اسلام آباد۔11نومبر (اے پی پی):ڈیٹا فیسٹ 2024 کی کامیابی کے بعد پاکستان ادارہ شماریات نے ڈیٹا فیسٹ 2025 کا انعقاد پاک چائنا فرینڈشپ سینٹر میں کیا جس میں ماہرین،جدت کاروں اور نوجوان رہنمائوں نے شرکت کی اور قومی ترقی میں ڈیٹا کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ اس موقع پر عالمی شراکت داروں بشمول یونیسف،یو این ایف اے ، ورلڈ بینک ، ایف اے او، یو این ایچ سی آر اور …
پاکستان ادارہ شماریات کی جانب سے ڈیٹا فیسٹ 2025 کا انعقاد، ماہرین،جدت کاروں اور نوجوان رہنمائوں کی شرکت، قومی ترقی میں ڈیٹا کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔11نومبر (اے پی پی):ڈیٹا فیسٹ 2024 کی کامیابی کے بعد پاکستان ادارہ شماریات نے ڈیٹا فیسٹ 2025 کا انعقاد پاک چائنا فرینڈشپ سینٹر میں کیا جس میں ماہرین،جدت کاروں اور نوجوان رہنمائوں نے شرکت کی اور قومی ترقی میں ڈیٹا کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ اس موقع پر عالمی شراکت داروں بشمول یونیسف،یو این ایف اے ، ورلڈ بینک ، ایف اے او، یو این ایچ سی آر اور یو این ڈی پی اور دیگر اداروں نے اقتصادی ترقی، ماحولیاتی استحکام، انسانی ترقی اور ڈیجیٹل جدت جیسے شعبوں کے بارے میں اہم معلومات فراہم کیں۔
’’ان لاکنگ ٹومارو ود اے آئی‘‘ (Unlocking Tomorrow with AI) کے زیرموضوع ڈیٹا فیسٹ 2025 نے فائیو ایز فریم ورک کےتحت”اڑان پاکستان "وژن کو آگے بڑھایا جس میں ماحولیات، معیشت، مساوات، ای-پاکستان اور توانائی شامل ہیں۔ اس موقع پر ماحولیاتی لچک، جامع تعلیم، ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن اور انسانی ترقی جیسے امور پر خصوصی توجہ دی گئی جبکہ پائیدار ترقی کے لیے ڈیٹا پر مبنی جدت ا ورتعاون کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
سیکرٹری برائے منصوبہ بندی ،ترقی و خصوصی اقدامات اویس منظور سمرا نے پاکستان ادارہ شماریات کو سراہتے ہوئے فائیو ایز فریم ورک کے تحت ماہرین، پالیسی سازوں اور نوجوانوں کو یکجا کرنے اور بین الاقوامی وفود ،یونیورسٹی کے طلبہ کی بھرپور اور فعال شرکت کو بھی سراہا ۔چیف شماریات ڈاکٹر نعیم الظفر (ستارہ امتیاز) نے معزز مہمانوں کا خیرمقدم کیا ۔انہوں نے باخبر فیصلہ سازی اور پائیدار ترقی کے لیے ڈیٹا کو قومی اثاثہ قرار دیا ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مختلف شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے اور عوام کی زندگیوں میں بہتری لانے کے لیے ڈیٹا کے تبادلے کی ایک مضبوط اور فعال ثقافت کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔
اسی سلسلے میں انہوں نے نوجوانوں اور پروفیشنلز کے لیے ڈیٹا سے متعلق تخلیقی سرگرمیوں جن میں کوئز اور پوسٹر مقابلے شامل ہیں ،کے انعقاد کا اعلان کیا اور حاضرین کو "یوتھ ڈیٹا فیئر” کے بارے میں آگاہ کیا جس کا مقصد ڈیٹا کے ذریعے جدت اور معاشرتی ترقی کو فروغ دینا ہے۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال(نشان امتیاز) نے ڈیٹا فیسٹ 2025 میں معزز شرکا سے خطاب کیا جن میں سیکرٹری برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات ، گورنر گلگت بلتستان، چیئرمین نادرا، بین الاقوامی ترقیاتی شراکت دار یونیسف، یو این ایف پی اے، ورلڈ بینک، ایف اے او، یو این ایچ سی آر، یو این ڈی پی اور تعلیمی اداروں کے نمائندے شامل تھے۔
انہوں نے پاکستان ادارہ شماریات کو اس ایونٹ کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد دی اور قومی ترقی اور باخبر فیصلہ سازی میں ڈیٹا کے کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ڈیٹا، جدید ڈیٹا ٹولز اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی کے بغیر وسائل کو موثر انداز میں استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ وزارت منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات کی چیف ٹرانسفارمیشن آفیسر ارما ملک نے پالیسی سازوں اور ماہرین کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا کرنے کو سراہا ۔شرکا نے موثر گورننس میں ٹیکنالوجی اور اینالیٹکس کے کردار پر روشنی ڈالی۔
وزارت منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات کے یوتھ ریپریزنٹیٹو علی رفیق نے امن، ہم آہنگی، سیاسی استحکام اور موثر پالیسی سازی کو قومی ترقی کے بنیادی ستون قرار دیا۔ ورکشاپ کے دوران اس بات پر روشنی ڈالی گئی کہ ‘اڑان پاکستان’ شواہد پر مبنی پالیسی سازی، بین الحکومتی تعاون اور تمام کمیونٹیز کے لیے جامع ترقی کو فروغ دیتا ہے۔اس میگا ایونٹ میں 60 سے زائد انٹرایکٹو سٹالز اور 30 موضوعاتی ورکشاپس شامل تھیں جنہوں نے تعاون اور جدت کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کیا۔ ممبر (ایس ایس /آر ایم)محمد سرور گوندل (ستارہ امتیاز) نے غیر ملکی وفود کے ہمراہ سٹالز کا دورہ کیا، نمائش میں پیش کیے گئے متنوع ڈیٹا پر مبنی اقدامات کی تعریف کی۔
ان کی موجودگی نے بین الاقوامی تعاون کی اہمیت اور پاکستان کے ڈیٹا ایکو سسٹم میں بڑھتی ہوئی عالمی دلچسپی کو اجاگر کیا۔خاص طور پر ‘یوتھ ڈیٹا فیئر’ میں پاکستان بھر کے طلبہ اور نوجوان پروفیشنلز کی تخلیقی صلاحیتوں اور تجزیاتی مہارتوں کو پیش کیا گیا۔ ڈیٹا کوئز، پوسٹر ڈسپلے اور پروجیکٹ پریزنٹیشن جیسے دلچسپ مقابلوں نے ایونٹ میں شرکا کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ پیچیدہ ڈیٹا کو عملی اور حقیقی دنیا کے حل میں تبدیل کر سکیں۔ ممبر (ایس ایس/آر ایم )ترجمان ادارہ شماریات محمد سرور گوندل (ستارہ امتیاز) نے انٹر یونیورسٹی کوئز مقابلے کے کوارٹر فائنل میں شریک ٹیموں سے بھی خطاب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ وہ اپنے تعلیمی پروجیکٹس اور تحقیق میں حقیقی اور مستند ڈیٹا کا استعمال کریں۔
ڈیٹا فیسٹ 2025 کے پہلے دن "مساوات اور متوازن ترقی کے لیے این ایف سی پر نظر ثانی: آبادی، وسائل اور نمائندگی” کے موضوع پر ایک پینل ڈسکشن بھی منعقد ہوئی جس میں وائس چیئرپرسن پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی (پی ایس پی اے) جہاں آراء وٹونے پینلسٹس میں شیلڈز تقسیم کیں۔دوسری پینل ڈسکشن کا موضوع "داخلے سے سیکھنے تک سب کے لیے معیاری تعلیم کو یقینی بنانا” تھا جو ’’سماجی مساوات‘‘ کے موضوع کے تحت منعقد ہوا۔ اس سیشن میں محمد سرور گوندل (ستارہ امتیاز)، نے پینلسٹس میں شیلڈز تقسیم کیں۔
ڈیٹا فیسٹ 2025 میں پاکستان ا دارہ شماریات کی جانب سے محمد سرور گوندل (ستارہ امتیاز) نے سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا)، سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی)، نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی (این پی ایم سی) اور محکمہ منصوبہ بندی و ترقی، حکومت بلوچستان کے ساتھ سٹریٹجک شراکت داری کے معاہدوں پر دستخط کیے۔ یہ مفاہمتی یادداشتیں (ایم او یوز) ڈیٹا شیئرنگ، پالیسی تحقیق اور جدت کے شعبوں میں تعاون کو بڑھانے کے لیے ہیں تاکہ شواہد پر مبنی فیصلہ سازی کو فروغ دیا جا سکے اور پائیدار قومی ترقی کے لیے ایک مضبوط اور مربوط ڈیٹا ایکو سسٹم تشکیل دیا جا سکے۔
اس ایونٹ نے پاکستان کے ڈیٹا پر مبنی ترقیاتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے قومی اور بین الاقوامی سٹیک ہولڈرز کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا کیا۔ عالمی شماریاتی تنظیموں اور ترقیاتی شراکت داروں جیسے یونیسف، یو این ایف پی اے، ورلڈ بینک، ایف اے او، یو این ایچ سی آر اور یو این ڈی پی کے وفود نے قیمتی علاقائی نقطہ نظر فراہم کیا اور بین الاقوامی تعاون کو مزید مضبوط کیا۔
اس کے علاوہ آذربائیجان کے نیشنل سٹیٹسٹکس آفس (این ایس او) کے نمائندے، ایس ای ایس آر آئی سی اور ورلڈ پوپ یو کے کے نمائندگان نے بھی ڈیٹا فیسٹ 2025 میں شرکت کی۔اہم سرکاری اداروں، معروف آئی ٹی اور ٹیلی کام کمپنیوں اور ملک کی نمایاں جامعات نے فعال طور پر شرکت کی جس سے ڈیٹا، جدت اور پالیسی کے درمیان اہم تعلق اجاگر ہوا۔ ڈیٹا فیسٹ 2025 نے جدت، جامع اور پائیدار ترقی کے حوالے سے پاکستان کے عزم کو دہرایا جو مستقبل کے تقاضوں کے مطابق تیار شدہ ڈیٹا ایکو سسٹم پر مبنی ہے۔








