ٹیکنالوجی پر مکمل پابندی حل نہیں، پانی کی طرح اپنا راستہ بنا لیتی ہے، بچوں کے محفوظ آن لائن مستقبل کے لیے شواہد پر مبنی پالیسی سازی اور والدین کا کردار ناگزیر ہے، وفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ
ٹیکنالوجی پر مکمل پابندی حل نہیں، پانی کی طرح اپنا راستہ بنا لیتی ہے، بچوں کے محفوظ آن لائن مستقبل کے لیے شواہد پر مبنی پالیسی سازی اور والدین کا کردار ناگزیر ہے، وفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔12اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ انٹرنیٹ اور جدید ٹیکنالوجی پر مکمل پابندی مسائل کا حل نہیں کیونکہ ٹیکنالوجی پانی کی طرح اپنا راستہ خود تلاش کر لیتی ہے، اس لیے بچوں کو آن لائن خطرات سے بچانے کے لیے مکمل بندش کے بجائے مناسب ریگولیشن، شواہد پر مبنی پالیسی سازی اور والدین کی رہنمائی ناگزیر ہے۔وہ پیر کو ’’سیف سکرول: پروٹیکٹنگ آور چلڈرن آن لائن‘‘ کے عنوان سے منعقدہ تقریب سے خطاب کررہے تھیں۔پینل گفتگو سیشن میں وزیر مملکت قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک، چیئرپرسن چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئربیورو ایم پی اے سائرہ احمد،ڈائیریکٹر جنرل پی ٹی اے محمد عارف سرغانہ، اسامہ خلجی نے اس موضوع پر روشنی ڈالی۔
وفاقی وزیر شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ بچوں کے لیے انٹرنیٹ اور سکرین کے استعمال کو کس حد تک کھلا رکھنا ہے اور کہاں حدود طے کرنی ہیں، اس حوالے سے ہمیں فکری اور نظریاتی وضاحت کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ دنیا بھر بالخصوص او ای سی ڈی کے 20 سے 25 ممالک میں بچوں کے سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے استعمال کو ریگولیٹ کرنے کے لیے مختلف فریم ورکس اور قوانین زیرِ غور ہیں جن میں آسٹریلیا، ملائیشیا اور تھائی لینڈ جیسے ممالک پیش پیش ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر ہم ٹیکنالوجی یا مخصوص پلیٹ فارمز پر پابندی لگائیں گے تو بچے وی پی این کے ذریعے ان تک رسائی حاصل کر لیں گے جس سے وہ ہمارے کنٹرول سے بالکل باہر ہو جائیں گے اور غیر مناسب، نامناسب یا غیر اخلاقی مواد تک پہنچ سکتے ہیں۔ آج کی نسل ڈیجیٹل دنیا میں پیدا ہوئی ہے، ہم اپنے ماضی کے مائنڈ سیٹ سے ان کے رویوں اور ضروریات کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں یہ مانا جاتا ہے کہ اکیلی حکومتیں اس بات کی مکمل ضمانت نہیں دے سکتیں کہ کون سا بچہ 16 سال سے کم عمر ہے اور آن لائن کیا کر رہا ہے، اسی لیے عالمی سطح پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور پلیٹ فارمز پر بھی ذمہ داری ڈالی جا رہی ہے کہ وہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) اور دیگر جدید ٹولز کے ذریعے عمر کی تصدیق اور مواد کی جانچ کو یقینی بنائیں۔شزہ فاطمہ خواجہ نے واضح کیا کہ چائلڈ گرومنگ، ڈاکسنگ، جنسی استحصال اور بچوں کا سائبر سپیس میں استحصال سنگین جرائم ہیں جن کی روک تھام کے لیے حکومت نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کو فعال کیا ہے اور اسے بہترین پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے حامل افسران کے ساتھ مضبوط بنایا جا رہا ہے تاکہ ایسے عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
وفاقی وزیر نے آگاہی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وزارت آئی ٹی نے گوگل کے اشتراک سے ’’سیف رہو‘‘ پروگرام متعارف کرایا جس میں پیرنٹل کنٹرولز اور فیملی سیفٹی پر کام کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ ٹیلی نار اور این سی آر سی کے ساتھ مل کر 100 سرکاری سکولوں میں ساڑھے بارہ ہزار طلبہ، اساتذہ اور والدین کو ڈیجیٹل سیفٹی کی تربیت دی گئی۔ میٹا (Meta) کے ساتھ بھی بچوں کے اکائونٹس میں سخت اے آئی کنٹرولز نافذ کرنے پر پیش رفت ہوئی ہے جبکہ پی کے سرٹ (PK-CERT) اور یونیسیف کے باہمی اشتراک سے ’’جونیئر سائبر ہیروز‘‘ کے تحت بچوں میں آگاہی پھیلائی جا رہی ہے۔شزہ فاطمہ خواجہ نے قانون سازی کے حوالے سے بتایا کہ مجوزہ ’’پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن بل‘‘ اور ’’نیشنل سائبر سکیورٹی پالیسی‘‘ میں بچوں کے ڈیٹا کے تحفظ، پرائیویسی اور والدین کی ڈیجیٹل رضامندی (Digital Consent) کے فریم ورک کو خصوصی ترجیح دی جا رہی ہے تاکہ بچوں کے ذاتی ڈیٹا اور تصاویر کا غلط استعمال روکا جا سکے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت اڑھائی کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں اور جدید تعلیم و سٹیم (STEM) مضامین کی فراہمی کے لیے انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل ذرائع انتہائی کارآمد ثابت ہو رہے ہیں۔ اگر ہم جدید پلیٹ فارمز کو مکمل بند کر دیں گے تو مستقبل کے تعلیمی تقاضے پورے نہیں ہو سکیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ اگر ہم نے اپنے بچوں کو ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت (AI) اور ریاضی کے میدان میں خود تخلیق کار نہ بنایا تو ہم گلوبل لیول پر اپنے کلچر، زبان اور بیانیے کی شناخت برقرار نہیں رکھ سکیں گے۔انہوں نے تعلیمی اداروں اور والدین پر زور دیا کہ پرائمری اسکولوں میں سکرین کا غیر ضروری استعمال کم کیا جائے اور سکولوں میں شہریوں کی بنیادی تربیت اور اخلاقیات کی تعلیم کا احیاء کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تربیت کا متبادل قوانین نہیں ہو سکتے، جب تک والدین اپنے بچوں کے ساتھ بامعنی مکالمہ اور متوازن نگرانی قائم نہیں کریں گے تب تک دیرپا نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے۔






