اسلام آباد۔11نومبر (اے پی پی):بینک دولت پاکستان کے گورنر جمیل احمد نے کہاہے کہ سرمایہ کاری حاصل کرنے کے قابل مربوط سرمایہ منڈیوں کی تشکیل، لچکداری بڑھانے اور پورے ایشیا میں پائیدار ترقی کو فروغ دینے کے لیے وسیع تر علاقائی تعاون اور جدت طرازی کی ہنگامی ضرورت ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہارمنگل کوکراچی میں منعقد ہونے والی انٹرنیشنل کیپٹل مارکیٹ کانفرنس 2025ء کے افتتاح کے موقع پر …
پائیدار ترقی اور مالی استحکام کو فروغ دینے کے لیے علاقائی سرمایہ منڈیوں کی یکجائی ضروری ہے، گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد

مزید خبریں
اسلام آباد۔11نومبر (اے پی پی):بینک دولت پاکستان کے گورنر جمیل احمد نے کہاہے کہ سرمایہ کاری حاصل کرنے کے قابل مربوط سرمایہ منڈیوں کی تشکیل، لچکداری بڑھانے اور پورے ایشیا میں پائیدار ترقی کو فروغ دینے کے لیے وسیع تر علاقائی تعاون اور جدت طرازی کی ہنگامی ضرورت ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہارمنگل کوکراچی میں منعقد ہونے والی انٹرنیشنل کیپٹل مارکیٹ کانفرنس 2025ء کے افتتاح کے موقع پر اپنے کلیدی خطاب میں کیا۔
جمیل احمد نے تقریب کی میزبانی کرنے اور پورے خطے کے پالیسی سازوں، ضابطہ کاروں اور مارکیٹ کے شرکا کے درمیان اشتراک کے لیے ایک پلیٹ فارم تخلیق کرنے پر ایس ای سی پی کو سراہا۔ ”سرمایہ منڈیوں کا علاقائی اشتراک اور جدت طرازی: تعاون کا ایک نیا دور“ کے موضوع پراپنے خیالات کااظہارکرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ کوئی ملک اکیلا رہ کر آج کے معاشی اور مالی چیلنجوں سے نمٹ نہیں سکتا،دنیا میں ممالک کے درمیان روابط بڑھ رہے ہیں، ان حالات میں علاقائی مارکیٹ کی یکجائی آپشن نہیں بلکہ ضرورت بن چکی ہے۔
گورنر جمیل احمد نے اپنے خطاب میں سرمایہ مارکیٹ کی یکجائی کے تین پہلوئوں علاقائی یکجائی کیوں اہم ہے، یہ مقصد موثرانداز میں کیسے حاصل کیا جا سکتا ہے اور پاکستان کس طرح کا کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہے، پرگفتگو کی۔ گورنر نے کہا کہ علاقائی سرمایہ منڈیاں سرمائے کے موثر بہائو، ہم آہنگ ضوابط اور سرمایہ کاری کے وسیع مواقع کی فراہمی ممکن بناتی ہیں۔
بچتوں کی کم شرح رکھنے والی اور خصوصاً ماحولیات اور انفراسٹرکچر کے منصوبوں کے لیے بینک فنانسنگ کی محدود استعداد والی معیشتوں کے لیے علاقائی منڈیوں کی یکجائی فنانسنگ کا اہم ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ’جب سرمایہ زیادہ موثرانداز میں مختص کیا جاتا ہے تو معاشی نمو زیادہ شمولیت کی حامل، لچکدار اور پائیدار ہوجاتی ہے‘۔ گورنر نے ایسٹرن کیریبین سکیورٹیز مارکیٹ اور آسیان + 3 ایشین بانڈ مارکیٹ جیسی کامیاب مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے وضاحت کی کہ یکجائی کے نتیجے میں ٹرانزیکشن کی لاگت میں کمی، خطرے کو متنوع بنانے اور سرمایہ کاروں کی تعداد بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔
انہوں نے یہ با ت اجاگر کی کہ آسیان + 3 کی بانڈ مارکیٹس جو 2002ء میں جی ڈی پی کا 88 فیصد تھیں، 2025ء میں ان کا حصہ بڑھ کر 133 فیصد تک پہنچ گیا ہے، یہ اجتماعی علاقائی اقدامات کی طاقت کو ظاہر کرتی ہے۔ گورنر سٹیٹ بینک نے ایشیا میں اس طرح کے فوائد حاصل کرنے کی غرض سے چار اہم پیشگی شرائط کا ذکر کیا جن میں ضوابطی فریم ورکس میں ہم آہنگی، مارکیٹ کنکٹیوٹی انفراسٹرکچر کی تشکیل، قانونی اور ادارہ جاتی ڈھانچے کی ہم آہنگی اور ضابطہ کاروں اور مارکیٹ کے شرکا کے درمیان اشتراک کو مضبوط بنانا شامل ہیں۔
انہوں نے خبردار بھی کیا کہ اس یکجائی سے متعدی اور عدم توازن کے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، جنہیں نگرانی کے مضبوط فریم ورکس اور مضبوط معاشی روابط کے ذریعے کم کیا جانا چاہیے۔ پاکستان کے کردار پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ معاشی استحکام کے بعد ملک ساختی اصلاحات کے لیے اب بہتر حالت میں ہے۔ سٹیٹ بینک وژن 2028ء اور حکومت کے ’اڑان پاکستان‘ منصوبے کے تحت قرضوں تک رسائی بڑھانے، جدت کو فروغ دینے، مضبوط اور ٹیکنالوجی سے لیس ایک فنانشل ایکو سسٹم کی تشکیل کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
گورنر سٹیٹ بینک نے کیپٹل مارکیٹوں کی علاقائی اور مقامی یکجائی کو آگے بڑھانے کے لیے سٹیٹ بینک کے کلیدی اقدامات پر روشنی ڈالی۔ ان اقدامات میں عرب مانیٹری فنڈ کے ’بونا‘ پلیٹ فارم کے ساتھ اشتراک کے ذریعے فوری ادائیگی کے ملکی نظام ’راست‘ کو ملکی سرحدوں سے باہر توسیع دینا، نیز بینکاری، بیمہ اور سرمایہ منڈیوں میں سرمایہ کاروں کی رسائی کو آسان بنانے کی خاطر ایس ای سی پی اورپاکستان سٹاک ایکسچینج کے ساتھ ایک یکجا ڈیجیٹل شناخت اور کے وائی سی (صارف کی شناخت جانیے) فریم ورک کی تشکیل شامل ہیں۔
اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہاکہ ہماری سرمایہ منڈیوں کی یکجائی ایک تاریخی موقع کا مظہر ہے جس کے توسط سے ہم ملک کو ترقی دینے کے لیے اپنی بچتوں کو بروئے کار، مالی استحکام کو مضبوط کرنے اور عالمی مالی نظام میں اپنی اجتماعی آواز کو بڑھاسکتے ہیں۔ اس وژن کے حصول کے لیے مستقل سیاسی عزم، ضوابطی تعاون اور باہمی اعتماد کی ضرورت ہوگی۔ متحد ہوکر ہم ایک ایسا خطہ بنا سکتے ہیں جو مستقبل میں اپنی مالی اعانت خود کرسکے۔








