اسلام آباد۔3مارچ (اے پی پی):پاکستان اور ازبکستان نے معیشت ، تجارت ، سائنس و ٹیکنالوجی ، ثقافت ، تعلیم ، سکیورٹی ، دفاع اور علاقائی تعاون کی ترقی سمیت مختلف شعبوں میں تزویراتی شراکتداری کو مزید وسعت دینے ، اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے رحجان پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے 15مارچ کو اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی دن کے حوالے سے اسلامی تعاون تنظیم کی کوششوں کی حمایت اور اس …
پاکستان اور ازبکستان کا معیشت ، تجارت ، سائنس و ٹیکنالوجی ،سکیورٹی ، دفاع اور علاقائی تعاون سمیت مختلف شعبوں میں تزویراتی شراکتداری کو مزید وسعت دینے پر اتفاق، وزیر اعظم عمران خان اور ازبک صدر شوکت مرزا یوف کی ملاقات کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری

مزید خبریں
اسلام آباد۔3مارچ (اے پی پی):پاکستان اور ازبکستان نے معیشت ، تجارت ، سائنس و ٹیکنالوجی ، ثقافت ، تعلیم ، سکیورٹی ، دفاع اور علاقائی تعاون کی ترقی سمیت مختلف شعبوں میں تزویراتی شراکتداری کو مزید وسعت دینے ، اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے رحجان پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے 15مارچ کو اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی دن کے حوالے سے اسلامی تعاون تنظیم کی کوششوں کی حمایت اور اس ضمن میں جنرل اسمبلی میں تعاون ،افغانستان کو انسانی امداد کی فراہمی جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے جبکہ غیر ملکی بینکوں میں افغان ذخائر کو منجمد نہ کرنے پر زور دیا ، دونوں ممالک نے تمام علاقائی تنازعات کو حل کرنے اور خطے میں امن ، استحکام اور خوشحالی کے اہداف کے حصول کے لئے تعاون اور بات چیت کی اہمیت پر زور دیا ۔
جمعرات کو وزیراعظم پاکستان عمران خان کی دعوت پر ازبکستان کے صدر شوکت مرزا یوف کے پاکستان کے دو روزہ سرکاری دورے کے موقع پروزیراعظم سے ملاقات کے بعد جاری کئے گئے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنمائوں نے دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوئوں پر غور اور تجارت ، معیشت ، سائنس و ٹیکنالوجی ، ثقافت ، تعلیم ،سلامتی ، دفاع اور علاقائی رابطوں میں تعاون پر خصوصی تبادلہ خیال کیا ۔ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان صدیوں پرانے تاریخی ، مذہبی ، ثقافتی اور سائنسی تعلقات اور پہلے سے طے پانے والے معاہدوں کی بنیاد پر تمام شعبوں میں تزویراتی شراکتداری کو مزید گہرا کرنے اور وسعت دینے پر اتفاق کیا اور اس ضمن میں تزویراتی شراکتداری کے معاہدے کا فیصلہ کیا ۔
دونوں رہنمائوں نے اقوام متحدہ ، اسلامی تعاون تنظیم ، شنگھائی تعاون تنظیم اور اقتصادی تعاون تنظیم کے فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے بین الاقوامی فورمز پر رابطوں کو تیز کرنے سمیت عالمی اور علاقائی اہمیت کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا ۔ دونوں رہنمائوں نے مشترکہ موقف کے حامل باہمی دلچسپی کے امور پر بین الاقوامی اور علاقائی فورمز پر باہمی تعاون جاری رکھنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ۔ وزیراعظم عمران خان نے ازبکستان کے صدر کو 2022میں شنگھائی تعاون تنظیم اور اقتصادی تعاون تنظیم کی سربراہی پر مبارکباد دی اور دونوں فورمز میں ازبکستان کے لئے پاکستان کی مکمل حمایت کا ا ظہار کیاجس میں2022کے وسط میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کا انعقاد شامل ہے ۔
ازبکستان کے صدر نے شنگھائی تعاون تنظیم میں ازبکستان کی سربر اہی کے دوران غربت کے خاتمے کے طریقہ کار کی تشکیل کے لئے پاکستان کے اقدامات پر تعاون کے لئے آمادگی ظاہر کی ۔ دوطرفہ سفارتی تعلقات کے قیام کی 30ویں سالگرہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے دونوں رہنمائوں نے اس سنگ میل کو مناسب طریقے سے منانے پر اتفاق کیا ۔ ازبک صدر نے اس موقع پر نئے ازبکستان کی حکمت عملی پر اپنا نقطہ نظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ اصلاحاتی عمل کا مقصد ازبکستان اور پورے خطے کے لوگوں کے سماجی و اقتصادی مفادات ہیں ، اس حکمت عملی میں اقتصادی سفارتکاری کو مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جنوبی ایشیاء بالخصوص پاکستان کے ساتھ موجودہ تعلقات کو تزویراتی شراکتداری کی نئی سطح پر لانے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں گے ،
سماجی و اقتصادی میدان میں حکومت پاکستان کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے سماجی انصاف اور معاشی تحفظ پر مر کوز نیا پاکستان کے اپنے وژن کا خاکہ پیش کیا ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کا بنیادی زور جغرافیائی سیاست سے جیو اکنامکس کی طرف منتقل ہو گیا ہے ۔ وزیراعظم نے غربت کو کم کرنے کی غرض سے شروع کئے گئے احساس پروگرام کی تفصیلات بتائیں ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کا قومی صحت کارڈ پروگرام شہریوں کے لئے میڈیکل مائیکر انشورنس کے شعبہ میں پہلا قدم ہے ۔
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنمائوں نے پاکستان کے وسطی ایشیاء وژن کے پانچ اہم ستونوں کے اندر دونوں ممالک کے درمیان سیا سی و سفارتی ، تجارت وسرمایہ کاری ، توانائی و راوبط ، سلامتی و دفاع اور عوامی سطح پر تعلقات کے ساتھ ساتھ ادارہ جاتی تعاون کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا ۔ دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کے دوروں کے تبادلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے دونوں رہنمائوں نے تجارت ، سرمایہ کاری ، کسٹمز ، فوجی تعلیم ، ثقافت اور سیاحت کے ساتھ ساتھ ویزہ کی سہولت کے شعبوں میں مثبت معاہدوں کا گرمجوشی سے تذکرہ کیا ۔
دونوں رہنمائوں نے پارلیمانی اداروں کے درمیان تعاون کو وسعت دینے ، پاکستان کی سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ممبران اور جمہوریہ ازبکستان کی اولی مجلس کے قانون ساز اور چیمبر اور سینیٹ کے درمیان دوستی اور تعاون کے بین الپارلیمانی گروپس کے تبادلے اور ملاقاتوں پر اتفاق کیا ۔
ملاقات کے دوران نوٹس میں آیا کہ گزشتہ 5سالوں کے دوران دو طرفہ تجارت میں 5گنا اضافہ ہوا اور وبائی مرض کورونا کے باوجود گزشتہ سال اس میں 50فیصد اضافہ ہوا ۔ دونوں رہنمائوں نے ازبکستان اور پاکستان کے درمیان ترجیحی تجارتی معاہدے پر دستخط اور ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کے نفاذ کا خیر مقدم کیا ۔ یہ معاہدے دوطرفہ تجارتی تعلقات میں ایک نئے دور کے آغاز کی علامت ہیں اور باہمی تجارت کو بڑھانے میں معاون ثابت ہوں گے ۔
اعلامیہ کے مطابق دونوں رہنمائوں تجارت ، اقتصادی ، سائنسی اور تکنیکی تعاون پر ازبک ۔پاک بین الحکومتی کمیشن کے ساتویں اجلاس ، دوطرفہ سیاسی مشاورت کے دوسرے دور ، مشترکہ بزنس فورم اور 28فروری کو ہونے والے بزنس کونسل کے چوتھے اجلاس کا خیر مقدم کیا ۔ انہوں نے ٹیکسٹائل ، فارما سیوٹیکل ، تعمیراتی مواد ، بینکنگ اور فنانس ، کیمیکل انڈسٹری اور دیگر شعبوں میں مفاہمت کا خیرمقدم کیا ۔
دونوں رہنمائوں نے رابطے کے ایجنڈے اور اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے کے لئے اقدامات تیز کرنے کی ضرورت پر اتفاق کیا ۔انہوں نے متفقہ کنکٹیویٹی کوریڈور کے کلیدی کردار کا اعتراف کرتے ہوئے ٹرانسپورٹ نیٹ ورک ، توانائی کی پائپ لائنز اور خصوصی زونز میں سرمایہ کاری کے مواقعوں کی پیشکش کے ذریعے تجارتی روابط کو توسیع کو دونوں ممالک اور خطے کا مفاد قرار دیا ۔ دونوں رہنمائوں نے خطے کے مستقبل کے لئے ترمذ ، مزار شریف ، کابل ، پشاور ریلوے منصوبے کے اہم کردار کی توثیق کی جبکہ منصوبے کی فزیبلٹی سٹڈی تیار کرنے اور دونوں طرف تعمیراتی کام شروع کرنے کے لئے روڈ میپ تیار کرنے پر اتفاق کیا ۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ ٹرانس افغان ریلوے منصوبہ وسطی ایشیا کو پاکستان کی کراچی، گوادر اور قاسم کی بندرگاہوں سے ملانے والا سب سے زیادہ اقتصادی اور مختصر ترین راستہ ہے۔دونوں رہنماں نے ہوائی، ریل اور شاہراتی رابطے کے شعبے میں تعاون کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔سلامتی اور دفاع میں دوطرفہ تعاون کی مسلسل ترقی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے دونوں رہنماں نے دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان بات چیت اور تعمیری تعاون کو تیز کرنے پر اتفاق کیا،جس میں عملہ کی سطح پر بات چیت اور مشترکہ فوجی مشقیں، تربیت اور پیشہ وارانہ افراد کا تبادلہ شامل ہے۔انہوں نے سیکورٹی پر ازبکستان پاکستان مشترکہ کمیشن کے قیام کا خیرمقدم کیا جس کا پہلا اجلاس 2 نومبر 2021 کو اسلام آباد میں ہوا۔
وزیراعظم عمران خان اور صدر شوکت مرزایوف نے مشترکہ ثقافتی ورثے اور صدیوں پرانے برادرانہ تعلقات کا احاطہ کیا اور دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی تعلقات اور تعلقات کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔اس سلسلے میں انہوں نے اسلام آباد میں ظہیرالدین محمد بابر کی زندگی پر پہلے مشترکہ سیمینار کے انعقاد کا خیرمقدم کیا۔ دونوں رہنمائو ں نے مشترکہ ثقافتی اور میڈیا منصوبوں کی پیشرفت کا جائزہ لیا جس میں پاکستانی سیریلز کا ازبک زبان میں ترجمہ اور بابر پر مشترکہ پروڈکشن شامل ہے۔ دونوں رہنمائوں نے دونوں ممالک کے معروف تعلیمی اداروں کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔
رہنمائوں نے سیاحت کے شعبے میں تعاون کی ترقی کی تعریف کی اورمذہبی زیاراتی سیاحت کے حوالے سے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کا خیرمقدم کیا۔دونوں ممالک کے درمیان سیاحت اور کاروباری روابط کو آسان بنانے کے لیے "تاشقند – لاہور” اور "اسلام آباد – تاشقند” کے روٹس پر باقاعدہ پروازیں شروع کرنے پر اتفاق کیا۔قائدین نے اسلامو فوبیا کے مسلسل رجحان پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔15 مارچ کو اسلامو فوبیا کے خلاف عالمی دن کے موقع پر اسلامی تعاون تنظیم کی کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے فریقین نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تعاون پر اتفاق کیا۔ ازبکستان نے 2025-2026 کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غیر مستقل رکنیت کے لیے پاکستان کی بطور امیدوار اپنی مکمل حمایت کا اظہار کیا۔
دونوں رہنمائوں نے افغانستان کو انسانی امداد کی فراہمی جاری رکھنے پر اتفاق کرتے ہو ئے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان میں امن اور استحکام رابطے کے ایجنڈے کو آگے بڑھانا ضروری ہے جو علاقائی خوشحالی کا باعث بنے گا۔افغانستان کو اقتصادی امداد کی اہمیت اور افغان غیر ملکی بینکوں کے ذخائر کو منجمد نہ کرنے پر بھی زور دیا گیا۔ازبکستان نے اسلامی تعاون تنظیم کے وزراخارجہ کے غیر معمولی اجلاس کی میزبانی پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔وزیر اعظم عمران خان نے ازبک صدر کو جموں و کشمیر کی تازہ ترین صورتحال کے بارے میں آگاہ کیا جس میں اس وقت تشویش اور اہم مسائل شامل ہیں۔
دونوں رہنمائوں نے تمام دیرینہ علاقائی تنازعات کو حل کرنے اور خطے اور اس سے باہر دیرپا امن، استحکام اور خوشحالی کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے تعاون اور بات چیت کی اہمیت پر زور دیا۔صدر شوکت مرزیوئیف نے وزیراعظم عمران خان اور پاکستانی عوام کا ذاتی طور پر اور ازبک وفد کے پرتپاک استقبال اور مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا اور ان کی مسلسل ترقی اور خوشحالی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ازبک صدر شوکت مرزایوف نے وزیر اعظم عمران خان کو مناسب وقت پر ازبکستان کا سرکاری دورہ کرنے کی دعوت دی۔








