پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی اسلام آباد کے زیرِ اہتمام قومی صحت اور آبادی پالیسی (2026–2035) کے موضوع پر ایک اعلیٰ سطح کے پالیسی مکالمے کاانعقاد

اسلام آباد۔18جنوری (اے پی پی):پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی اسلام آباد (ایس ڈی پی آئی) کے زیرِ اہتمام قومی صحت اور آبادی پالیسی (2026–2035) خلا کو پر کرنے کی کوشش کے موضوع پر ایک اعلیٰ سطح کے پالیسی مکالمے میں انعقاد کیا گیا۔مکالمہ کے آغاز پر ایس ڈی پی آئی کے سربراہ ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے گزشتہ ہفتے جاری ہونے معاشی سروے (ایچ آئی ای ایس) کا حوالہ دیتے …

اسلام آباد۔18جنوری (اے پی پی):پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی اسلام آباد (ایس ڈی پی آئی) کے زیرِ اہتمام قومی صحت اور آبادی پالیسی (2026–2035) خلا کو پر کرنے کی کوشش کے موضوع پر ایک اعلیٰ سطح کے پالیسی مکالمے میں انعقاد کیا گیا۔مکالمہ کے آغاز پر ایس ڈی پی آئی کے سربراہ ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے گزشتہ ہفتے جاری ہونے معاشی سروے (ایچ آئی ای ایس) کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان کی ترجیحات کا خاکہ پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ مقامی اخراجات کا تقریباً 57 فیصد حصہ خوراک، رہائش اور یوٹیلیٹی بلوں پر صرف ہوتا ہے جبکہ صحت اور تعلیم پر اخراجات تین فیصد سے بھی کم ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ اس نوعیت کی مشاورتیں صحت کو پالیسی سازوں کی ترجیحات میں شامل کرنے کے لئے نہایت ضروری ہیں خصوصاً ایسے وقت میں جب پاکستان چوتھے صنعتی انقلاب کے دور میں داخل ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس ڈی پی آئی اس بحث کو جاری رکھنے کے لئے تمام فریقین کے ساتھ تعاون کےلئے تیار ہے۔عالمی ادارہ صحت پاکستان کی پبلک ہیلتھ اسپیشلسٹ، ڈین فینگ نے یونیورسل ہیلتھ کوریج (یو ایچ سی) کے تناظر میں گفتگو کرتے ہوئے مساوات، معیار اور مالی تحفظ میں موجود خلا کی نشاندہی کی۔

انہوں نے کہا کہ بنیادی صحت کی سہولیات تک رسائی اضلاع، جنس اور آمدنی کے مختلف طبقات میں یکساں نہیں ۔انہوں نے کہاکہ اگرچہ جدید اور متبادل مالی وسائل کا تعلق مساوات کے اصولوں اور مالی استحکام سے ہونا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ ایک جامع صحت کا نظام یہ جاننے سے متعلق ہے کہ کون سے افراد کیوں پیچھے رہ گئے ہیں۔ایس ڈی پی آئی کی سینئر پالیسی ایڈوائزر اور سینٹر فار ہیلتھ پالیسی انوویشن کی سربراہ ڈاکٹر رضیہ صفدر نے وزارتِ قومی صحت خدمات، ضوابط و رابطہ کاری کی جانب سے تیار کردہ قومی صحت اور آبادی پالیسی کے مسودے کا تعارف کرایا۔انہوں نے وضاحت کی کہ نیا مسودہ 11 ترجیحی ستونوں کی نشاندہی کرتا ہے جن میں حکمرانی، مالی وسائل، آبادی میں استحکام، صحت کا تحفظ اور ڈیجیٹل ڈیٹا شامل ہیں۔

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پاپولیشن اسٹڈیز کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ثمینہ اے حسن نے حالیہ سرویز اور آبادی سے متعلق تخمینوں پر روشنی ڈالی۔ثمینہ حسن نے انکشاف کیا کہ این آئی پی ایس نے پلاننگ کمیشن اور وزارتِ قومی صحت کے اشتراک سے 2023 سے 2050 تک آبادی کے تخمینے تیار کئے ہیں تاہم یہ رپورٹ ابھی منظرِ عام پر نہیں آئی۔انہوں نے زور دیا کہ قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈپر نظرثانی کی ضرورت ہے۔

دریں اثنا ایس ڈی پی آئی نے اختر حمید خان فاو نڈیشن کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے۔ شراکت داری کے تحت ساہیوال سمیت ملک بھر میں تحقیق، ویلیو چین تجزیہ، غیر رسمی شعبے کی نقشہ سازی، اسٹیک ہولڈر مشاورت اور بنیادی مطالعات بھی کئے جائیں گے۔اس موقع پر یادداشت پر ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری اور اختر حمید خان فاونڈیشن کی چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر عائشہ خان نے دستخط کئے۔

معاہدے کے تحت تحقیق پالیسی جدت، عملی منصوبوں اور صلاحیت سازی کے شعبوں میں تعاون کیا جائے گا ۔شراکت داری کا ایک اہم مقصد غیر رسمی کچرا چننے والوں کو باضابطہ معیشت میں شامل کرنا اور گھریلو سطح پر کچرے کی علیحدگی کو فروغ دینا ہے۔

ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ یہ تعاون تحقیق کو قابلِ عمل پالیسی سفارشات میں تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ زمینی سطح پر کمیونٹی کی بہتری کا ذریعہ بنے گا۔ڈاکٹر عائشہ خان نے فاو نڈیشن کے شہری غربت کے خاتمے کےلئے کئے جانے والے اقدامات پر روشنی ڈالی، جن میں صحت، خواتین کی معاشی خودمختاری، کچرا انتظام اور پائیدار شہری ترقی شامل ہیں۔