پاکستان اور افغانستان کا دہشت گردی کے مشترکہ چیلنج سے موثر انداز میں نمٹنے کیلئے ادارہ جاتی سطح پر تعاون مستحکم کرنے پر اتفاق اسلام آباد ۔ 16 اگست (اے پی پی) پاکستان اور افغانستان نے دہشت گردی کے مشترکہ چیلنج سے موثر انداز میں نمٹنے کیلئے دونوں ملکوں کے مابین ادارہ جاتی سطح پر تعاون مستحکم کرنے پر اتفاق کیا ہے، اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا ہے …
پاکستان اور افغانستان کا دہشت گردی کے مشترکہ چیلنج سے موثر انداز میں نمٹنے کیلئے ادارہ جاتی سطح پر تعاون مستحکم کرنے پر اتفاق

مزید خبریں
پاکستان اور افغانستان کا دہشت گردی کے مشترکہ چیلنج سے موثر انداز میں نمٹنے کیلئے ادارہ جاتی سطح پر تعاون مستحکم کرنے پر اتفاق
اسلام آباد ۔ 16 اگست (اے پی پی) پاکستان اور افغانستان نے دہشت گردی کے مشترکہ چیلنج سے موثر انداز میں نمٹنے کیلئے دونوں ملکوں کے مابین ادارہ جاتی سطح پر تعاون مستحکم کرنے پر اتفاق کیا ہے، اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا ہے کہ افغانستان میں پائیدار امن و استحکام علاقائی استحکام کیلئے ضروری ہے۔ یہ اتفاق رائے گزشتہ روز کابل میں افغناستان اور پاکستان کے درمیان دو طرفہ سیاسی مشاورت کے دوران طے پایا گیا۔ بدھ کو دفتر خارجہ کے ترجمان محمد نفیس ذکریا کے مطابق سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے اپنے افغان ہم منصب ڈپٹی وزیر خارجہ حکمت خلیل کرزئی کیساتھ دو طرفہ سیاسی مشاورت کیلئے کابل کا دورہ کیا۔ ترجمان کے مطابق فریقین نے اس بات سے اتفاق کیا کہ افغانستان میں پائیدار امن و استحکام علاقائی استحکام کیلئے ضروری ہے۔تہمینہ جنجوعہ نے کہا کہ افغان تنازعے کا کوئی فوجی حل ممکن نہیں اس لئے تنازعے کے سیاسی حل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔دونوں ملکوں نے اس بات سے بھی اتفاق کیا کہ دہشت گردی مشترکہ چیلنج ہے اور اس خطرے سے موثر انداز میں نمٹنے کیلئے دونوں ملکوں کے درمیان ادارہ جاتی سطح پر تعاون کو مستحکم کرنیکی ضرورت ہے۔سیکرٹری خارجہ نے بارڈر منیجمنٹ مضبوط کرنے اور افغان مہاجرین کی جلد از جلد واپسی کی ضرورت پر زور دیا۔علاقائی رابطوں کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے سیکرٹری خارجہ نے دونوں ملکوں کے درمیان ٹرانزٹ سہولتوں اور انفراسٹرکچر منصوبوں کے حوالے سے پاکستانی کوششوں میں تیزی لانے کے عزم کا اعادہ کیا۔کابل میں قیام کے دوران سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے افغان صدر اشرف غنی،نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر حنیف اتمر، این ڈی ایس چیف معصوم ستنکزئی،سابق افغان صدر حامد کرزئی اور حزب وحدت کے رہنماءاستاد محمد محقق سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔








