ٹیکس کے دائرہ کار میں وسعت، چھوٹے دکانداروں کے لئے فکسڈ ٹیکس کی تجاویز ہیں،وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب

ٹیکس کے دائرہ کار میں وسعت، چھوٹے دکانداروں کے لئے فکسڈ ٹیکس کی تجاویز ہیں،وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب

اسلام آباد۔12جون (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے انکم ٹیکس کے ریونیو اقدامات کے حوالہ سے اپنی بجٹ تقریر میں جامع ریونیو اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیکس کے دائرہ کار میں وسعت، چھوٹے دکانداروں کے لئے فکسڈ ٹیکس کی تجاویز ہیں۔ جمعہ کو قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم کئی دہائیوں سے پاکستان کے خوردہ فروشوں کو دستاویزی معیشت کا حصہ بنانے کی کوشش کرتے آ رہے ہیں۔ چھوٹے دوکاندار اپنے اردگرد کے لوگوں کو ملازمت فراہم کرتے ہیں اور کراچی سے لے کر چترال تک ہر گلی کوچے اور بازار کی تجارتی سرگرمیوں کا اہم حصہ ہیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ چھوٹے دکانداروں کی اکثریت ابھی تک ٹیکس نظام سے باہر ہے۔

اس حوالہ سے رواں سال ہم نے اپنی حکمت عملی کو تبدیل کیا ہے پاکستان بھر میں چھوٹے دکانداروں اور ان کے نمائندوں کے ساتھ مشاورت کی ہے، ان کے ساتھ مل بیٹھے ہیں، ان کی باتیں سنیں اور اس بھر پور مشاورت کے بعد دوکاندار طبقے کے مطالبہ پر ہم نے ایک ایسا منصوبہ تیار کیا ہے جس میں انتظامی سہولتوں کی بجائے دکانداروں کے حقیقی خدشات کو مقدم رکھا گیا ہے۔ انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 993 کے تحت چھوٹے دکانداروں کے لئے فکسڈ ٹیکس سسٹم متعارف کرانے کی تجویز ہے۔

اس سسٹم میں وہ دکاندار آ سکتے ہیں جن کی سالانہ فروخت20 کروڑ روپے یا اس سے کم ہے۔ وہ اس نظام کے تحت اپنی سالانہ سیلز کا ایک فیصد ٹیکس ادا کریں گے۔ اس ٹیکس میں وہ اپنا ود ہولڈنگ ٹیکس ایڈجسٹ کرا سکیں گے مگر گوشوارہ جمع کراتے وقت انہیں کم از کم 25 ہزار روپے جمع کرانا ہو گا۔ روٹین میں کوئی آڈٹ نہیں ہو گا۔ خریداری پر ودہولڈنگ کی کوئی ذمہ داری نہیں ہوگی اور انہیں POS مشین رکھنے سے استثنا ہو گا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ جو دکاندار فکسڈ ٹیکس سسٹم کا انتخاب کرے گا اس کو سبز رنگ کی ایک تختی دی جائے گی جس پر ایک تصدیقی کیو آر چسپاں ہوگا جو ان دکانوں پر آویزاں ہو گی۔ اس تختی کی موجودگی میں ایف بی آر اہل کاروں کو پوچھ گچھ کےلیے دکان میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہو گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سکیم کے تحت ایک سادہ اور ایک صفحے کا ٹیکس گوشوارہ ہو گا جو اردو کے علاوہ تمام بڑی مقامی زبانوں میں بھی دستیاب ہو گا۔

مزید خبریں