پاکستان افغانستان میں قیام امن اور مصالحت کیلئے پرعزم ہے، افغان مسئلہ کا کوئی فوجی حل نہیں، پیغمبر اسلام حضرت محمد کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر پاکستان نے مہاجرین کی میزبانی کی ،وزیراعظم عمران خان کی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات میں گفتگو

اسلام آباد ۔ 17 فروری (اے پی پی)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں قیام امن اور مصالحت کیلئے پرعزم ہے، افغان مسئلہ کا کوئی فوجی حل نہیں ہے، پیغمبر اسلام حضرت محمد کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر پاکستان نے مہاجرین کی میزبانی کی۔ انہوں نے یہ بات اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے پیر کو یہاں ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ …

اسلام آباد ۔ 17 فروری (اے پی پی)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں قیام امن اور مصالحت کیلئے پرعزم ہے، افغان مسئلہ کا کوئی فوجی حل نہیں ہے، پیغمبر اسلام حضرت محمد کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر پاکستان نے مہاجرین کی میزبانی کی۔ انہوں نے یہ بات اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے پیر کو یہاں ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل پاکستان میں افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کے 40 سال مکمل ہونے پر بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کیلئے ان دنوں پاکستان کے دورہ پر ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے گذشتہ 40 برسوں میں افغان پناہ گزینوں کی میزبانی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام نے حضرت محمد کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر افغان پناہ گزینوں کی دل کھول کر میزبانی کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ افغان مسئلہ کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ انہوں نے افغانستان میں امن اور مصالحت کیلئے پاکستان کے ٹھوس مو¿قف کا اعادہ کیا۔ انہوں نے افغانستان میں پائیدار امن، وہاں پر سازگار ماحول کے قیام اور افغان پناہ گزینوں کی باعزت انداز میں وطن واپسی کی ضرورت پر زور دیا۔ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ 5 اگست کے بھارتی یکطرفہ اقدامات کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں جاری ہیں، وہاں پر انسانی المیے وقوع پذیر ہونے والی صورتحال بن گئی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بھارتی جنگی جنون، کنٹرول لائن کی خلاف ورزیوں میں اضافہ اور دیگر جارحانہ اقدامات کے نتیجہ میں خطہ میں امن و سلامتی کے ماحول کیلئے خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔ وزیراعظم نے بھارت کی جانب سے ”فالس فلیگ آپریشن“ کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے بھارت مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے عالمی برادری کی توجہ ہٹانے کی کوشش کر سکتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام حق خود ارادیت کیلئے اب بھی اقوام متحدہ کی راہ دیکھ رہے ہیں کیونکہ اقوام متحدہ نے ان کے ساتھ استصواب رائے کا وعدہ کیا تھا اور اس حوالہ سے سلامتی کونسل کی قراردادیں بھی موجود ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی سے انسانیت کیلئے حقیقی خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔ انہوں نے سیکرٹری جنرل کو یقین دلایا کہ پاکستان پیرس ماحولیاتی معاہدے کے مو¿ثر نفاذ کیلئے عالمی برادری کا ساتھ دے گا۔ وزیراعظم نے سیکرٹری جنرل کو 10 ارب ٹری سونامی مہم کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔