ڈیووس۔21جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیرخزانہ ومحصولات سینیٹرمحمداورنگزیب نے کہاہے کہ پاکستان اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعلقات اب نئے اور زیادہ سٹریٹجک مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، توانائی کے نظام میں بہتری، کارکردگی میں اضافہ اور طویل المدتی معاشی استحکام کے لیے اصلاحات کے اقدامات جاری ہیں۔انہوں نے یہ بات ڈیووس میں جاری ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ اجلاس کے موقع پر ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے …
پاکستان اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعلقات اب نئے اور زیادہ سٹریٹجک مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، وفاقی وزیرخزانہ محمداورنگزیب کی اے ڈی بی کے صدر ماساتو کانڈا اور مینزیس ایوی ایشن کے چیئرمین حسن الہوری سے ملاقات میں گفتگو

مزید خبریں
ڈیووس۔21جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیرخزانہ ومحصولات سینیٹرمحمداورنگزیب نے کہاہے کہ پاکستان اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعلقات اب نئے اور زیادہ سٹریٹجک مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، توانائی کے نظام میں بہتری، کارکردگی میں اضافہ اور طویل المدتی معاشی استحکام کے لیے اصلاحات کے اقدامات جاری ہیں۔انہوں نے یہ بات ڈیووس میں جاری ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ اجلاس کے موقع پر ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے صدر ماساتو کانڈا اور مینزیس ایوی ایشن کے چیئرمین حسن الہوری سے ملاقاتوں میں کہی۔ ملاقاتوں میں پاکستان کے اقتصادی اصلاحات کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے، بین الاقوامی شراکت داری کو مضبوط کرنے اور سرمایہ کاری پر مبنی ترقی ونموکے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایشیائی ترقیاتی بینک کے صدرسے ملاقات میں پاکستان میں جاری اقتصادی اصلاحات کا جائزہ لیا گیا اور پاکستان اور اے ڈی بی کے درمیان دیرینہ شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔بینک کے صدر نے کہا کہ پاکستان اہم معاشی تبدیلی کے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے، جہاں اصلاحات میں نئی رفتار اور مارکیٹ میں بڑھتا ہوا اعتماد نظر آ رہا ہے۔ انہوں نے پاکستان میں اے ڈی بی کی مضبوط اور بڑھتی ہوئی شمولیت کو سراہا اور ملکی معیشت کی سمت پر اعتماد کا اظہار کیا۔ سینیٹر محمد اورنگزیب نے اے ڈی بی کے صدر کا مسلسل تعاون اور رہنمائی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعلقات اب ایک نئے اور زیادہ اسٹریٹجک مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ایک سال سے پاکستان میں مجموعی معاشی استحکام کی جانب نمایاں پیش رفت ہوئی ہے جس کا سلسلہ جاری ہے،وزیر خزانہ نے مہنگائی میں کمی، شرحِ سود میں نرمی، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے جیسے مثبت اشاریوں کا تذکرہ کیا اوربینک کے صدر کو ملک میں جاری ڈھانچہ جاتی اصلاحات میں پیش رفت سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے نجکاری اور نجی شعبے کی شمولیت کے حوالے سے حکومتی اقدامات پربھی روشنی ڈالی۔ وزیرخزانہ نے بتایا کہ حالیہ اقدامات کے باعث مارکیٹ میں مثبت ردعمل سامنے آیا ہے اور مختلف شعبوں میں مزید منصوبے زیرِ غور ہیں۔
وزیر خزانہ نے ترقیاتی شراکت داروں خصوصاً اے ڈی بی کے ساتھ قریبی تعاون اورپاکستان کی معاشی صلاحیت کو بروئے کار لانے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ملاقات کے دوران توانائی کے شعبے میں اصلاحات، جدید کاری اور صاف و پائیدار توانائی کے فروغ پر بھی بات چیت ہوئی۔وزیر خزانہ نے کہا کہ توانائی کے نظام میں بہتری، کارکردگی میں اضافہ اور طویل المدتی معاشی استحکام کے لیے اصلاحاتی اقدامات جاری ہیں۔ فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ان شعبوں میں عملی اور قابلِ عمل حل کے لیے قریبی رابطہ رکھا جائے گا۔ اے ڈی بی کے صدر نے پاکستان کے لیے بینک کے تعاون کے عزم کا اعادہ کیا اور نجی شعبے کے کردار کو معاشی ترقی کے لیے اہم قرار دیا۔
قبل ازیں وزیر خزانہ نے مینزیس ایوی ایشن کے چیئرمین حسن الہوری سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات میں ایوی ایشن کے شعبے میں تعاون کے فروغ، ہوائی اڈوں کی خدمات میں بہتری اور سرمایہ کاری کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیرخزانہ نے مینزیس ایوی ایشن کے چیئرمین کو حکومتی نجکاری منصوبوں، پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز میں پیش رفت اور اسلام آباد، کراچی اور لاہور کے ہوائی اڈوں کو حکومتی انتظام سے نکالنے کی کوششوں پر پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت مثبت سمت میں گامزن ہے اور نجی شعبے اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا ہو رہا ہے،حسن الہوری نے وزیر خزانہ کو مینزیس ایوی ایشن کے عالمی آپریشنز اور مختلف ممالک میں خدمات کے تجربے سے آگاہ کیا۔
انہوں نے پاکستان کو ایوی ایشن کے شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے ایک پُرکشش ملک قرار دیا اور پاکستان میں تعاون جاری رکھنے اور مزید وسعت دینے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔دونوں جانب سے ہوائی اڈوں کی سروس کو بہتر بنانے اور مسافروں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔








