پارلیمان کا مشترکہ اجلاس، دانش سکولز اتھارٹی بل سمیت تین بلوں کی منظوری دی گئی

اسلام آباد۔23جنوری (اے پی پی):پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں جمعہ کوتین بلوں کی منظوری دیدی گئی،تینوں بلوں پرحکومتی اراکین کی ترامیم کومنظورجبکہ اپوزیشن کی ترامیم کوکثرت رائے سے مستردکردیاگیا۔جمعہ کوپارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں وفاقی وزیرپارلیمانی امور ڈاکٹرطارق فضل چوہدری نے وفاقی وزیرقانون اعظم نذیرتارڑ کی جانب سے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق ترمیمی بل 2025ایوان میں پیش کرنے کی تحریک پیش کی جس کی ایوان نے منظوری دی،بعدازاں ایوان …

اسلام آباد۔23جنوری (اے پی پی):پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں جمعہ کوتین بلوں کی منظوری دیدی گئی،تینوں بلوں پرحکومتی اراکین کی ترامیم کومنظورجبکہ اپوزیشن کی ترامیم کوکثرت رائے سے مستردکردیاگیا۔جمعہ کوپارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں وفاقی وزیرپارلیمانی امور ڈاکٹرطارق فضل چوہدری نے وفاقی وزیرقانون اعظم نذیرتارڑ کی جانب سے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق ترمیمی بل 2025ایوان میں پیش کرنے کی تحریک پیش کی جس کی ایوان نے منظوری دی،بعدازاں ایوان نے بل کی شق وارمنظوری دیدی۔ایوان نے بل پر شازیہ مری کی ترمیم کومنظورجبکہ عالیہ کامران اورمرتضی ملک کی ترامیم کومسترد کردیا۔

وفاقی وزیرپارلیمانی امور ڈاکٹرطارق فضل چوہدری نے وفاقی وزیرڈاکٹرخالدمقبول صدیقی کی جانب سے دانش سکولز اتھارٹی بل 2025 ایوان میں پیش کرنے کی تحریک پیش کی جس کی ایوان نے منظوری دی،بل پروفاقی وزیرپارلیمانی امورڈاکٹرطارق فضل چوہدری کی ترامیم کی ایوان نے منظوری جبکہ عالیہ کامران اورسینیٹرکامران مرتضیٰ کی ترامیم کوایوان نے مستردکریا،بعدازاں ایوان نے بل کی شق وارمنظوری دیدی۔قبل ازیں سینیٹرکامران مرتضیٰ نے ترمیم پیش کرتے ہوئے کہاکہ کہاکہ صوبائی حکومت کے ڈومین میں جانے سے قبل صوبوں سے مشاورت ضروری ہے۔

مشترکہ اجلاس میں رکن قومی اسمبلی شرمیلافاروقی نے گھریلو تشدد(روک تھام وتحفظ) بل 2025 ایوان میں پیش کرنے کی تحریک پیش کی جس کی ایوان نے منظوری دی، ایوان نے بل پرشرمیلا فاروقی کی ترمیم کی منظوری دی،وزیرمملکت بیرسٹرعقیل ملک نے کہاکہ گھریلوں تشددبل میں پہلی مرتبہ مردوں کوبھی شامل کیاگیاہے اسلئے وہ شرمیلا فاروقی کی ترمیم کی مخالفت نہیں کریں گے۔اجلاس میں عالیہ کامران اورسینیٹرکامران مرتضیٰ کی ترامیم کومستردکرتے ہوئے بل کی شق وارمنظوریدی گئی۔

سینٹرکامران مرتضیٰ نے بل پرترمیم پیش کرتے ہوئے کہاکہ بل پرصدر مملکت کے اعتراضات کوختم نہیں کیاگیا، انہوں نے کہاکہ بل سے خاندانی نظام کونقصان پہنچے گا۔عالیہ کامران نے بل پرترمیم پیش کرتے ہوئے کہاکہ اس بل پرمولانا فضل الرحمان اپنی رائے دیناچاہتے ہیں،انہوں نے کہاکہ بل میں حق ملکیت کودیکھنا ضروری ہے۔وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے ترامیم کی مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ دونوں ایوانوں کی قائمہ کمیٹیز میں اس معاملہ کاتفصیل سے جائزہ لیا گیاہے اوراتفاق رائے سے امورطے ہوئے ہیں اس لیے وہ ترمیم کی مخالفت کریں گے۔