروباری افراد کو سیلز ٹیکس رجسٹریشن حاصل کرنے اور فعال ٹیکس دہندہ بننے کی ترغیب دینا ہے تاہم جن افراد کو قانون نے خود سیلز ٹیکس سے استثنیٰ دے رکھا ہو اور جن کے لیے رجسٹریشن لازمی نہ ہو، ان پر اس دفعہ کا اطلاق نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ سیلز ٹیکس ایکٹ کی دفعات 3(1A)، 13، 14 اور 2(41) کو یکجا طور پر پڑھنے سے واضح ہوتا ہے کہ پولٹری فارمرز قانوناً رجسٹریشن کے پابند نہیں، اس لیے ان کو سامان فراہم کرنے والے پولٹری فیڈ مینوفیکچررز پر اضافی ٹیکس عائد کرنا قانون کے منشاء کے خلاف ہے۔عدالت نے مزید قرار دیا کہ پولٹری فیڈ مینوفیکچررز پر اضافی ٹیکس کا بوجھ بالآخر پولٹری فارمرز پر منتقل ہوتا جو نہ صرف غیر منصفانہ بلکہ سیلز ٹیکس کے قانونی نظام سے بھی مطابقت نہیں رکھتا۔وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو غلط قانونی تشریح قرار دیتے ہوئے تمام درخواستیں منظور کر لیں، انہیں اپیلوں میں تبدیل کر کے قبول کیا اور ٹیکس حکام کے جاری کردہ احکامات بھی کالعدم قرار دے دیئے۔








