سارک چیمبر آف کامرس کے سابق صدر افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان خطے میں رسد اور طلب کے درمیان قدرتی پل کی حیثیت رکھتے ہیں
پاکستان اور افغانستان خطے کو تجارتی راہداری میں بدل سکتے ہیں، افتخار علی ملک

مزید خبریں
لاہور۔24مئی (اے پی پی):سارک چیمبر آف کامرس کے سابق صدر افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان خطے میں رسد اور طلب کے درمیان قدرتی پل کی حیثیت رکھتے ہیں جبکہ پاکستان جغرافیائی، سیاسی، تجارتی اور اسٹریٹجک لحاظ سے غیر معمولی اہمیت کا حامل ملک ہے۔اتوار کو جاری اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ وسطی ایشیائی ممالک قازقستان،ازبکستان، ترکمانستان، تاجکستان اور کرغزستان گیس، تیل، یورینیم اور نایاب معدنیات کے بڑے ذخائر رکھتے ہیں،تاہم سمندر تک رسائی نہ ہونے کے باعث عالمی منڈیوں سے پوری طرح منسلک نہیں ہو سکے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان ان وسائل کو جنوبی اور مشرقی ایشیا خصوصا چین تک پہنچانے کے لیے سب سے مختصر زمینی راستہ فراہم کر سکتے ہیں۔افتخار علی ملک نے کہا کہ گیس و تیل پائپ لائنز،جدید سڑکوں اور ریل روابط کے ذریعے دونوں ممالک اربوں ڈالر ٹرانزٹ آمدن حاصل کر سکتے ہیں جبکہ گوادر اور کراچی بندرگاہیں خطے کے لیے اہم تجارتی گیٹ وے بن سکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس سے روزگار، سرمایہ کاری اور صنعتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں تعاون اور استحکام کے لیے کردار ادا کیا،تاہم افغان سرزمین سے دہشت گردی اور بھارتی مداخلت نے علاقائی امن و ترقی کو نقصان پہنچایا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک دہشت گردی، شدت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہیں اور سرحد پار حملے بند نہیں ہوتے، اس بڑے اقتصادی وژن کو عملی شکل نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے زور دیا کہ کابل کو ذمہ دارانہ پالیسی اختیار کرنا ہوگی تاکہ خطے میں پائیدار امن، تجارتی روابط اور اقتصادی ترقی کی راہ ہموار ہو سکے۔








