پائیدار ترقی کے اہداف کا دستخطی ہونے کے ناطے پاکستان کو آلودگی سے پاک ماحول فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے،سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر

اسلام آباد ۔ 26 مارچ (اے پی پی) سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ فضائی آلودگی ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے جس سے نمٹنے کےلئے قومی، صوبائی اور مقامی سطح پراقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے، اس سلسلہ میں اراکین پارلیمنٹ اور پارلیمانوں کا کردار انتہائی اہم ہے کیونکہ وہ پالیسی ساز ہیں اور وہ ہی عملدرآمد کی سطح پر پالیسیوں کی جانچ پڑتال کرتے ہیں، پائیدار …

اسلام آباد ۔ 26 مارچ (اے پی پی) سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ فضائی آلودگی ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے جس سے نمٹنے کےلئے قومی، صوبائی اور مقامی سطح پراقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے، اس سلسلہ میں اراکین پارلیمنٹ اور پارلیمانوں کا کردار انتہائی اہم ہے کیونکہ وہ پالیسی ساز ہیں اور وہ ہی عملدرآمد کی سطح پر پالیسیوں کی جانچ پڑتال کرتے ہیں، پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جیز) کا دستخطی ہونے کے ناطے پاکستان کو آلودگی سے پاک ماحول فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے ان اہداف کے حصول کےلئے پاکستان کی پارلیمان میںایس ڈی جیز ٹاسک فورس موجود ہے جو پائیدار ترقی کے اہداف کے کام کی نگرانی کر رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو ایئر کوالٹی ایشیاءکے زیر اہتمام ”پارلیمنٹری کیمپین ٹو امپلیمنٹ کلین ایئر ایس ڈی جی اینڈ پیرس ایگریمنٹ“ کی منعقدہ دوسری کانفرنس کی افتتاحی تقریب کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سپیکر نے کہا کہ لاہور، پشاور اور کراچی جیسے پاکستان کے بڑے شہروں کو ہر سال دھند کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو ناقص ہوا کے معیار اور فضائی آلودگی میں اضافہ کا ثبوت ہے۔ انہوں نے موجودہ حکومت کے کلین ایڈ گرین پاکستان اور ”بلین سونامی ٹریز“ کے منصوبوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان میں صاف اور تازہ ہوا کی فراہمی کی طرف انتہائی اہم اقدامات ہیں۔ انہوںنے اس خواہش کا اظہار کیا کہ یہ تحریک صرف جنگلوں تک محدود نہ رہے بلکہ ہر ہا¶سنگ سوسائٹی کےلئے گرین بیلٹ اور ہر گھر کےلئے اپنے صحن میں درختوں کو لگانا لازمی قرار دیا جائے۔ اسد قیصر نے ناقابل رسائی جنگلات میں بیج پھینکنے کےلئے حکومت کی منصوبہ بندی کو سراہا۔ انہوں نے ہاﺅسنگ سوسائٹیز اور صنعتوں کی طرف سے زرعی زمین کے بے دریغ استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس سلسلہ میں جامع منصوبہ بندی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ آف پاکستان اس خطرے کو کنٹرول کرنے کے قوانین کے نفاذ کےلئے ہر ممکن اقدامات کرے گے۔ انہوں نے شرکاءکو پاکستان کو آلودگی سے پاک بنانے کےلئے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ انہوں نے بڑے پیمانے پر آگاہی مہم کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا مذہب بھی صفائی پر بہت زور دیتا ہے۔ قومی اسمبلی میں ایس ڈی جیز کے کنوینئر اور قائمہ کمیٹی برائے قانون انصاف کے چیئرمین ریا ض فتیانہ نے ”پارلیمنٹری کیمپین ٹو امپلیمنٹ کلین ایئر ایس ڈی جی اینڈ پیرس ایگریمنٹ کی منعقدہ دوسری کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں شرکت پر سپیکر کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث صحت اور اقتصادیات پرانتہائی مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ نسلوں کےلئے تازہ اور صاف ہوا کی فراہمی ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اس موقع پر ایئر کوالٹی ایشیاءکی صدر شازیہ رفیع نے شرکاءکو فضائی آلودگی کے اعداد و شمار اور اس کے تدارک کےلئے کی جانے والی کاوشوں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ انسانی صحت پر فضائی آلودگی کے اثرات بیماریوں سے زیادہ مہلک ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ صاف اور تازہ ہوا کے اقدامات کو مو¿ثر بنانے میں انتہائی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ کانفرنس میں سینیٹرز، اراکین قومی اسمبلی اور موسمی تبدیلیوں کے ماہرین کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی ۔

مزید خبریں

Leave a Reply